منفرد لب و لہجہ کی شاعرہ کا انتقال

شاہدہ تبسم کراچی کی ادبی و سماجی حلقوں کی اہم شخصیت اور منفرد اسلوب کی شاعرہ تھیں، یہی منفرد اسلوب ان کی پہچان بن گیا تھا ، نثرنگاری میں بھی وہ اپنی مثال آپ تھیں، بہترین افسانے تخلیق کئے ، بچوں کے لئے دلچسپ کہانیاں لکھیں۔ ابھی ان کا تخلیقی سفر شروع ہی ہوا تھا کہ اچانک موت نے آ لیا۔ مجھے شاہدہ تبسم کی موت پر ذاتی صدمہ ہوا‘ وہ ہمارے گھرکی فرد تھیں، میری ایک بیٹی ڈاکٹر طاہرہ سے ان کے بڑے گہرے مراسم تھے، بلکہ جب کبھی شاہدہ کی طبیعت موسمی تبدیلی کی وجہ سے خراب ہوتی تو وہ طاہرہ سے ہی رجوع کرتیں۔ اس جون میں کراچی میں ایسا موسم آیا کہ لو، گرمی اور حبس نے مل کر لوگوں کا جینا حرام کردیا۔ اسی آتش بار موسم میں شاہدہ زندگی کی بازی ہار گئیں۔ یہ سب کچھ اتنا اچانک ہوا کہ کسی کو یقین ہی نہیں آیا۔ ٹی وی پر خبر چلنے کے بعد ادیب وشاعر ایک دوسرے سے پوچھتے رہے کہ کیا واقعی شاہدہ کا انتقال ہوگیا ہے؟ جب یقین آگیا کہ وہ اس دنیا سے چلی گئی ہیں تو سب سکتے میں آگئے۔ اس وقت ہمارے پاس اُن کی یادوں اور آنسوئوں کے سوا کچھ نہیں‘ شاہدہ کا انتقال دوپہر دو بجے ہوا‘ جسد خاکی کو گلشن معمار لایا گیا جہاں وہ اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ قیام پزیر تھیں۔ گلشن معمار کی مسجد میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور نارتھ کراچی کے ایک دور دراز قبرستان میں ہلکی چاندنی کی روشنی میں انہیں سپرد خاک کردیا گیا۔ قبرستان میں ان کو مٹی دینے کے لئے چند ہی احباب ورشتہ دار پہنچ سکے تھے، کیونکہ راستے کی خرابی کے علاوہ تمام سڑکوں کو لوڈشیڈنگ کے باعث تاریکی اور خوف نے ڈھانک رکھا تھا، جب شاہدہ کو لحد میں اتارا جارہا تھا تو مجھے رہ رہ کر غالب کا یہ شعر یاد آرہا تھا ؎
سب کہاں؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
شاہدہ بہ حیثیت شاعرہ اور نثر نگار پاکستان کی موجودہ سیاسی و تہذیبی صورتحال سے خاصی دل گرفتہ تھیں۔ اکثر کہا کرتیں کہ پاکستان کی خرابی کی ذمہ داری سیاست دانوں پر عائد ہوتی ہے، جنہوں نے ملک میں ایسااستحصالی کلچررائج کیا ہے جس میں صرف امیر طبقہ ہی زندہ رہ سکتا ہے، جبکہ غریب طبقہ اچھی زندگی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ حقیقت بھی یہی ہے ایک دفعہ انہوںنے مجھے چین کے عظیم انقلابی رہنما مائوزے تنگ کی نظم کاترجمہ سنایا جو انہوں نے بڑی لگن کے ساتھ لکھی تھی، مائونے یہ نظم اپنے دوست کامریڈ چواین لائی کی موت پر لکھی تھی۔ نظم کا عنوان ہے ، کاش ہم کچھ اور زندہ رہتے!
قوموں کے رہنما
ان والدین کی صورت میں
حسین بچوں کے لئے سب کچھ قربان کرتے ہوئے
اپنے کسی بھی طرح کے انجام کا کبھی خوف نہیں رہا
اب جبکہ ہمارے اس پیارے وطن میں
سر خ انقلاب کی چادر کے سائے میں
ہمارے بچے بیٹھے ہیں
تو میں سوچتا ہوں کہ آئندہ
ان کی رکھوالی کون کرے گا
ہمارا مشن تو مکمل نہیں ہواہے
جس کے لئے ایک ہزار سال بھی کم ہیں
ہم ایک بہتر سماج کی تکمیل میں تھک رہے ہیں
اور ہمارے بال سفید ہورہے ہیں
لیکن میرے دیرینہ دوست
میں اور تم اور ہمارے خواب اور ہماری جدوجہد
کیایوں رائگاں ہے
ادھوری رہ جانے والی
کاش ہم کچھ اور زندہ رہتے ، کاش!
مائوزے تنگ کی اس نظم میں اچھے‘ پروقار اور استحصال سے پاک سماج کی تکمیل کا خواب دیکھا گیا ہے، یہی خواب شاہدہ تبسم بھی دیکھ رہی تھیں‘ فرق صرف اتنا تھا کہ چین میں طاغوتی‘ استحصالی اور ظالم نظام کے خلاف کسانوں اور مزدورو ں کا انقلاب برپا ہوچکا تھا ، جبکہ جنوبی ایشیا میں ابھی یہ فکر محض سوچ تک محدود ہے؛ حالانکہ استحصال سے پاک مساوات پر مبنی سماج کے قیام کے تصور کو جنوبی ایشیا کے ذمہ دار باضمیر، حساس شاعروں اور ادیبوں نے فروغ دیا۔ لیکن عمل کی کسوٹی پر کوئی پورا نہیں اتر سکا جسکی وجہ مفاد پرست طبقہ تھا جس نے سماج کو ان قوتوں کے حوالے کردیا ہے جو تبدیلی کے مخالف اور جبرواستحصال کو جاری رکھنا چاہتی ہیں۔ یہ المیہ‘ سمجھنے اور شعوررکھنے والوں کے لیے سوہان روح بنتا جارہا ہے، لیکن ان کے پاس عمل کی کوئی اجتماعی طاقت نہیں، اس لئے درد و آلام کی اذیت میں زندہ رہنے پر مجبور ہیں، شاہدہ بھی اسی کوفت کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوئی، کسی نے سچ کہا ہے کہ ''بھائی یہ دنیا امیروں کی ہے، غریبوں کی نہیں‘‘۔
شاہدہ نے جن بچوں کے لئے کہانیاں لکھی ہیں جب انہیں اُس کی ناگہانی موت کا پتہ چلا تو انہیں بہت دکھ ہوا ۔ ایک بچے نے کہا جب تک ان کی یہ کہانیاں ہمارے پاس ہیں ہم ان کی مغفرت کی اللہ سے دعا کرتے رہیں گے۔ انسان زندگی اور موت ہر دو صورتوں میں دعائوں کا محتاج ہے۔ شاہدہ تبسم اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ ان کی روح کے ایصال ثواب کے لئے حرم شریف میں دعا کی گئی۔ یقین ہے کہ جب شاہدہ ان دعائوں کے ساتھ بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوئی ہوں گی تو ان کی مغفرت ہوچکی ہوگی۔ انہوںنے زندگی بھر بدگوئی اور غیبت سے اجتناب کیا بلکہ ایسے لوگوں سے ملنے جلنے سے بھی گریز کیا جو انسانی تعلقات میں بد گمانیاں پیدا کر کے سماج میں تلخیاں پیدا کرتے ہیں۔ شاہدہ تبسم کا ایک اور تعارف ان کے بڑے بھائی ظہور الاخلاق ہیں جو لاہور میں قیام پذیر تھے اور ان کا پاکستان کے بڑے آرٹسٹوں میں شمار ہوتا تھا۔ حکومت پاکستان کے محکمہ ڈاک نے چند سال قبل ان کی یاد میں یادگاری ٹکٹ بھی جاری کیا تھا؛ تاہم اس بڑے حوالے کے باوجود شاہدہ خود اپنی ذات میں بڑا نام اور ادارہ بن چکی تھیں۔ وہ انتہائی قابل احترام شخصیت تھیں، اس وقت میںان کے دو اشعار پیش کررہا ہوں جو خاصے مشہور ہوئے ؎
ذرا سا اس نے سورجوں کا زاویہ بدل دیا
ہم ایسے خوش گمان تھے کہ راستہ بدل دیا
اس کی ساری رنگینیوں کو تہہ تلک گر دیکھنا
اس کی رسم دید سے پہلے سمندر دیکھنا

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں