بھارت نے پانی روکا تو اقدام جنگ تصور ہوگا : خرم دستگیر
وزرا کے بیانات سے واضح کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتا
گوجرانوالہ(نیوز رپورٹر )مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما و سابق وفاقی وزیر انجینئر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ پاکستان کا پانی روکنے جیسے الفاظ بین الاقوامی انسانی قانون کی رو سے انتہائی سنگین نوعیت رکھتے ہیں کیونکہ کسی ملک کی کروڑوں آبادی کو پانی سے محروم کرنا اجتماعی سزا اور غیر انسانی اقدام کے زمرے میں آتا ہے ،بھارت سندھ طاس معاہدے کو صرف معطل کرنے کی بات نہیں کر رہا بلکہ اس کی حکمت عملی پاکستان کو پانی سے محروم کرنے ،دباؤ میں لانے اور اجتماعی سزا دینے پر مبنی ہے لیکن اگر بھارت نے پاکستان کا پانی روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی کوشش کی تو یہ محض معاہدے کی خلاف ورزی نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف اقدام جنگ تصور ہوگا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے انتخابی حلقہ سول لائن میں سابق کونسلر حارث علیم انصاری کی رہائشگاہ پر مسلم لیگی کارکنوں اور اہل علاقہ سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انجینئر خرم دستگیر نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مسلسل ایسے بیانات سامنے آ رہے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ وہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتا ہے ۔پہلے بھارتی آبی وسائل کے وزیر نے اعلان کیاکہ دریائے سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی پاکستان نہیں جانے دیا جائے گا،اس کے بعد بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے یہ بیان دیا کہ سندھ طاس معاہدہ کبھی بحال نہیں ہوگا اور پاکستان کے پانی کو روکنے کی بات کی۔