ویگو ڈالے میں سرمایہ کاری نہیں لائی جا سکتی
اسلام آباد(آئی این پی)سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے ملک میں سیاسی عد م استحکام، سکیورٹی کی ابتر صورتحال اور معاشی بحرا ن پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے موجودہ گورننس کے ماڈل پر شدید تنقید کی۔
انہوں نے ملک میں سرمایہ کاری کی عدم موجودگی، سیاسی تنازعات اور سکیورٹی چیلنجز پر حکمران طبقے اور مقتدر حلقوں کی پالیسیوں کو ہدفِ تنقید بنایا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں اسد عمر نے کہا اس وقت دنیا میں دہشت گردی کے سب سے زیادہ واقعات پاکستان میں رونما ہو رہے ہیں، صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج لگا ہوا ہے ، خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ اور سپیکر اسمبلی اچانک غائب اور منظرِ عام سے اوجھل ہیں۔آزاد کشمیر کی سیاسی اور امن و امان کی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے نشاندہی کی کہ مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راولاکوٹ میں مزید خون خرابا روکنے اور وقت ہاتھ سے نکلنے سے پہلے حالات کو سنبھالنے کی دہائیاں دے رہے ہیں، وزیر دفاع خواجہ آصف دعویٰ کر رہے ہیں کہ ن لیگ حکومت کو ختم کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں، بلاول بھٹو زرداری یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر ہم یوں ہی آپس میں لڑتے رہے تو ملک ترقی کیسے کرے گا؟۔ ملک کا سب سے مقبول سیاسی رہنما تین سال سے جیل میں قید ہے ، ان تمام حالات کی موجودگی میں ہم آخر اس بات پر کیوں حیران اور پریشان ہیں کہ ملک میں بیرونی یا ملکی سرمایہ کاری کیوں نہیں بڑھ رہی؟ ویگو ڈالے اور جبر کی پالیسی کے ذریعے کبھی بھی معاشی سرمایہ کاری کو زبردستی ملک میں نہیں لایا جا سکتا، حکمران اپنی موجودہ گورننس کی حکمتِ عملی پر ہر صورت فوری نظرِ ثانی کریں۔ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے افراد کی سوچ ایسی ہو چکی ہے جو ہر مسئلے کو ایک کیل سمجھتی ہے اور اس کا واحد حل صرف ہتھوڑا ہی ان کے پاس موجود ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments