جھڈو:ٹیل تک پانی نہ پہنچنے پرعدالت سے رجوع کافیصلہ
مصنوعی قلت کیخلاف ٹیل آبادگار ایسوسی ایشن کے اجلاس میں اعلان کیا گیاڈائریکٹر وایکسین نارا کینال، ایس ڈی اوکوٹ غلام محمد بحران کے ذمہ دار قرار
جھڈو (نمائندہ دنیا)جمڑاؤ کینال کی ٹیل بگی مائنر میں گزشتہ کئی ماہ سے جاری پانی کی غیر قانونی وارہ بندی اور مصنوعی قلت کے خلاف ٹیل آبادگار ایسو سی ایشن کا ایک اہم اجلاس جھڈو میں منعقد ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ بگی مائنر کے پندرہ واٹر کورسوں کی 8 ہزار ایکڑ زرعی اراضی بنجر اور سخت گرمی میں درجنوں گاؤں دیہات میں پینے کے پانی کی شدید قلت ہے ، اس صورتحال پر آبادگار رہنماؤں نے ڈائریکٹر اور ایکسین نارا کینال میرپورخاص، ایس ڈی اوکوٹ غلام محمد سب ڈویژن کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میرپورخاص بینچ میں پٹیشن دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اس موقع پر آبادگاروں کا کہنا تھا کہ ہزاروں روپے خرچ کرکے رواں سیزن کی فصلیں کاشت کی تھیں لیکن بگی مائنر میں تین ماہ سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود کاشت کی گئی فصلوں کو پانی نہ مل سکا اور کاشت کی گئی فصلیں سوکھ کر تباہ ہوگئی ہیں محکمہ آبپاشی میں تعینات کرپٹ افسران رشوت کے عوض اوپر کے بڑے آبادگاروں کو پانی فروخت کردیتے ہیں،جمڑاؤ کی ٹیل میں کی جانے والی پانی کی مصنوعی قلت سے جھڈو شہر کے واٹر سپلائی کے تالابوں میں بھی پانی انتہائی کم ہوگیا ہے اور 60 ہزار سے زائد آبادی پینے کے پانی سے محروم ہوتی جارہی ہے ،آبادگاروں کے شدید احتجاج اور مطالبات کے باوجود بھی جمڑاؤ کی ٹیل بگی مائنر میں پانی کی فراہمی مقررہ گیج کے مطابق نہیں کی جارہی ہے۔