بیٹے کی تشدد سے موت، ماں 8 ماہ سے انصاف کیلئے دربدر
احمد مدر سے کا طالبعلم ، قاری راشد اور شاہد نے موت کے گھاٹ اتارا :فضہ کا الزام
لدھیوالہ وڑائچ،عالم چوک (نامہ نگار ، نمائندہ خصوصی )پپناکھہ کے رہائشی مدرسہ کے طالبعلم کی 8ماہ قبل تشدد زدہ لاش نوکھر کے علاقے بدوکی کی نہر سے برآمد ہوئی ، ماں بیٹے کے قتل کا مقدمہ درج کر انے کے لیے دربدر ہو گئی لیکن انصاف نہ مل سکا ۔بتایا گیا ہے کہ پپناکھہ کا رہائشی 17 سالہ علی احمد چھوٹے بھائی ایاز کے ساتھ نوکھر کے قریب گاؤں بدوکی میں قاری راشد کے مدرسہ میں حفظ قرآن کے طالبعلم تھے ، مقتول علی احمد کی والدہ فضہ رانی نے الزام عائد کرتے ہوئے بتایا کہ 2اکتوبر 2025 کو اس کا چھوٹا بیٹا ایاز تشدد زدہ جسم کے ساتھ مدرسہ سے بھاگ کر گھر آ گیا اور بتایا کہ قاری راشد اور قاری شاہد نے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا ہے ۔ خاتون نے بتایا کہ میں اور میرا خاوند سجاد احمد مدرسہ گئے اور قاری راشد سے بڑے بیٹے علی احمد کا پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ دو دن پہلے بس پر بیٹھ کر اپنے گاؤں پپناکھہ چلا گیا ہے لیکن تین دن بعد بدوکی میں مدرسہ کے قریب نہر سے علی احمد کی تشدد زدہ لاش ملی ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ قاری راشد اور قاری شاہد نے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر کے اسکی لاش نہر میں پھینک دی۔ فضہ بی بی نے بتایا کہ وہ سی پی او گوجرانوالہ تک اپیل لے کر گئی لیکن مجھے انصاف نہ مل سکا، فضہ بی بی نے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی ہے کہ وہ میرے بیٹے کے قتل کا مقدمہ درج کرنے کے احکامات دیں اور ملزموں قاری راشد اور قاری شاہد کو گرفتار کر کے جیل بھیجا جائے ۔