بجلی 2 روپے 36 پیسے یونٹ مہنگی، صنعتی و زرعی صارفین کیلئے اضافی کھپت پر ریلیف میں کمی
اضافی کھپت پر یونٹ کی رعایتی قیمت 22روپے 98پیسے سے بڑھا کر 25روپے 30پیسے کردی،نومبر میں وصولی سبسڈی کیلئے نیا طریقہ کار، موجودہ سلیب ختم کرنے کی تیاری، عملدرآمد کا فیصلہ اسحاق ڈار کی زیر سربراہی کمیٹی کریگی
اسلام آباد(دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک)ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 2 روپے 36 پیسے اضافہ جبکہ صنعتی و زرعی صارفین کیلئے اضافی کھپت پر ریلیف میں 2 روپے 32 پیسے فی یونٹ کمی کردی گئی، بجلی و گیس صارفین کیلئے سبسڈی کا نیا طریقہ کار بناتے ہوئے موجودہ سلیب ختم کرنے کی تیاری کرلی گئی۔بجلی کی قیمتوں میں 2 روپے 36پیسے یونٹ اضافہ ماہانہ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے۔ نیپرا کے مطابق ستمبر میں بجلی کی اصل فیول لاگت 9 روپے 82 پیسے فی یونٹ رہی، جبکہ ریفرنس فیول لاگت 7 روپے 45 پیسے فی یونٹ مقرر تھی۔ اصل اور ریفرنس فیول لاگت کے فرق کے باعث صارفین پر 2 روپے 36 پیسے فی یونٹ اضافی بوجھ پڑے گا۔نوٹیفکیشن کے مطابق فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق کے الیکٹرک سمیت ملک بھر کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین پر ہوگا، تاہم لائف لائن صارفین، الیکٹرک وہیکل چارجنگ سٹیشنز اور پری پیڈ ٹیرف اختیار کرنے والے صارفین اس اضافے سے مستثنیٰ ہوں گے۔
اضافی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ ان صارفین پر بھی لاگو ہوگی جو انکریمنٹل کنزمپشن پیکیج سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔نیپرا کے مطابق بجلی صارفین سے اضافی وصولی نومبر 2026 کے بلوں میں کی جائے گی۔ ستمبر 2026 میں استعمال ہونے والے بجلی کے یونٹس کے حساب سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ بلوں میں الگ ظاہر کی جائے گی۔واضح رہے کہ سی پی پی اے نے ستمبر کی ایڈجسٹمنٹ میں 2 روپے 56 پیسے فی یونٹ کا اضافہ مانگا تھا۔دوسری جانب پاور ڈویژن ذرائع کا کہنا ہے کہ سردیوں میں ارسا پانی کی قلت کا 22 فیصد سے زائد تخمینہ دے چکی، اس دوران پن بجلی کی پیداوار نہ ہونے کے برابر رہنے کا امکان ہے ۔پانی کی قلت کے باعث پن بجلی کی پیداوار میں کمی سے بجلی کی پیداواری لاگت بڑھ جائے گی۔ دسمبر تا فروری فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی دو سے تین گنا بڑھنے کا خدشہ ہے ۔ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں بجلی ایک روپے 30 پیسے فی یونٹ مہنگی ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
علاوہ ازیں نیپرا نے صنعتی اور زرعی صارفین کیلئے بجلی کی اضافی کھپت پر ریلیف 2 روپے 32 پیسے فی یونٹ تک کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔یہ فیصلہ وفاقی حکومت کو بھجوادیا گیا ہے ، وفاقی حکومت صنعتی اور زرعی صارفین کو فی یونٹ 11 سے 15 روپے تک ریلیف دے رہی ہے ۔نیپرا کے فیصلے کے مطابق یہ ریلیف بجلی کی اضافی کھپت پر دیا جاتا ہے ، اضافی کھپت پیکیج کا ریٹ 22.98 روپے سے بڑھ کر 25.30 روپے فی یونٹ ہو جائے گا۔نیپرا نے فیصلہ نوٹیفکیشن کیلئے وفاقی حکومت کو بھجوا دیا ہے ، نیا ریٹ نومبر 2026 کے بلنگ مہینے سے لاگو ہو گا۔نیپرا کا فیصلہ چیئرمین نیپرا کے کاسٹنگ ووٹ سے ہوا جبکہ 2 اراکین نے اختلافی نوٹ لکھا جس میں 25.30 روپے فی یونٹ کو بے بنیاد قرار دیا گیا۔اختلافی نوٹ ممبر آمنہ احمد اور ممبر مقصود انور خان نے لکھا۔دلچسپ امر یہ ہے کہ نیپرا کے چیئرمین وسیم مختار نے اپنے تحریری مؤقف میں اختلاف کرنے والے دونوں ارکان کے دلائل اور اعتراضات کی مکمل تائید کی۔
بعد ازاں اپنا خصوصی فیصلہ کن ووٹ استعمال کرتے ہوئے موجودہ نرخ 22.98 روپے برقرار رکھنے کے بجائے اسے بڑھا کر 25.30 روپے فی یونٹ کرنے کی منظوری دیدی، اس معاملے پر اتھارٹی کے ارکان میں 2-2 کی تقسیم ہوگئی تھی۔اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ نظرثانی شدہ نرخ 25.30 روپے فی یونٹ بھی ایک من مانا عدد ہے ، جس کے حق میں کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں۔اپنا فیصلہ کن ووٹ استعمال کرتے ہوئے نیپرا چیئرمین وسیم مختار نے تسلیم کیا کہ اختلافی ارکان کے نتائج اور سفارشات سنجیدہ غور و فکر کی متقاضی ہیں تاہم موجودہ مرحلے پر اس پیکیج کو معطل کرنا مناسب نہیں ہوگا، وزارت توانائی کو ایک اور موقع دیا جانا چاہئے تاکہ وہ وہ معلومات فراہم کر سکے جن کا نیپرا بار بار مطالبہ کرتا رہا ہے ، حتیٰ کہ اپنے تازہ ترین فیصلے میں بھی یہ معلومات طلب کی گئی ہیں۔
ترجمان پاور ڈویژن نے وضاحت دیتے ہوئے کہا وفاقی حکومت نے صنعتی اور زرعی صارفین کے بجلی ٹیرف میں کوئی تبدیلی نہیں کی، زرعی اور صنعتی صارفین کیلئے اضافی کھپت پر بجلی یونٹ نرخ صرف 22 روپے 98 پیسے مقرر کئے ہیں۔ مزیدبرآں بجلی اور گیس صارفین کو سبسڈی دینے کا نیا طریقہ کار تیار کرلیا گیا۔ذرائع کے مطابق بجلی اور گیس صارفین کو سبسڈی دینے کیلئے پاور ڈویژن اور وزارت پیٹرولیم نے نئی اکنامک سوشل رجسٹری تیار کر لی، سبسڈی کے نئے نظام پر عملدرآمد کا فیصلہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں قائم سٹیئرنگ کمیٹی کرے گی،نئے سبسڈی نظام پر عملدرآمد سے پہلے ٹیسٹ رن کیا جائے گا۔
آئی ایم ایف نے بجلی صارفین کیلئے یکم جنوری جبکہ گیس صارفین کیلئے فروری 2027 سے نیا نظام نافذ کرنے کی شرط رکھی ہے ، تاہم حکومت موجودہ سبسڈی کا طریقہ کار 30 جون 2027 تک برقرار رکھنا چاہتی ہے ۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر ریلیف مزید 6 ماہ جاری رکھنے کا معاملہ آئی ایم ایف کے سامنے اٹھایا جائے گا، حکومت 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو سبسڈی میں 6 ماہ توسیع دینے کیلئے کوشاں ہے ۔آئی ایم ایف نے 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کی سبسڈی یکم جنوری 2027 سے ختم کرنے کا ہدف دے رکھا تھا، حکومتی کوشش کامیاب ہوئی تو 200 یونٹ تک بجلی پر سبسڈی یکم جولائی 2027سے ختم ہوگی۔آئی ایم ایف نے بجلی سبسڈی صرف بی آئی ایس پی کے رجسٹرڈ مستحقین تک محدود کرنے کا ہدف دیا ہے ، آئی ایم ایف کی گیس کے کم استعمال پر سبسڈی بھی بی آئی ایس پی کے رجسٹرڈ مستحقین تک محدود کرنے کی شرط رکھی ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments