ترقیاتی منصوبوں کی مشینری کاغذی کارروائی تک محدود
مؤثر فزیکل چیکنگ کے بغیر ہی لائسنسوں کی تجدید کر دی جاتی ،بڑے سرکاری منصوبوں کو مقررہ معیار کے مطابق مکمل کرنے کے لیے وسائل اور تکنیکی صلاحیت موجود نہیں ٹھیکیدار دستاویزات میں مبینہ غلط معلومات فراہم کرکے واجبات کم ظاہر کرنے یا ٹیکس بچانے کے حربے استعمال کرتے ہیں ، بعض اہلکاروں کی مبینہ معاونت کا ذکر بھی کیا جا رہا
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) ڈویژنل انتظامیہ کی جانب سے مختلف منصوبوں کی شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے سخت ایکشن لینے کے اقدامات سامنے آنے کے بعد ذرائع سے انکشاف ہوا ہے سرکاری ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکے لینے والے متعدد کنٹریکٹرز کی مشینری، افرادی قوت اور استعدادِ کار کے دعوے مبینہ طور پر کاغذی کارروائی تک محدود ہیں، فزیکل ویری فکیشن کے بغیر لائسنسوں کی تجدید، مبینہ غلط معلومات کے ذریعے ٹیکس بچانے ، بلیک لسٹ ٹھیکیداروں کے نئے ناموں سے کام جاری رکھنے اور سرکاری ٹھیکے غیر رجسٹرڈ چھوٹے ٹھیکیداروں کو فروخت کرنے کے معاملات نے ٹھیکیداری نظام کی اندرونی کہانی کھول کر رکھ دی،ذرائع کے مطابق پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، ہائی وے ، لوکل گورنمنٹ، بلڈنگز، ضلع کونسل، میونسپل کارپوریشن سمیت دیگر سرکاری محکموں اور بلدیاتی اداروں میں رجسٹرڈ متعدد ٹھیکیداروں کی جانب سے جمع کروائی گئی دستاویزات میں مشینری، لیبر، تجربے اور استعدادِ کار کی تفصیلات ظاہر کی جاتی ہیں، اوران دعوؤں کی موقع پر مؤثر فزیکل چیکنگ کے بغیر ہی مبینہ طور پر لائسنسوں کی تجدید کر دی جاتی ہے ، بعض کنٹریکٹرز فزیکل چیکنگ کے موقع پر فرضی مشینری اور افرادی قوت ظاہر کرکے کاغذی تقاضے پورے کرتے ہیں، جبکہ عملی طور پر ان کے پاس بڑے سرکاری منصوبوں کو مقررہ معیار کے مطابق مکمل کرنے کے لیے مطلوبہ وسائل اور تکنیکی صلاحیت موجود نہیں ہوتی بعض ٹھیکیداروں کی جانب سے دستاویزات میں مبینہ غلط معلومات فراہم کرکے ٹیکس واجبات کم ظاہر کرنے یا ٹیکس بچانے کے حربے استعمال کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں، جس میں متعلقہ شعبوں کے بعض اہلکاروں کی مبینہ معاونت کا ذکر کیا جا رہا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments