4نئی ڈیپ سی بندرگاہوں کی منصوبہ بندی کررہے ،جنید انوار

4نئی ڈیپ سی بندرگاہوں کی منصوبہ بندی کررہے ،جنید انوار

ماحولیاتی تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پائیدار تجارتی ماڈل کا قیام ناگزیرتکنیکی وماحولیاتی جانچ کے عمل کو حتمی شکل دے رہے ،وفاقی وزیر بحری امور

کراچی(بزنس رپورٹر)وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کے سمندری شعبے کی آئندہ سو سالہ ترقی حکومت کی قومی ترجیحات میں شامل ہے جس کیلئے نئی بندرگاہوں کی تعمیر اور موجودہ بندرگاہی نظام کی توسیع ناگزیر ہو چکی ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نئی بندرگاہوں کی تعمیر اور ڈیپ سی پورٹس کی منصوبہ بندی سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں بندرگاہوں کے مستقبل، تکنیکی وماحولیاتی پہلوؤں، تجارتی ماڈلز اور علاقائی تجارت میں پاکستان کے کردار پر تفصیلی غور کیا گیا ۔وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ نئی بندرگاہوں کی ترقی میں ماحولیاتی تحفظ کو بنیادی حیثیت دی جائے گی اور اس ضمن میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ بڑی بندرگاہوں پر بڑھتے دباؤ کو کم کرنے کیلئے مؤثر اور پائیدار تجارتی ماڈل کا قیام ضروری ہے ۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ بندرگاہوں کی گنجائش مکمل ہونے سے قبل متبادل انتظامات کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ وفاقی وزیر نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ حکومت 3 سے 4 نئی ڈیپ سی بندرگاہوں کے قیام کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جن کیلئے تکنیکی اور ماحولیاتی جانچ کے عمل کو حتمی شکل دی جا رہی ہے ۔انکا کہنا تھا کہ نئی بندرگاہوں میں سبز توانائی کے استعمال کوفروغ دیاجائیگا جبکہ جدیدڈیجیٹل نظام متعارف کرا کر بندرگاہی آپریشنز کو عالمی معیار کے مطابق بنایا جائے گا، مینگرووز اور ساحلی ماحولیاتی نظام کا تحفظ بندرگاہی پالیسی کا باقاعدہ حصہ ہوگا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں