ایران ،امریکا کے پاس پاکستان کے سوا ثالثی کا کوئی آپشن نہیں
چین بھی ٹرمپ کے دورہ سے پہلے اسلام آباد مذاکرات میں پیشرفت چاہتاہے
(تجزیہ:سلمان غنی)
آئندہ ہفتے امریکا ،ایران مذاکرات کا دوسرا دور پھر سے اسلام آباد میں ہونے کے امکانات ظاہر کئے جا رہے ہیں، کیونکہ پاکستان نے حالیہ کشیدگی میں براہ راست کسی ایک فریق کا حصہ بننے کے بجائے ثالثی اور سہولت کاری کی پالیسی اپنائی ہے ۔وزیراعظم، آرمی چیف اور خارجہ آفس کی سطح پر واشنگٹن ،تہران ،بیجنگ اور خلیجی ممالک سے مسلسل رابطے اسی حکمت عملی کا حصہ سمجھے جا رہے ہیں ، پاکستان خطہ میں ایسی پوزیشن پر ہے کہ جہاں وہ امریکا ،خلیجی ممالک اور ایران سے رابطہ رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکا، ایران جنگ میں جہاں جنگ بندی میں پاکستان کا کردار اہم ہے وہاں مذاکرات کے انعقاد اور اس کے تسلسل میں اسلام آباد کی اپنی اہمیت ہے اور فریقین اس حوالہ سے کوئی دوسرا آپشن نہیں رکھتے ،خصوصاً امریکی صدر پاکستان کے ذمہ دارانہ کردار کی وجہ سے ہی پاکستان کی لیڈر شپ کی تعریف کرتے نظر آتے ہیں، جبکہ ایران پہلے سے ہی واضح پالیسی کے تحت پاکستان پر اعتماد کرتا آرہا ہے۔
جہاں تک مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد کا تعلق ہے تو امریکی صدر ٹرمپ اپنے دورہ چین سے پہلے اسکی ضرورت کا ادراک رکھتے ہیں اور جلد معاہدہ چاہتے ہیں۔ بلا شبہ ان حالات میں مکمل معاہدہ تو ممکن نظر نہیں آتا، لیکن کچھ نکات پر اتفاق رائے کی صورت میں مختصر معاہدہ ہو سکتا ہے ،جس میں جنگ بندی کے تسلسل کے ساتھ آبنائے ہرمز کا کھلنا بھی شامل ہے ۔اس لئے کہ آبنائے ہرمز کی بندش اور اسکی ناکہ بندی سے حالات بہت بگڑے ہیں اور اب فریقین سمجھتے ہیں کہ اس پر قابل قبول شرائط پر بات آگے بڑھنی چاہئے اور اس پر جلد حتمی فیصلہ ہونا چاہئے اور ایسی اطلاعات ہیں کہ بہت سے نکات پر فریقین کا اتفاق ہو چکا ہے مگر انہیں جان بوجھ کر مخفی رکھا جا رہا ہے اور اب اسکا اعلان اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات میں ہو سکتا ہے۔
اس حوالہ سے پاکستان نے پھر سے غیر محسوس انداز میں مذاکراتی عمل کی تیاریاں شروع کر رکھی ہیں ،دوسرے مرحلہ کے مذاکرات میں چین کے کردار کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے ،چین بھی چاہتا ہے کہ امریکی صدر کے دورہ بیجنگ سے پہلے اسلام آباد مذاکرات میں بڑی پیشرفت ہو، اور اسی بنیاد پر چین پاکستان کے سفارتی اور ثالثی کردار کی حمایت کرتا نظر آ رہا ہے۔ یہ چین ہی ہے جس کے کردار کے باعث تہران اور ریاض کے تعلقات میں بہتری آئی ہے ، لہذا اب امریکا ،ایران مذاکرات کی نتیجہ خیزی میں چند روز اہم ہیں اور امکان یہی ہے کہ فریقین میں کچھ نکات پر اتفاق ہو جائے گا۔ اطلاعات ہیں کہ امریکا کے کچھ اتحادی اس پر زور دے رہے ہیں کہ مذاکرات اسلام آباد کے بجائے جنیوا میں ہوں مگر امریکا ان سے اتفاق کرتا نظر نہیں آ ٓرہا۔