ترجمہ، ادب ، لسانیات کا باہمی ربط علمی ضرورت،عظمیٰ

ترجمہ، ادب ، لسانیات کا باہمی ربط علمی ضرورت،عظمیٰ

تینوں کے امتزاز ج سے علمی تحقیق کے نئے در کھلتے ہیں، تقریب سے خطاب

ملتان (خصوصی رپورٹر)دی ویمن یونیورسٹی ملتان میں شعبہ انگریزی کے زیر اہتمام ادب، لسانیات اور ترجمے کے فن کے حوالے سے ایک روزہ سیمینار منعقد کیا گیا۔ سیمینار کا عنوان ‘‘دنیاؤں کو ملاتا پل: ترجمے کی تعلیم، ادب اور لسانیات کا انضمام’’ تھا۔تقریب کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے کی۔ انہوں نے کہا کہ ترجمہ، ادب اور لسانیات کا باہمی ربط عصر حاضر کی اہم علمی ضرورت ہے ، کیونکہ آج دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے اور ترجمہ مختلف زبانوں کے درمیان فکری پل کا کردار ادا کرتا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ ادب انسانی جذبات اور تجربات کی آواز ہے جبکہ لسانیات اس آواز کے تجزیے کا علم ہے ، اور ان تینوں کے امتزاج سے علمی تحقیق کے نئے در وا ہوتے ہیں۔سیمینار کی فوکل پرسن اور شعبہ انگریزی کی چیئرپرسن ڈاکٹر منزہ ربانی نے کہا کہ پروگرام کا مقصد طالبات کو جدید لسانیات، ادبی تنقید اور ترجمے کے عملی تقاضوں سے روشناس کرانا ہے ۔زکریا یونیورسٹی سے ڈاکٹر اسنوبرا رضوان اور کامن ویلتھ پروگرام کی مترجم محترمہ مہجبین سید سمیت دیگر ماہرین نے بھی ترجمے اور بین الکلیاتی تحقیق پر تفصیلی گفتگو کی۔ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں بھی انسانی ترجمہ اپنی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ثقافتی حساسیت کو صرف انسان ہی بہتر انداز میں سمجھ سکتا ہے ۔ سیمینار میں مختلف جامعات کے اساتذہ اور طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں