واٹر ٹینکر سے نوجوان کی ہلاکت ، 13 کروڑ سے زائد ہر جانے کا دعویٰ

 واٹر ٹینکر سے نوجوان کی ہلاکت ، 13 کروڑ سے زائد ہر جانے کا دعویٰ

نجی کمپنی کے ملازم کی بیوہ کی جانب سے دائر دعوے میں واٹر ٹینکر کے مالک اور ڈرائیور کو فریق بنایا گیا ہے متوفی کی ماہانہ آمدنی ایک لاکھ چالیس ہزار روپے تھی، وفات سے خاندان مالی مشکلات سے دوچار،درخواست

کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی میں واٹر ٹینکر کی ٹکر سے جاں بحق ہونے والے نجی کمپنی کے ملازم کی بیوہ نے سندھ کے سینئر سول جج شرقی کی عدالت میں 13 کروڑ 7 لاکھ 42 ہزار 229 روپے ہرجانے کے دعوے کا مقدمہ دائر کردیا ہے ۔عدالت میں دائر کیے گئے دعوے کے مطابق متوفی طلحہ ظہیر کی بیوہ سدرہ منور نے اپنے اٹارنی فہد سلیم کے ذریعے مقدمہ دائر کیا ہے ۔ درخواست میں واٹر ٹینکر کے مالک امجد خان اور ڈرائیور عبدالشکور کو فریق بنایا گیا ہے ۔ وکیل درخواست گزار عثمان فاروق نے مؤقف اختیار کیا کہ متوفی 25 مارچ 2026 کو اپنی ملازمت سے واپسی پر موٹر سائیکل پر گھر جا رہے تھے کہ دوپہر تقریباً ایک بج کر پندرہ منٹ پر چمڑا چورنگی، کورنگی انڈسٹریل ایریا میں ایک واٹر ٹینکر نے مبینہ طور پر تیز رفتاری، غفلت اور لاپرواہی سے انہیں ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر شدید زخمی ہوئے اور بعد ازاں اسپتال میں دم توڑ گئے ۔ میڈیکل رپورٹ اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے مطابق ان کی موت حادثے میں آنے والی شدید چوٹوں کے باعث ہوئی۔ واقعے کا مقدمہ کورنگی انڈسٹریل ایریا تھانے میں ایف آئی آر نمبر 341/2026 کے تحت درج کیا گیا جبکہ ملزم کو بعد ازاں عبوری قبل از گرفتاری ضمانت بھی حاصل ہوئی۔

وکیل درخواست گزار کے مطابق متوفی نجی کمپنی میں ایگزیکٹو آفیسر کے طور پر ملازم تھے اور انہیں ایک لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ کے علاوہ چالیس ہزار روپے ماہانہ کمیشن ملتا تھا، یوں ان کی مجموعی ماہانہ آمدنی ایک لاکھ چالیس ہزار روپے تھی۔ وہ اپنی اہلیہ، بچوں اور دیگر زیر کفالت افراد کے واحد کفیل تھے اور ان کی وفات سے خاندان مستقل مالی مشکلات سے دوچار ہوگیا ہے ۔ دعوے میں موقف اپنایا گیا ہے کہ واٹر ٹینکر کے مالک نے گاڑی کی مناسب دیکھ بھال اور محفوظ آپریشن کو یقینی بنانے میں غفلت برتی جبکہ ڈرائیور نے لاپرواہی اور خطرناک انداز میں گاڑی چلا کر حادثہ رونما کیا، اس لیے دونوں مدعا علیہان مشترکہ اور انفرادی طور پر ہرجانے کی ادائیگی کے ذمہ دار ہیں۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مقدمہ جان لیوا حادثات ایکٹ 1855 کے تحت دائر کیا گیا ہے ، جس کے تحت متوفی کے قانونی ورثا کو غلطی، غفلت یا لاپرواہی کے باعث ہونے والی موت پر معاوضہ طلب کرنے کا حق حاصل ہے ۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ دعوے کی رقم پر مقدمہ دائر ہونے کی تاریخ سے وصولی تک 21 فیصد سالانہ منافع بھی دیا جائے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں