میرے اچھے دوست پروفیسر اعتبار ساجد اسلام آباد میں تھے تو اکثرملاقات رہتی‘ پھر نجانے کیوں شہرِ اقتدار میں رہتے ہوئے پروفیسر صاحب ''آ بیل مجھے مار‘‘ والے محاورے سے شدید تنگ آ گئے؛ چنانچہ انہوں نے اس محاورے کا مقابلہ کر نے کا فیصلہ کر لیا۔ اسی کے نتیجے میں پروفیسر اعتبار نے بے اعتبارے بیل کو اپنی طرف بلانے کا رِسک لینے کے بجائے اسے دشمنِ جاں کے پیچھے لگایا۔ پھر نیا محاروہ تخلیق کرکے کتاب لکھ ڈالی‘ عنوان رکھا ''جا بیل... اُسے مار‘‘۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پروفیسر صاحب اسلام آباد سے جلا وطن ہو کر لاہور جا بسے۔
ویسے بھی شہرِ اقتدار کے اکثر محکمے اور ادارے ہر سوچنے والے شخص‘ بولنے والی آواز اور من مرضی کا لکھنے والے ہاتھوں کو Red Rag سمجھتے ہیں۔ سرخ رنگ کا یہ موٹا کپڑا سپین میں بہت مشہور ہے‘ جہاں آ بیل مجھے مار والا محاورہ پیدا ہوا کیونکہ سپین کی پتھر کے زمانے والی تنگ گلیوں اور بڑے بڑے میدانوں میں مارنے والے بیلوں کو عوام سرخ کپڑے کے ذریعے اپنی طرف بلاتے ہیں‘ پھر بیلوں کو چکما دے کر اکثر بچ نکلتے ہیں۔ شہرِ اقتدار کے ہر چوک‘ ہر علاقے اور ہر سیکٹر میں محکمے ہی محکمے ہیں اور ادارے ہی ادارے۔ سرخ فیتے والے ان سب اداروں اور محکموں کا سب سے پسندیدہ مشغلہ یہ ہے کہ جہاں انہیں ریڈ ریگ کی علامت نظر آئی‘ اسے قانون کے مضبوط ہاتھوں اور ضابطوں کے لمبے سینگوں سے مارنے کیلئے دوڑ پڑے۔
گزشتہ ہفتے کے روز وزارتِ داخلہ والوں نے حسبِ عادت ایک طویل پریس کانفرنس کی‘ جس کا لب لباب یہ اعلان تھا کہ اسلام آباد کو ملک کا پہلا سمارٹ سٹی بنایا جا رہا ہے۔ سو فیصد جرائم سے پاک اور ہیرا پھیری سے خالی۔ قانون کے مضبوط ہاتھ ایک طرف پریس کانفرنس میں لہرائے جا رہے تھے جبکہ دوسری جانب شکر پڑیاں کی یادگار پر نقاب پوش ایک 30 سالہ نوجوان کو گولیاں مار کر بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ میری آبائی یوسی ہوتھلہ سے ملحقہ یوسی سہالہ کے بازار میں دوسری واردات ہورہی تھی‘ جہاں باپ قتل ہوا اور بیٹا شدید زخمی۔ سیف سٹی اور دہرے قتل والی دونوں خبریں روزنامہ دنیا کی اتوار کی اشاعت کے صفحہ نمبر ایک اور صفحہ نمبر دو پر بالترتیب رپورٹ ہوئی ہیں۔
وزارتِ داخلہ کے ذمہ داران نے دوسرا اعلان بھی کر دیا۔ یکم جنوری 2026ء سے اسلام آباد کے ٹیگ کے علاوہ کوئی گاڑی کیپٹل آف نیشن میں داخل نہیں ہو سکے گی۔ کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے کہ کاش حفاظت کی ان گھنیری زلفوں کی چھاؤں وزارتِ داخلہ چاروں صوبوں‘ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر پر بھی بکھیر دے۔ اگر جرائم کا خاتمہ سکولوں‘ ہسپتالوں‘ کاروباریوں اور شہریوں کی گاڑیاں روک کر ہوتا ہے تو پھر ملک کے باقی علاقے سمارٹ سٹی کیوں نہ بن سکے۔ سب جانتے ہیں کہ فارم 47 کے کس وزیراعلیٰ نے اپنے صوبے کے سارے ضلعوں کا دورہ ابھی تک نہیں کیا۔ عین اسی طور سے وزارتِ داخلہ کے کسی آفس ہولڈر نے چاروں صوبوں کے دہشتگردی‘ جرائم اور انسرجنسی سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کر نے کی زحمت نہیں کی۔ ان حالات میں اسلام آباد میں ہفتے اور اتوار کے دن اکثر وزیر‘ عین مزاحیہ پروگراموں کے وقت میں قوم کو بتاتے ہیں کہ ملک مضبوط ہاتھوں میں ہے۔
میں ان پاکستانیوں میں سے ایک ہوں جو صدقِ دل سے یہ ماننا چاہتے ہیں کہ وطن عزیز میں مضبوط ہاتھوں کی یقین دہانی کرانے والے کاش قوم کو سچ بتا رہے ہوں۔ مضبوط ہاتھوں کا عام فہم مطلب یہ ہے کہ پاکستانی ریاست کی مشینری اپنے ہاتھوں سے چلانے کی اہلیت ریاست کے ذمہ داران میں پائی جاتی ہو۔ اپنے ہاتھوں سے چلانے سے میرا مطلب ریلوے انجن سے سریا اور گرِل بنانے کا ہنر ہرگز نہیں‘ بلکہ اس سے مراد قوم کے وہ ادارے چلانا ہے جو Vital National Assetsکے زمرے میں آتے ہیں۔ باقی کو چھوڑ دیں‘ اگر ہم صرف متحدہ عرب امارات کی مثال لے لیں تو آپ یہ جان کر حیران ہو جائیں گے کہ 25کروڑ لوگوں کے ملک نے چند ملین آبادی والے متحدہ عرب امارات کو کیا کیا پہلے ہی بیچ ڈالا ہے۔
شروعات میں T&T کو متحدہ عرب امارات کی سرکاری ٹیلی فون اینڈ ٹیلی کام کمپنی کے ہاتھوں انتہائی جلد بازی اور بے دلی سے بیچ دیا گیا۔ قوم جاننا چاہتی ہے کہ اس اثاثے کو بیچ کر ملنے والی رقم کدھر گئی۔ کے الیکٹرک کمپنی سندھ کی سب سے بڑی لینڈ مارک بجلی کمپنی تھی‘ یہ بھی عرب ممالک کے ہاتھوں بِک گئی۔ کراچی پورٹ‘ جس کے بے پناہ اثاثے ہیں‘ وہ کوڑیوں کے بھاؤ یو اے ای کو لیز پر دے دی گئی۔ پورٹ قاسم گہرے سمندر پر ہماری بحری بندرگاہ تھی۔ اس کے تجارتی آپریشنز میں بھی یو اے ای سمیت نجی و غیر ملکی کمپنیاں حصہ دار ہیں۔ 25 کروڑ لوگوں کی ری پبلک میں کوئی ایک دماغ ریاست کو ایسا پسند نہ آسکا جو وفاقی دارالحکومت کا ایئر پورٹ چلا سکے۔ ہماری زمینوں پر بننے والے اسلام آباد ایئر پورٹ میں اب ہم کرایہ دار بن گئے۔ لمبی لیز کے ذریعے اس کے استعمال کی ملکیت متحدہ عرب امارات کو ٹرانسفر ہو گئی ہے۔ اس کیساتھ ساتھ تین کروڑ 84لاکھ کنال زمین Identify/select کر دی گئی‘ یہ زمین بھی دبئی کے شیوخ کو لیز پر جلد مل جائے گی۔
قرض کی لش پش پر نگر نگر کی سیر کرنے والے حکمران اور ہر براعظم میں جائیدادوں کے مالک سیاست کار‘ سفارت کار اور ملازمینِ سرکارنے ملک کو کہاں لا گرایا۔اب ہم متحدہ عرب امارات کو ایک ارب امریکی ڈالر کا قرض واپس کرنے کے بھی قابل نہیں رہے۔ پوچھنا یہ تھا کہ چار سال میں ہائبرڈ انقلابی حکومت نے کیا دو ارب ڈالر بھی نہیں کمائے جس سے قرض چکتا ہو سکے۔ عام فہم بات ہے کہ کیا کوئی پڑوسیوں کے خرچ پر بچے پالنے کا عادی آدمی مضبوط ہاتھوں یا مضبوط ارادوں والا ہو سکتا ہے؟
مضبوط ہاتھ ان دنوں 21 ارب زرِمبادلہ ذخائر کی بات کر رہے ہیں۔ سرکاری کاغذ کہتے ہیں کہ 21 ارب میں سے 6ارب کمرشل بینکوں کے ہیں جبکہ 12.5 ارب ڈالر دوست ملکوں کے۔ پیچھے اتنے ذخائر بچتے ہیں جن سے 25کروڑ لوگوں کو صرف ایک وقت سے زیادہ کھانا بھی نہیں کھلایا جا سکتا۔ اتفاق سے یہ وکالت نامہ یکم جنوری کو لکھا جا رہا۔ اس لیے:
اے نئے سال! کروں میں بھی سواگت تیرا
یوں ہی ہر سال مرے دیس کی بے بس خلقت
پھر سے ادوار کے انبار میں دب جاتی ہے
خود فریبی کے تبسم کو سجا لینے سے
شدتِ کرب بھلا چہروں سے کب جاتی ہے
منزلِ شوق کا اب کوئی بھی دلدادہ نہیں
وہ تھکن ہے کہ مسافر سفر آمادہ نہیں
اک نظر دیکھ یہ انبوہ در انبوہ غلام
جو فقط شومیٔ تقدیر سے وابستہ ہیں
ان کو کچھ بھی تو بجز وعدہ فردا نہ ملا
یہ جو خود ساختہ زنجیر سے پابستہ ہیں
ان کا ایک ایک نفس رہن ہے اغیار کے پاس
اب تو غمخوار بھی آتے نہیں بیمار کے پاس
اے نئے سال! کروں میں بھی سواگت تیرا
تُو اگر دل سے مرے چاک قبائی لے لے
میں تو اس صبحِ درخشاں کو تونگر جانوں
جو مرے ہاتھ سے کشکولِ گدائی لے لے
جو مری خاک کو مست میٔ پندار کرے
جو مرے دشتِ وفا کو گل و گلزار کرے