چاندی برآمدگی کیس،ملزمان کی بعدازگرفتاری ضمانت
ایک لاکھ روپے کے مچلکے اور اسی مالیت کے ذاتی ضمانتی بانڈ جمع کرانے کا حکمملزمان کو ضمانت سے محروم رکھنے کی کوئی غیر معمولی وجہ نہیں،سندھ ہائیکورٹ
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ نے 500 کلو گرام چاندی کی برآمدگی سے متعلق کسٹمز کے مقدمے میں گرفتار تین ملزمان محمد عرفان اقبال، محمد توقیر اور ذیشان شاہ کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں ایک، ایک لاکھ روپے کے مچلکوں اور اسی مالیت کے ذاتی ضمانتی بانڈ جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ جسٹس عمر سیال نے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ بادی النظر میں مقدمے میں متعدد ایسے قانونی اور حقائق پر مبنی سوالات موجود ہیں جن پر مزید تحقیقات کی ضرورت ہے ، اس لیے ملزمان کو ضمانت سے محروم رکھنے کی کوئی غیر معمولی وجہ موجود نہیں۔ فیصلے کے مطابق کسٹمز حکام نے 9 اور 10 مارچ 2026 کی درمیانی شب اطلاع ملنے پر صدر کے گولڈ ٹاور کی 14ویں منزل پر واقع کمرشل اپارٹمنٹس میں بغیر سرچ وارنٹ چھاپہ مارا۔
جہاں سے 500 کلو گرام چاندی سلاخوں اور راڈز کی صورت میں برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ کسٹمز کے مطابق ملزمان چاندی کی ملکیت یا قانونی درآمد سے متعلق کوئی دستاویز پیش نہیں کرسکے ، جس پر چاندی ضبط کرلی گئی۔عدالت نے قرار دیا کہ ایف آئی آر اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 161 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات میں نمایاں تضاد موجود ہے ۔ عدالت کے مطابق ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ چھاپے کے وقت صرف ملزم عرفان اقبال موجود تھا، جو ملزم محمد توقیر کے ہاں 25 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر مزدوری کرتا تھا، جبکہ ایف آئی آر میں دونوں کی موجودگی ظاہر کی گئی ہے۔