گزشتہ دنوں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اسلام آباد میںملک بھرسے آئے ہوئے کسانوں سے خطاب کے دوران 341ارب روپے کے ایک پیکیج کا اعلان کیا ، جس کو مجموعی طورپر چھوٹے اور بڑے کسانوں نے بہت سراہا ہے، اور امید ظاہر کی ہے کہ حکومت کی سرپرستی میں زرعی شعبے کے مسائل اور معاملات کو حل کرکے پاکستان کے اس کلیدی شعبے کو اور زیادہ فعال بنایا جاسکتا ہے، کیونکہ کسانوں کی خوشحالی حقیقت میں پاکستان کی خوشحالی ہے۔ یہاںپر اس بات کا ذکر بھی لازمی ہے کہ گذشتہ دنوں لاہور میں ایک بڑی تعداد میں کسان جمع ہوئے تھے، اور حکومت پر زور دیا تھا کہ ان کے مسائل حل کئے جائیں، جن میں کھاد کی قیمتوں میں کمی، بجلی اور ڈیزل سے چلنے والے ٹیوب ویل کے ضمن میں خصوصی رعایت کے علاوہ زرعی مشینری کی امپورٹ کی مد میں ٹیکسوں کا مکمل خاتمہ یا پھر اس میں کمی شامل تھے۔ لاہور میں کسانوں کی جانب سے ہونے والی احتجاجی تحریک میں کسان بھائی زرعی اجناس بھی ساتھ لائے تھے، خاص طور پر آلو جس کی پیداوار ی لاگت میں خاصا اضافہ ہوگیا ہے، جس کی وجہ سے کسانوں کی آمدنی میں کمی ہورہی ہے۔ اسی طرح کپاس کے سلسلے میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ اس پر بھی نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کپاس سے متعلق نقصان کا بھی ازالہ کیا جاسکے، بعد میں کسانوں نے آلوئوں کو سڑکوں پر پھینک دیا تھا۔
اس پس منظر میں کسان کنونشن کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں کسانوں کو خصوصیت کے ساتھ چھوٹے کسانوں کے لیے خصوصی رعایت کا اعلان کیا گیا تھا۔ میری نظر میں زرعی شعبے کو ملنے والا یہ سب سے بڑا پیکیج ہے جس پر اگر خلوص دل اور خلوص نیت سے عمل پیرا ہونے کی کوشش کی گئی تو جہاں کسانوں کو ان کی محنت کا صحیح معاوضہ مل سکے گا، وہیں زرعی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ بھی ہوسکے گا۔ اس وقت پاکستان اس خطے کا وہ واحد ملک ہے جہاں فی ایکٹر پیداوار بہت کم ہے بلکہ وقت پر پانی دستیاب نہ ہونے کی صورت میں مسلسل گررہی ہے‘ کسانوں کے لئے اس ریلیف پیکیج کے تین بنیادی حصے ہیں۔ 1۔کسانوں کو براہ راست مالی تعاون فراہم کرنا ، 2۔پیداواری لاگت کم کرکے کسانوں کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ کرنا، 3۔کسانوں کو زرعی قرضوں کی فراہمی میں آسانی پیدا کرنا خصوصیت کے ساتھ چھوٹے کسانوں کو فوری طورپر بلا سود قرضہ فراہم کرنے کے علاوہ قرضوں کی فراہمی کو آسان بنانا۔ وزیراعظم نے فوری طورپر پوٹاشیم اور فاسفیٹ کھاد کی قیمت میں فوری طورپر فی بوری 500روپے کی کمی کا اعلان کردیا ہے ، جبکہ چاول اور کپاس کے چھوٹے کاشت کاروں کو فی ایکڑ 5ہزار روپے دیئے جائیں گے۔ 12ایکڑ یا اس سے کم زمین رکھنے والے کسانوں کو سولر ٹیوب ویل نصب کرنے یا موجودہ ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر تبدیل کرنے کے لئے بلا سود قرضہ دیئے جائیں گے۔ ان قرضوں پر آئندہ سات سال تک کے لئے مارک اپ حکومت ادا کرے گی۔ اسی طرح اس پیکیج میںچاول کی تجارت کرنے والوں اور چاول کی ملوں کے سلسلے میں خصوصی رعایت اور مدد کا اعلان کیا گیا ہے۔ پاکستان میں کسانوں کی اکثریت نے اس پیکیج پر خوشی کا اظہار کیا ہے جبکہ بعض کی جانب سے اسے رد کردیا گیا ہے۔
البتہ اس پیکیج میں سندھ کے کسانوں کے لئے جو رعایت دی جانی چاہئے تھی، اس کا اعلان نہیں کیا گیا۔ مثلاًسندھ میں چھوٹے کسانوں کے پاس کم از کم رقبہ 16ایکڑ ہوتا ہے، دوسری طرف پنجاب میں چھوٹے کسانوں کے پاس ساڑھے بارہ ایکڑ کا رقبہ ہوتا ہے، جنہیں زیادہ مراعات دی گئی ہیں جبکہ سندھ کے چھوٹے کاشت کاروں کو نظر انداز کیا گیا ہے‘ اسی طرح گنے کی کاشت کرنے والوں کے لئے کسی قسم کی مراعات کا اعلان نہیں کیا گیا ۔بلکہ مل مالکان نے اپنے تئیں فی ٹن گنا خریدنے میں کمی کا اعلان کیا ہے، جو کہ انتہائی نامناسب قدم ہے، مزید برآںبعض مل مالکان نے ابھی تک گنے کے کاشت کاروں کے واجب الادا لاکھوں روپے دبا رکھے ہیں جس کی وجہ سے ان کاشت کاروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وزیراعظم صاحب کو چاہئے کہ وہ گنا کاشت کرنے والوں کو درپیش مشکلات کا فوری ازالہ کریں تاکہ کسان آئندہ زیادہ گنا کاشت کرنے کی کوشش کریں۔
یہ بات لکھنا بہت ضروری ہے کہ میاں محمد نواز شریف نے خاصی تاخیر سے کسانوں کی مشکلات دور کرنے کے سلسلے میں یہ پیکیج دیا ہے۔ اس قسم کا پیکیج اس خطے کے دیگر ملکوں میں پہلے ہی سے رائج ہے، مثلاً بھارت میں زرعی شعبے کو بہت زیادہ سہولتیں دی جاتی ہیں جس کی وجہ سے وہاں فی ایکٹر پیداوار میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، پاکستان کے زرعی شعبے کا برآمدات کی مد میں 63فیصد حصہ ہے لیکن اب یہ حقیقت مشاہدے میں آئی ہے کہ پاکستانی کسانوں کو ضروری سہولتیں نہ ملنے کی وجہ سے جہاں برآمدات میں کمی واقع ہورہی ہے، وہیں عالمی منڈی میں کساد بازاری کی وجہ سے زرعی اجناس کی طلب میں خاصی کمی واقع ہوئی ہے، جس کا براہ راست نقصان کسانوں اور صنعت کاروں کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ ویسے بھی پاکستان کی مارکیٹنگ خاصی کمزور ہے، اس خطے کے دیگر ممالک تشہیر کے جارحانہ طریقے اپنا کر نہ صرف فائدہ اٹھارہے ہیں بلکہ پاکستان کے تاجروں کو مارکیٹ سے بے دخل بھی کررہے ہیں، اس لئے وزیراعظم صاحب نے برآمد کندگان سے کہا ہے کہ وہ اپنی اشیاء کی کھپت کے سلسلے میں نئی مارکیٹیں تلاش کریں تاکہ پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہوسکے۔ اس ضمن میں میاں نواز شریف نے ایران کا خصوصی ذکر کیا تھا، جہاں اقتصادی پابندیاں ختم ہونے کی صورت میں پاکستانی تاجروں کو اپنا مال فروخت کرنے میں کسی قسم کی دشواریاں پیش نہیں آنی چاہئیں‘ بعض عرب ممالک میںپاکستان کی زرعی اجناس کی خاصی مانگ ہے جس میں مزید اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔
زرعی شعبے کو ملنے والے ریلیف پیکیج سے یہ بات ظاہر ہورہی ہے کہ میاں صاحب کسانوں کو درپیش مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں اور وہ خلوص دل سے ان کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں، جس کی منہ بولتی تصویر یہ پیکیج ہے اور جس کا اعلان انہوں نے کسان کنونشن سے خطاب کے دوران کیا ہے۔ اس پر عمل درآمد کرنا سب کی ذمہ داری ہے ، خصوصیت کے ساتھ سیاست دانوں اور بیورو کریسی کی جو اگر چاہیں تو پاکستان کے زرعی شعبے میں اس پیکیج کے ذریعہ انقلابی تبدیلیاں لاسکتے ہیں اور پاکستان کو خوراک کے معاملے میں مزید خوشحال اور خود کفیل بنا سکتے ہیں۔ بات صرف نیت کی ہے۔ وزیراعظم صاحب نے اس پیکیج کے ذریعہ کسانوں کے مالی وسماجی حالات سدھارنے کا اعلان کردیا ہے، ارباب اقتدار اس پر عمل پیرا ہوگئے تو کسانوں کو ان کی محنت کا ثمر مل سکتا ہے اور پاکستان میں خوشحالی کے نئے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