بابری مسجد1528ء میں مغل بادشاہ بابر کی ہدایت پر میر باقر نے اجودھیا(ضلع فیض آباد) میں ایک پہاڑی پر تعمیر کی تھی، اس کا شمار بڑی مسجدوں میں ہوتا تھا، اس کی دیکھ بھال مسلم ٹرسٹ کے ذمہ تھی، لیکن دسمبر 1992ء میں انتہا پسند ہندوئوں نے ‘جن کی قیادت سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی ، ایل کے ایڈوانی، کل یانگ سنگھ ،جوشی اور اُوم بھارتی کر رہے تھے، اسے مسمار کردیا ۔ اس کے علاوہ جن ہندو انتہاپسند تنظیموں نے اسے شہید کرنے میں حصہ لیا تھا، ان میں بی جے پی ، آر ایس ایس اور مقامی ہندو تنظیمیں وغیرہ شامل تھیں۔ اس وقت بھارت میں کانگریس کی حکومت تھی اور نرسیمارائوبھارت کے وزیراعظم تھے ، اگر وہ اپنے آئینی اختیارات استعمال کرتے تو اسے شہید نہ کیا جاتا ، کیونکہ اس وقت بابری مسجد کا کیس الہ آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت تھا‘ سنی وقف بورڈ کے ارکان مسلمانوں کی طرف سے پیروی کررہے تھے، لیکن سیاسی مصلحتوں کی شکار کانگریس کی حکومت انتہا پسند ہندوئوںکو بابری مسجد کو شہید کرنے سے نہیں روک سکی تھی۔ اجودھیا کی مقامی پولیس بھی انتہا پسند ہندوئوں کے ساتھ شامل ہوگئی تھی‘ جبکہ اس کی ذمہ داری مسجد کو ہندو شر پسندوں سے بچانے کی تھی۔ بابری مسجد کو شہید کرنے کے بعد بی جے پی اور آر ایس ایس کے غنڈوں نے مسلمانوں کی بستیوں پر حملہ کردیا۔کم از کم تین ہزار مسلمان عورتوں‘ مردوں اور بچوں کو بڑی اذیت دے کر شہید کردیا ۔ ان کی املاک کو لوٹ لیا گیا۔ بعض اخبار نویسوں نے رپورٹ کیا کہ مسجد کے انہدام میں انتہا پسند ہندوئوں کے ساتھ کانگریس کی مقامی قیادت بھی شریک تھی۔ انتہا پسند ہندوئوں کا یہ دعویٰ ہے کہ بابری مسجد ہندوئوںکے اُوتار رام جی کی جنم بھومی پر تعمیر کی گئی تھی،یہاں پہلے ایک بڑا مندر تھا۔
بابری مسجد کا مقدمہ ایک طویل عرصہ تک الہ آباد ہائیکورٹ میں چلتا رہا۔ جج صاحبان نے حقائق معلوم کرنے کے لئے کہ آیا بابری مسجد ‘مندر کو ڈھانے کے بعد تعمیر کی گئی ‘ بھارت کے آثار قدیمہ کے ماہرین کی مدد حاصل کی جنہوںنے بابری مسجد کے اطراف اور اس کے اندر کھدائی کرکے الہ آباد ہائی کورٹ کو یہ رپورٹ پیش کی کہ بابری مسجد مندر کو توڑنے کے بعد تعمیر کی گئی تھی، سنی وقف بورڈ کے ارکان نے بھارت کے آثار قدیمہ کی اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے، عدالت سے استدعا کی کہ یہ کہیں ثابت نہیں ہوتا ہے کہ بابری مسجد ایک قدیم مندر مسمار کرنے کے بعد تعمیر کی گئی تھی، لیکن الہ آبادہائی کورٹ نے سنی وقف بورڈ کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے بابری مسجد کے وسیع علاقے کو تین حصوں میں تقسیم کردیا۔ جس کا ایک حصہ سنی وقف بورڈ کو دیا گیا ۔تہائی ہندئوں کے لئے مختص کیا گیا تاکہ وہ رام مندر تعمیر کرسکیں، جبکہ ایک تہائی زمین کو اجودھیا کے عوام کے سپرد کردیا گیا؛ تاہم اس ضمن میں سنی وقف بورڈ نے سپریم کورٹ میںالہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی ہوئی ہے، دوسری طرف بی جے پی کے ایک لیڈر نے بھی سپریم کورٹ
