لاہور ہائیکورٹ : فیملی پنشن صرف بیوہ یا شوہر تک محدود کرنا غیر قانونی قرار

لاہور ہائیکورٹ : فیملی پنشن صرف بیوہ یا شوہر تک محدود کرنا غیر قانونی قرار

قواعد و ضوابط اصل قانون سے آگے نہیں جا سکتے ، پنشن حکومت کی مہربانی نہیں بلکہ قانونی حق ہے :جسٹس احسن رضا 3 بیٹیوں کی درخواستیں منظور ،غیر شادی شدہ ، طلاق یافتہ بیٹیوں کی فیملی پنشن مسترد کرنے کے احکامات بھی کالعدم قرار

لاہور (کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید احسن رضا کاظمی نے فیملی پنشن کو صرف بیوہ یا شوہر تک محدود کرنے کی پابندی غیر قانونی قرار دے دی،عدالت نے متعلقہ محکموں کو درخواست گزاروں کو سماعت کا مکمل موقع فراہم کرتے ہوئے 60 روز کے اندر قانون کے مطابق دوبارہ فیصلہ کرنے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے تین بیٹیوں کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے محکمہ خزانہ کی 30 مئی 2025 کی وضاحت کو بلا اختیار اور کالعدم قرار دے دیا جبکہ دسمبر 2024 اور اگست 2025 کے نوٹیفکیشنز کو بھی متعلقہ حد تک غیر مؤثر قرار دیا۔تحریری فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ قانون میں فیملی کا لفظ استعمال ہوا ہے، جسے صرف شریکِ حیات تک محدود نہیں کیا جا سکتا، عدالت نے واضح کیا کہ قواعد و ضوابط اصل قانون سے آگے نہیں جا سکتے اور پنشن حکومت کی مہربانی نہیں بلکہ ایک قانونی حق ہے۔

عدالت نے غیر شادی شدہ اور طلاق یافتہ بیٹیوں کی فیملی پنشن مسترد کرنے کے احکامات بھی کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک پنشن کا حصول دوسری پنشن سے خودکار محرومی کی بنیاد نہیں بن سکتا ،دونوں والدین کی پنشن سے متعلق دعوؤں کا الگ الگ جائزہ لیا جائے جبکہ صرف بیٹی ہونا یا پہلے سے کسی دوسری پنشن کا حصول کسی درخواست گزار کو خودکار طور پر نااہل قرار دینے کی بنیاد نہیں ہوگا۔عدالت نے واضح کیا کہ اگر درخواست گزار اہلیت کی شرائط پوری کرتے ہوں تو انہیں قانون کے مطابق پنشن اور بقایاجات ادا کیے جائیں تاہم ہر دعوے کی اہلیت کا تعین متعلقہ محکمہ خود کرے گا ، عدالت نے براہِ راست ادائیگی کا حکم جاری نہیں کیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...