عوام کا منظم دباؤ ہی حالات بہترکر سکتا،قیصربنگالی
حالیہ بجٹ بے شرمی کی حد تک غریب دشمن اوراشرافیہ نواز ہے ،ماہرمعاشیاتترقی اور غریبوں کی بہتری اب ریاست کا مقصد نہیں،جماعت اسلامی کے تحت لیکچر
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ممتاز ماہر معاشیات ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا ہے کہ ملک میں درحقیقت دو پاکستان ہیں، ایک اشرافیہ کا خوشحال اور دوسرا غریب کا پاکستان،حکمرانوں پر عوام کا منظم دباؤ ہی حالات میں بہتری لا سکتا ہے ۔ معیشت میں ایک اور مراعات یافتہ معیشت نہیں چل سکتی۔ آج جنگ کی نوعیت بدل چکی ہے ۔ دفاعی اخراجات کو برقرار رکھتے ہوئے غیر دفاعی اخراجات ختم ہونے چاہئیں۔ کنٹونمنٹ بورڈز ختم کیے جائیں جس طرح پڑوسی ملک نے ختم کر کے میونسپل اداروں کے حوالے کیے ۔ اب ریاست ترقیاتی بجٹ کے بجائے قرض لینے اور قرض اتارنے میں لگی ہوئی ہے ۔ ترقی اور غریبوں کی بہتری اب ریاست کا مقصد نہیں۔ حالیہ بجٹ بے شرمی کی حد تک غریب دشمن اور اشرافیہ نواز بجٹ ہے ۔ عوام کی طرف سے مزاحمت بڑھے گی تب ہی بہتری کی امید ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی ضلع وسطی کے تحت بجٹ کے بعد کی معیشت۔ بہتری کی امید ہے ؟ کے موضوع پر لیکچر دیتے ہوئے کیا۔ڈاکٹر قیصر بنگالی نے شرکا کے سوالات کے جوابات بھی دیے ۔تقریب میں مختلف شعبوں کے افراد نے شرکت کی۔ تقریب سے امیرجماعت اسلامی ضلع وسطی سید وجیہ حسن نے بھی خطاب کیا۔ڈاکٹر قیصر بنگالی نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ کے بحران میں ثالثی کرکے پاکستان نے دنیا بھر سے جو داد سمیٹی ہے وہ ملکی قیادت کے لیے مبارکباد کا موقع ہے تاہم اس کامیابی سے پاکستانی عوام کو کسی فائدے کی امید نہیں، صرف قرضے آسانی سے مل سکتے ہیں۔