کرمپور کا مریم ہیلتھ کلینک منصوبہ انتظامی غفلت کا شکار
ایک سال بعد بھی آؤٹ سورس نہ ہوسکا، بنیادی سہولتوں کی شدید قلت
وہاڑی (نمائندہ خصوصی)حکومت پنجاب کے ہیلتھ ماڈل کے تحت آر ایچ سی کرمپور کو ’’مریم ہیلتھ کلینک‘‘میں تبدیل کرنے کا منصوبہ ایک سال گزرنے کے باوجود عملی شکل اختیار نہ کرسکا۔ کلینک آؤٹ سورس نہ ہونے کے باعث محکمہ صحت کا نظام متاثر ہے جبکہ متعلقہ افسران بھی صورتحال پر واضح پالیسی اختیار نہیں کرسکے ۔ تمام تر دعوؤں کے باوجود مریم ہیلتھ کلینک کرمپور میں ویرانی کا راج ہے اور کرمپور سمیت گردونواح کے40سے 50 واضعات کے ہزاروں شہری بنیادی علاج کیلئے پریشان ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے آر ایچ سی کی عمارت کی تزئین و آرائش کرکے اسے خوبصورت تو بنا دیا، تاہم صرف عمارت بہتر بنانے سے صحت کی سہولیات فراہم نہیں ہوسکتیں۔ ہسپتال میں ادویات اور بنیادی سامان علاج کی شدید قلت ہے ، حتیٰ کہ پٹی، سرنج، پائیوڈین اور سپرٹ جیسی ضروری اشیا بھی دستیاب نہیں۔ تشخیصی نظام بھی ناقص ہے ، ایکسرے اور ڈینٹل یونٹ مؤثر طور پر غیر فعال جبکہ لیبارٹری میں بنیادی ٹیسٹوں کی سہولت محدود ہے ۔ مدر اینڈ چائلڈ کیئر کی مطلوبہ سہولیات نہ ہونے سے خواتین اور بچوں کو دور دراز نجی ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے ۔ شہریوں نے الزام عائد کیا کہ بعض ڈاکٹر معمولی نوعیت کے مریضوں کو بھی دوسرے ہسپتالوں میں ریفر کردیتے ہیں، جس سے غریب مریضوں کو اضافی سفری اخراجات اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments