گزشتہ دنوںامریکی صدربارک اوباما نے لاہور میںگلشن اقبال پارک میں ہونے والی دہشت گردی کی سخت مذمت کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف سے تعزیت کی اور کہا کہ اس نازک وقت میں امریکہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے، اُ ن کی تعزیت انسانی بنیادو ں پر تھی۔ اس قسم کے تعزیتی پیغامات دنیا بھر سے آئے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہورہا ہے کہ پاکستان سمیت دیگر جگہوں پر بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی وجہ سے عالمی امن کو خطرہ بڑھتا جارہا ہے، اور اس کے ساتھ تشویش بھی!تاہم امریکی صدر کو یقینا ادراک ہے کہ پاکستان میںہونے والی دہشت گردی کرانے میں بھارت کے ساتھ افغانستان بھی شامل ہے،جو دہشت گردوں کو باقاعدہ فنڈز فراہم کرتے ہیں۔ اس کا انکشاف ''را‘‘کے جاسوس کل بھوشن یادیو نے بھی کیا ہے، چنانچہ اخلاقی طور پر امریکی صدر پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھارت کو متنبہ کریں کہ اس طرح کی حرکتوں سے نہ صرف جنوبی ایشیا میں امن کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوںگی، بلکہ کشیدگی کی صورت میں ان دونوں ملکوں کے مابین کسی بڑی جنگ کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا۔ واضح رہے امریکہ اور بھارت دونوں ایک تزویراتی معاہدے کے تحت ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ دفاعی اور اقتصادی شعبوں میں ایک دوسرے کی مدد بھی کررہے ہیں سول نیو کلیئر ری ایکٹر کا معاہدہ بھی ان دونوں ملکوں کے درمیان دوستی اور تعلقات کی صورت میں اہم کڑی کی حیثیت رکھتا ہے، اس لئے صدر اوباما اگر واقعی نیک دلی سے پاکستان میں امن کے خواستگار ہیں اور یہ سمجھ رہے ہیں کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ معاشی وجانی قربانیاں دی ہیں تو ان کا یہ فرض بنتا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی پر مبنی مداخلت کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ بلکہ بھارت کو یہ پیغام بھی دینا چاہئے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستان کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے جنوبی ایشیا کو امن کا گہوارا بنائے۔ ہوسکتا ہے کہ صدر اوباما امریکہ کے معاشی ودفاعی مفادات کے پیش نظر ایسا نہ کرسکیں تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کیوں اور کن بنیادوں پر عالمی دہشت گردی کی جنگ جیت سکتے ہیں؟ پاکستان اپنے حصے کا کردار ادا کررہا ہے، اس کے فوجی جوان ہر محاذ پر دہشت گردوں کا قلع قمع کررہے ہیںلیکن پاکستان کے اندر بھارتی مداخلت کی صورت میں یہ کام (دہشت گردی کے خلاف جنگ) بہت مشکل ثابت ہورہاہے۔
چنانچہ پاکستان سے متعلق امریکہ کی خارجہ پالیسی کا یہ تضاد سمجھ سے بالاتر ہے ، ایک طرف تو امریکی صدر کو پاکستانیوں کی ہلاکتوں پر گہرا افسوس ہے تو دوسری طرف وہ بھارت کے خلاف ایک لفظ بھی ادا کرنے سے گریزاں آرہے ہیں جو جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کا نیٹ ورک پھیلا کرخِطے کے ممالک کی اقتصادی ترقی روکنے کی مکروہ کوششیں کررہا ہے۔ امریکہ کو اپنی دوغلی پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔ دونوں ملکوں (پاکستان ‘ بھارت) کے ساتھ برابری کی بنیاد پر سلوک کرنا چاہئے تاکہ مشترکہ کوششوں کے ذریعہ دہشت گردوں کا قلع قمع کیا جاسکے، امریکی صدر کو یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اگر بیرونی مداخلت کے ذریعہ پاکستان کا امن اور اس کی اقتصادی ترقی کو تہہ وبالا کرنے کی کوشش کی گئی تو پھر سرزمین سے ایسے عناصر ابھر سکتے ہیں جو اس پورے خطے میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے باعث ہولناک جنگ کا سبب بن سکتے ہیں۔ پاکستان کی عسکری قیادت کسی حد تک امریکہ بہادر کی اس پُرتضادپالیسی پر خاموش رہ سکتی ہے، لیکن کب تک؟ویسے بھی امریکہ پاکستان کا دیرینہ دوست ہے اور پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مالی مدد بھی کررہا ہے تاکہ پھیلتی ہوئی دہشت گردی کا سدباب ہوسکے، لیکن دوسری طرف امریکہ پاکستان میںبھارت اور افغانستان کی جانب سے مداخلت کو روکنے کی کوشش نہیں کررہا یوں اُس کی اس خطے میں امن کی تمام کوششیں نقش برآب ثابت ہوں گی۔ پاکستان کی حکومت اور عوام کی یہی خواہش ہے کہ امریکہ پاکستان کے اندر بھارتی مداخلت کو روکنے کے لئے اپنا کردارادا کرے تاکہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہوسکیں، اور جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے امکانات روشن ہوسکیں۔ دوسری طرف ایک اور اہم مسئلہ جو پاکستان کے لئے آئندہ سوہان روح بن سکتا ہے وہ ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی ہے، موصوف نے حال ہی میں سی این این سے انٹرویو میں پاکستان کا نام لے کر یہ کہا ہے کہ پاکستان ایک Vital Problemہے کیونکہ اس کے پاس خطرناک جوہری ہتھیار ہیں ، صرف میں ہی اس مسئلہ کاحل نکال سکتا ہوں، (دھمکی)۔ اس سے قبل انہوںنے یہ بھی کہا تھا کہ وہ آئندہ کسی مسلمان کو امریکہ میں داخل ہونے نہیں دیں گے، لیکن بعد میں انہوںنے اپنا بیان بدل دیا ، اور کہا تھا کہ ہنرمند مسلمانوں کو آنے کی اجازت ہوگی تاکہ وہ امریکی معیشت کو طاقتور بنا سکیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اگر امریکہ کے صدر منتخب ہوگئے تو وہ دنیا بھر میں جارحیت کو بڑھاوا دیں گے، بلکہ وہ بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کے لئے بے پناہ مسائل پیدا کرسکتے ہیں جیسا کہ ان کے انٹرویوز سے ظاہر ہوتا ہے۔ امریکہ میں آباد مسلمان اور کالے امریکی ان کے سخت خلاف ہیںان کا جھکائو ہلیری کلنٹن کی طرف ہے۔ خود سفید فام امریکی اس دولت مند آدمی کو پسند نہیںکرتے لیکن قدامت پسند امریکیوں کے علاوہ اُس کی پارٹی کے امیر ترین افراد اس کی حمایت کررہے ہیں۔ بھارتی اور یہودی لابی بھی ٹرمپ کی حمایت میں متحرک وفعال نظر آتی ہے۔ جبکہ پاکستان کی ''لابی‘‘ نہ ہونے کے برابر ہے، ٹرمپ کو ان کی انتخابی مہم میں سب سے زیادہ روپیہ بھارتی لابی نے دیا ہے۔ ٹرمپ کا انداز گفتگو دیکھتے ہوئے پاکستان کو ابھی سے امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششیں کرنی چاہئے ۔کم ازکم صدر اوباما کے ہوتے ہوئے انہیں اس بات پر قائل کرنا چاہئے کہ وہ بھارت کی پاکستان میں مداخلت کو روکنے کے لئے اپنے اثرورسوخ استعمال کریں، تاکہ پاکستان یکسوئی کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ لڑ اور جیت سکے۔