میں بابری مسجد اور رام مندر کی تعمیر کے سلسلے میں درخواست دائر کی ہے اُسے بھی بھارت کی سپریم کورٹ نے سماعت کے لئے منظور کرلیا ہے۔ بی جے پی کے لیڈر رام سوامی نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے کہ اس مقدمے کو روز انہ کی بنیاد پر سنا جائے۔انتظار ہے کہ سپریم کورٹ فریقین کے دلائل سننے کے بعد اس انتہائی حساس مسئلہ پر اپنا کیا فیصلہ صادر کرتی ہے۔
تاہم یہ لکھنا بہت ضروری ہے کہ بھارت کی عدالتیں جس میں سپریم کورٹ بھی شامل ہے انتہا پسند ہندئوں کے نرغے میں آگئی
ہیں، الہ آباد ہائی کورٹ کے جج صاحبان نے بابری مسجد سے متعلق جو فیصلہ صادر کیا تھا، وہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے واضح دبائو کے تحت کیا گیا تھا، نیز جن ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا گیا تھا، ان کے نقصانات کو ابھی تک Compensate نہیں کیا گیاہے، اور نہ ہی ان کے اجڑے ‘مسمار اور برباد شدہ گھروں کو تعمیر کیا گیا ہے، دراصل بی جے پی نے بابری مسجد کو مسمار کرکے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بھارت میں رام راج کی بنیاد رکھ دی ہے۔ آج کا بھارت اقلیتوں کے لئے انتہائی غیر محفوظ ہوگیا ہے، خصوصیت کے ساتھ مسلمانوں کے لئے جن کے معاشی وسماجی حالات ہر گذرتے دن کے ساتھ دگرگوں ہوتے جارہے ہیں، نریندرمودی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت کے طول و عرض میں ہر سطح پر انتہا پسند ی پھیل رہی ہے۔ بھارت کا میڈیا نریندرمودی کے انتہا پسند ی کے فلسفے کی بھر پور حمایت کررہاہے، اگر اجودھیا میں رام مندر تعمیر ہوگیا تو پھر بھارت کے چھوٹے بڑے شہروں کی مسجد یں نہ صرف غیر محفوظ ہو جائیں گی بلکہ ان کو انتہا پسند آر ایس ایس کے جنونی کارکن مسمار کرنے یا پھر ان کو تالہ لگاکر بند کرنے سے باز نہیں آئیں گے۔بی جے پی کے رہنما رام سوامی نے بابری مسجد سے
متعلق عدالت میںجو درخواست دائر کر رکھی ہے اُس میں کہا گیا ہے کہ مسجد یں ٹوٹ سکتی ہیں، انہیں کسی دوسری جگہ تعمیر کیا جاسکتاہے، لیکن مندر ایک بار بن گیا تو اس کو توڑ ا نہیں جاسکتا ہے۔مندر کی یہی خصوصیت ہے، نہ معلوم سوامی کو کس نے یہ بتایا ہے کہ مسجد کو توڑا جاسکتا ہے، لیکن مندر کو نہیں، حالانکہ تاریخ بتاتی ہے کہ بھار ت میں مسلمانوں کے ایک ہزار سالہ دور حکومت میں خود بھارتی ریاستوں کے حکمرانوں نے مسلمان بادشاہوں سے استدعا کی تھی کہ جو مندر ہندوئوں کے زیر استعمال نہیں ہیں، ان کوتوڑ کر مسجد بنائی جاسکتی ہے، تاہم یہ لکھنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے دور میں مندروں کا احترام کیا جاتا تھا، ان کی دیکھ بھال کے سلسلے میں حکمرانوں کی جانب سے پنڈتوں کو وظائف بھی دئیے جاتے تھے۔ بابر بادشاہ نے اپنے دور حکومت میں یہ حکم جاری کیا تھا کہ مندروں کے سامنے کسی بھی قسم کی نازیبا حرکتیں نہیں ہونی چاہئیں اور نہ ہی گائے کو ذبح کیا جائے، بابربادشاہ سے پہلے بھی مسلمان سلاطین ہندوئوں کے مذہبی عقائد کا بہت احترام کیا کرتے تھے، ان کی کوشش ہوتی تھی کہ ان کے مذہبی عقائد کو کسی قسم کی ٹھیس نہ پہنچے لیکن آج کا بھارت اور اس کا جنونی حکمران جنونیت میں مبتلا ہوکر بھارت میں بسنے والی اقلیتوں کے لئے انتہائی ناساز گار حالات پیدا کرکے سیکولر بھارت کا منہ چڑا رہا ہے، ۔