سہولت بازار مدینہ ٹائون کیس: ملازمین کی مبینہ ملی بھگت ثابت، برطرفی، ریکوری کی سفارش

سہولت بازار مدینہ ٹائون کیس: ملازمین کی مبینہ ملی بھگت ثابت، برطرفی، ریکوری کی سفارش

انکوائری آفیسر نے ٹھیکیدار سے بقایا واجبات کے ساتھ 10 فیصد جرمانہ وصول کرنے کی بھی سفارش کی ،مبینہ بے ضابطگیوں سے خزانے کو بھاری نقصان ہوا تھا ،ملازم ارشاد حسین نے رپورٹ کو مسترد کر دیا

فیصل آباد (ذوالقرنین طاہر سے ) سہولت بازار مدینہ ٹاؤن کے لیز کنٹریکٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں، ملازمین کی مبینہ ملی بھگت اور ٹھیکیدار کی ایک کروڑ 58 لاکھ 27 ہزار 438 روپے سے زائد کی عدم ادائیگی کے معاملے میں انکوائری مکمل کر لی گئی ۔ انکوائری آفیسر نے ایڈمنسٹریٹر و ڈویژنل کمشنر کو پیش رپورٹ میں ملوث ملازمین کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کرتے ملازمت سے برطرف کرنے اور ٹھیکیدار سے بقایا واجبات کے ساتھ 10 فیصد جرمانہ وصول کرنے کی سفارش کی ہے ۔ کمشنر نے سفارشات کی منظوری کے بعد چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن عثمان غنی کو رپورٹ پر عملدرآمد کے احکامات جاری کیے ، تاہم ذرائع کے مطابق تاحال ان احکامات پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض اہلکاروں نے مبینہ طور پر ٹھیکیدار کے حق میں نوٹ شیٹس اور سفارشات بھی پروسیس کیں،دوسری جانب انکوائری میں قصوروار قرار دیے جانے والے ملازم ارشاد حسین نے انکوائری رپورٹ کو جانبدار قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ دیگر ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی، اسی لیے وہ بھوک ہڑتال کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے انکوائری کی زد میں آنے والے بعض دیگر ملازمین بھی ممکنہ کارروائی سے بچنے کے لیے احکامات پر عملدرآمد رکوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔چیف آفیسر کارپوریشن عثمان غنی سے مؤقف لینے کی کوشش کی گئی، تاہم انہوں نے کوئی ردعمل نہیں دیا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں