پاکستانی معیشت کیسے بحال ہوسکتی ہے؟

آخر پونے دو سال گزرنے کے بعد وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو خیال آ ہی گیا کہ دہشت گردی کے انسداد کے ساتھ ساتھ پاکستان کی معیشت کی بحالی بھی ایک اہم مسئلہ ہے جس کی طرف توجہ دیے بغیر نہ تو ملک ترقی کر سکتا ہے ‘نہ ہی بڑھتی ہوئی آبادی کے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے فوری طورپر ایف پی سی سی آئی کے موجودہ صدر میاں محمد ادریس سے رابطہ قائم کیا اور ان سے مشورہ کیا کہ وہ کون سے اقدامات کئے جاسکتے ہیں جس کی مدد سے ملک کی معیشت نہ صرف بحال ہوسکتی ہے بلکہ ترقی کی طرف گامزن بھی ہوسکتی ہے۔شنیدہے کہ وزیراعظم اور میاں ادریس کے درمیان اس اہم مسئلے پرٹیلی فون پر تقریباًدس منٹ بات چیت ہوئی، جس کے بعد دونوں شخصیات نے یہ فیصلہ کیا کہ اس ضمن میں تاجروں اور صنعت کاروں کا مشورہ اور اعتماد حاصل کرنا چاہئے تاکہ ان کی آرا کی روشنی میں ضروری اقدامات کئے جاسکیں۔ دوسری طرف ملک کے ماہرین اقتصادیات اور میڈیا کے سینئر ارکان سے بھی اس سلسلے میں مشورہ کیا جانا چاہئے، کیونکہ ان دونوں شعبوں کے افراد ملک کی معیشت کو دوبارہ فعال بنانے اور پٹڑی پر لانے کے سلسلے میں ضروری معلومات رکھتے ہیں‘ بلکہ اہم مشورے بھی دے سکتے ہیں، جن پر عمل پیرا ہوکر پاکستان کی زوال پذیر معیشت کو بحال کیا جاسکتا ہے۔
میاں محمد ادریس کیونکہ خود بھی صنعت کار ہیں اور عملی شخصیت ہیں‘ فوراً اس کار خیر اور جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہوکر اس معاملے میں فعال ہوگئے اور پہلے مرحلے میں ایف پی سی سی آئی کے مرکزی دفتر واقع کراچی میں ماہرین اقتصادیات ‘صنعت کاروں اور میڈیا کے سینئر ارکان کا ایک اجلاس طلب کرلیا۔اجلاس میں بڑی تعداد میں ماہرین نے شرکت کی اور موجودہ معاشی حالات کے پس منظر اور پیش منظر میں قابل عمل تجاویز دیں جن پر عمل پیرا ہوکر پاکستان کی معیشت کی شرح نمو میں نمایاں اضافہ کیاجاسکتا ہے، ممکن ہے کہ شرح نمو 7فیصدتک پہنچ جائے جس کی طرف بیشتر شرکا نے اشارہ بھی کیا۔ہر چند کہ ماہرین اور صنعت کاروں کی جانب سے معیشت کی بحالی کے سلسلے میں پیش کی جانے والی تمام تجاویز قابل عمل ہیں ، لیکن تین عوامل ایسے ہیں جو معیشت کی بحالی میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ پہلا‘ ملک میں تیزی سے پھیلتی ہوئی دہشت گردی جو تمام تر کوششوں کے باوجود رکنے کا نام نہیں لے رہی۔دوسرا ‘ توانائی کا بحران جو آئندہ دو تین برسوں میں حل ہوتا نظر نہیں آ رہا‘ کیونکہ حکومت کے پاس اس شعبے میں لگانے کے لیے مالی وسائل دستیاب نہیں ہیں۔ (اس کا اعتراف خود وزیراعظم صاحب نے بھی کیاہے)‘ تیسرا مسئلہ کرپشن کا ہے۔ جوپاکستان کی معیشت کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔فی الحال اسے روکنے کی تمام تدابیر ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ ہر شعبہ کرپشن کا شکار ہے۔ ماضی کی حکومت نے کرپشن کا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا؛ چنانچہ جب تک موجودہ حکومت ان تین عوامل پر قابو نہیں پا لیتی۔ پاکستان کی معیشت بحال نہیں ہوسکتی ۔ ویسے بھی اس وقت گیس اور بجلی کی کمی کے باعث پاکستان کی نصف صنعتیں بند ہوچکی ہیں جس کی وجہ سے بے روزگار ی اور غربت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، بالخصوص کارخانوں کے بند ہوجانے سے مزدور طبقہ بہت زیادہ متاثر اور پریشان ہے، اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستانی سرمایہ غیر ملکوں کی جانب منتقل ہواہے جو اپنی جگہ ایک تشویش ناک امر ہے۔
میاں محمد ادریس کے مطابق غیر ملکی سرمائے کی مدد سے فی الوقت پاکستان کی معیشت کو بحال کیا جاسکتا ہے لیکن لااینڈ آرڈر کی خراب اور خستہ صورت حال کے سبب ایف ڈی آئی پاکستان کی جانب راغب نہیں ہو رہا۔ بیرونی ممالک میں آباد پاکستانی ‘جن کے پاس بے پناہ دولت ہے، پاکستان میں سرمایہ کاری کرسکتے ہیں، جیسا کہ ماضی میں غیر ممالک میںآباد چینی اور بھارتی سرمایہ کاروں نے اپنے اپنے ملک میں معیشت کو بحال کرنے کے سلسلے میں یہ کردار ادا کیا تھا، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ غیر ممالک میں آباد پاکستانی جو
پاکستان سے غیر معمولی محبت کرتے ہیں، انہیں کون اور کس طرح یہاں سرمایہ کاری کے لیے راغب کرے گاجبکہ خود پاکستان کے اپنے سرمایہ کار اس ملک میں مزید سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں ہیں؟ ایک مشہور محاورہ ہے کہ خیرات گھر سے شروع ہوتی ہے، لیکن یہاں تو صورت حال یہ ہے کہ گھر والے ہی اپنے گھر کی تعمیر و ترقی میں مدد سے گریزاں نظر آ رہے ہیں۔ چنانچہ معروضی صورت حال میں پاکستان کی معیشت کو بحال کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اس وقت پاکستانی معیشت کی شرح نمو3.5 فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔(آئی ایم ایف نے یہی کہا ہے) جبکہ حقیقی شرح نمو 7 فیصد ہونی چاہیے جس کا ذکر بالائی سطور میں کیا گیا ہے۔
پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی تعلیم وصحت اور روزگار کے شعبے میں ضروریات کو پورا کرنے کے لئے معیشت کی شرح نمو7 فیصدتک ضرور ہونی چاہیے۔ کیا یہ ممکن ہے؟ اس سلسلے میں میاں محمد ادریس خاصے پر امید نظر آرہے ہیں، لیکن جو عوامل معیشت کی بحالی اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیں(مثلاً بجلی اور گیس) ان کا سدباب کون کرے گا؟ تاہم اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ پاکستان کی معیشت میں ترقی کرنے کے سلسلے میںبہت زیادہ استعداد موجود ہے اور اگر ملک سے دہشت گردی ختم ہوجائے اور توانائی کا مسئلہ بھی بخوبی حل ہوسکے تو پاکستان کی
معیشت برق رفتاری سے ترقی کرسکتی ہے اور 7فیصد شرح نمو کا ہدف بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ متذکرہ عوامل کے علاوہ جو پاکستان کی معیشت میں رکاوٹوں کا سبب بن رہے ہیں، پاکستان کے اندر غیر ملکی مداخلت بھی بہت پریشان کن مسئلہ بنا ہوا ہے، جس کا اشارہ ابھی حال ہی میں وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے واشنگٹن میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے دیا ہے۔ انہوںنے اگرچہ پاکستان کے اندر گڑبڑ پیدا کرانے میں براہ راست بھارت کا نام لینے سے اجتناب برتا ہے، لیکن ان کا اشارہ بھارت ہی کی طرف تھا۔ ہر چند کہ پاکستان دل سے چاہتا ہے کہ بھارت کے ساتھ اچھے ہمسائیگی کے تعلقات قائم ہوجائیں، لیکن بھارت کا یہ ایجنڈا نہیں ہے، اگر ہوتا تو نریندرمودی وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے ساتھ اپنی پہلی ملاقات میں ممبئی کا مسئلہ نہ اٹھاتے ‘لیکن انہوںنے اٹھایا اور باہمی تعلقات کے فروغ میں جو امید پیدا ہورہی تھی وہ نقش بر آب ثابت ہوئی ۔ دراصل پاکستان اس وقت اندرونی و بیرونی حالات کے جبر کی وجہ سے ایک ایسی جگہ کھڑا ہوگیا ہے جہاں سے نکلنے کے لیے پوری قوم کو متحد ہونا پڑے گا اور باہمی اتحاد کی طاقت کے ذریعے ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے سیاسی وعسکری قیادت کا ساتھ دینے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہئے، کیونکہ موجودہ حالات میں پاکستان جو جنگ لڑ رہا ہے، وہ اس کی بقاء اور سلامتی کی جنگ ہے، اس میں کسی کو شبہ نہیںہونا چاہئے:
لے چل مرے رہبر تو مجھے آج ادھر سے
بگڑی ہوئی تقدیر سنورتی ہے جدھر سے

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں