پاکستان کی وزارت خزانہ میں کچھ کہنہ مشق لوگوں کا خاص شعبہ ہے جو ہمارا سالانہ بجٹ بناتا ہے۔ ملک کے تمام شعبوں کی مدات کے گوشوارے ان کے پاس موجود ہوتے ہیں۔ ہرسال ان میں وقت اور حالات کے مطابق تبدیلی کرکے ہرآنے والے وزیر خزانہ کوپیش کردیئے جاتے ہیں۔ وزیر خزانہ کا کام اسمبلی میں کی جانے والی بجٹ تقریر کی تیاری تک ہوتا ہے جس تقریر کو وہ بیچارہ خوب رٹ کر آتا ہے اور بغیر سانس لیے اپنی تقریر کو پڑھ کر فارغ ہوجاتا ہے بجٹ کی باریکیوں اور اس کی تازہ موشگافیوں کا انکشاف لوگوں پر بجٹ تقریر کے بعد ہوتا ہے۔ مجوزہ بجٹ میں حکومت کا اعلان ہے کہ ملک کی متوقع آمدنی 24کھرب ہوگی ۔ یعنی اس بات کا یقین نہیں ہے کہ آمدنی 24کھرب ہی ہوگی‘ توقع ہے کہ شاید اتنی ہوگی مگر بجٹ 35کھرب کا بنادیا گیا ہے جس میں کوئی کمی پیشی متوقع نہیں ہے۔ قارئین! ملک کا بجٹ بھی ایک گھر کے اخراجات کے تخمینے کی طرح کا ہوتا ہے۔ ہر گھراپنے ماہانہ اخراجات اپنی آمدنی کے مطابق استوار کرتا ہے۔ جس گھر کے بھی افراد اپنی آمدنی سے بڑھ کر ماہانہ اخراجات کا شکار ہوتے ہیں‘ اس گھر میں لڑائی جھگڑا اور فساد ہی ہوا کرتا ہے۔ اخراجات کی زیادتی کی وجہ سے گھر کا سکون برباد ہوجاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں جن گھروں کے اخراجات ان کی آمدنی کے دائرہ میں ہوتے ہیں وہاں سکون ہوتا ہے اور گھر کے تمام لوگ عزت آبرو کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ پاکستان بھی ایک گھر ہے۔ اب جس گھر کی متوقع آمدنی چوبیس کھرب ہے اور اس گھر کے اخراجات کا بجٹ 35کھر ب بنادیا جائے گا یعنی متوقع آمدنی سے 11کھرب زیادہ کے اخراجات کیے جائیں گے تو اس گھر میں کیسے سکون ہوگا! ظاہر ہے کہ جب یہ 35کھرب‘ جو ملک کی آمدنی سے بھی زیادہ بنتا ہے‘ لوگوں سے وصول کیا جائے گا تو اس گھر کے کروڑوں بچوں میں سے کتنے بچوں کو دودھ نصیب ہوگا؟ کتنے بچے اسکول میں داخل ہوسکیں گے؟ کتنے بچوں کے والدین ان کی فیس دینے کے قابل ہوں گے؟ کتنے بچوں کو انڈہ کھانے کو مل سکے گا؟ کتنے لوگ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے آٹا خرید سکیں گے؟ کتنے لوگ گوشت کھاسکیں گے؟ کتنے مرغی کا گوشت کھاسکیں گے؟ کتنے لوگ چاول کھاسکیں گے؟ کتنے لوگ سبزیاں کھاسکیں گے؟ کتنے لوگوں کو چینی کھانا نصیب ہوگی؟ کیا پاکستان کے تمام لوگ آم کھا سکیں گے؟ خربوزہ کھاسکیں گے؟ کیا سب لوگوں کی قوت خرید موسمی پھلوں کو خریدنے کے قابل ہوگی؟ کیا کوئی غریب خاندان گھی‘ مکھن اور دالیں خریدنے کے قابل ہوسکے گا؟ حکومت نے پٹرول مہنگا کردیا۔ پٹرول فروخت کرنے والوں کو تو کچھ بھی نقصان نہیں ہوتا‘ وہ پٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ چلانے والے بسوں کے مالکوں کا کچھ نقصان نہیں ہوتا کہ وہ بسوں کے کرائے میں اضافہ کردیتے ہیں۔ البتہ صرف پٹرول کی قیمت بڑھنے سے بے شمار اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے کیونکہ اکثر اشیا کو باہر سے شہر لایا جاتا ہے۔ گوالے دودھ کی قیمت میں اضافہ کردیتے ہیں‘ مرغیاں بیچنے والے مرغی کی قیمت میں اضافہ کردیتے ہیں‘ دکاندار انڈوں کی قیمت میں اضافہ کردیتے ہیں‘ پھلوں اور سبزیوں کی قیمت میں اضافہ کردیتے ہیں‘ دالوں کی قیمت میں اضافہ کردیتے ہیں‘ اناج کی قیمت میں اضافہ کردیتے ہیں‘ پھر حکومت سکولوں پر ٹیکس لگاتی ہے تو سکولوں کے مالکان بچوں کی فیس میں اضافہ کرکے اپنا خسارہ پورا کرلیتے ہیں۔ حکومت کپڑے پر ٹیکس لگاتی ہے تو کارخانہ دار اور دکان دار کپڑے کی قیمت میں اضافہ کرکے اپنا ٹیکس پورا کرلیتا ہے۔ حکومت شادی گھروں پر ٹیکس لگاتی ہے تو شادی گھروں کے مالکان شادی والے گھرانے پر اپنا ٹیکس تھوپ دیتا ہے۔ حکومت غلہ منڈیوں کے آڑھتیوں پر ٹیکس عائد کرتی ہے تو غلہ منڈی کے آڑھتی گندم‘ چنے، چاول اور کھانے کی دوسری چیزوں کی قیمت بڑھا کر اپنا دیا ہوا ٹیکس پورا کرلیتے ہیں۔ حکومت ہوٹلوں پر ٹیکس لگاتی ہے۔ ہوٹل مالکان کھانے اور چائے کی قیمت بڑھا کر اپنا دیا ہوا ٹیکس لوگوں سے وصول کرلیتے ہیں۔ حکومت کاغذ پر ڈیوٹی بڑھاتی ہے تو دکاندار کاغذ مہنگا کرکے اپنے پیسے پورے کرلیتے ہیں۔ حکومت مشروبات پر ٹیکس لگاتی ہے تو مالکان مشروبات کی قیمت میں اضافہ کرکے اپنا ٹیکس وصول کرلیتے ہیں۔ قصہ مختصر حکومت جس چیز پر بھی ٹیکس عائد کرتی ہے۔ ٹیکس دینے والے اس ٹیکس کو اپنی چیزوں کی قیمت فوری طورپر بڑھا کر ٹیکس پورا کرلیتے ہیں۔ ستم کی انتہا یہ ہے کہ تمام ٹیکس دینے والے ٹیکس بہت بعد میں حکومت کو دیتے ہیں مگر وہ اپنے ٹیکس لوگوں سے پہلے ہی وصول کرلیتے ہیں۔ ہمارا حکومت سے ایک ہی سوال ہے کہ اگر آپ 18کروڑ کی آبادی میں 50لاکھ لوگوں پر ٹیکس لگاتے ہیں‘ تو یہ پچاس لاکھ تو اپنا ٹیکس چیزوں کی قیمت میں اضافہ کرکے وصول کر لیتے ہیں۔ وہ کروڑوں عوام جو چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کی وجہ سے کنگال ہوجاتے ہیں‘ ان کے بارے میں حکومت کا کیا خیال ہے۔ حکومت سمجھتی ہے کہ اس نے سرمایہ داروں پر ٹیکس لگایا ہے۔ حکومت یہ غلط سمجھتی ہے۔ حکومت کا لگایا گیا ٹیکس سرمایہ دار‘ دکاندار کارخانہ دار وغیرہ لوگوں سے وصول کرتے ہیں۔ حکومت کا تمام ٹیکس سیدھا لوگوں پر جاکر پڑتا ہے۔ حکومت کا ٹیکس مہنگائی کا میزائل بن کر عام لوگوں پر ہی گرتا ہے۔ وہ کروڑوں لوگ چیزوں کی قیمت کے اضافے کو کہاں سے وصول کریں؟ وہ غریب لوگ آٹا‘ دال‘ دودھ‘ گھی غرض کہ ان زندہ رہنے والی چیزوں کے اضافی بوجھ کو کس پر ڈالیں؟ جوحکومت ان باتوں کا خیال نہیں کرتی اس حکومت کو لوگوں سے ٹیکس وصول کرنے کا کوئی حق نہیں ۔ برطانیہ کی وزیراعظم تھیچر نے دودھ کی قیمت میں اضافہ کیا تھا۔ برطانیہ کے بچوں کی بددعائوںسے اس کا اقتدار جاتا رہا تھا۔ جس ملک بچے بوڑھے جوان تمام حکومت کو بددعائیں دیں گے اس حکومت کا کیا بنے گا۔ یہ اللہ ہی جانتا ہے۔