اکثر ترقی پذیر ممالک میں کرپشن بڑے پیمانے پر پائی جاتی ہے اور اس نے حکومت کی تمام سطحوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ سرکاری اہلکار ذاتی منفعت کے لیے جان بوجھ کر معاشی بدانتظامی میں ملوث ہوتے ہیں۔ اگرچہ کئی ممالک میں کرپشن کے خلاف انتہائی سخت قوانین بنائے گئے ہیں اور ان پر عملدرآمد کے لیے اینٹی کرپشن اور کئی دیگر ادارے قائم کیے گئے ہیں لیکن ان سب کے باوجود کرپشن جاری رہتی ہے اور اس میں کوئی کمی نہیں آتی۔ دنیا کے کئی ممالک میں کرپشن کا دائرہ کار اتنا وسیع ہوچکا ہے کہ عوام یہ سمجھنے پر مجبور ہیں کہ اس کے خلاف آواز اٹھانے یا تحریک چلانے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ کرپشن حکومت کی پست ترین سطح سے اعلیٰ ترین سطح تک سرایت کر چکی ہے۔ لہٰذا وہ بغیر کسی احتجاج کے اسے قبول کرنے پر مجبور ہیں۔ کرپشن سے معیشت کو ناقابل تلافی نقصان ہوتا ہے کیونکہ اس سے نا اہلیت پروان چڑھتی ہے اور دیانتدار آجرین کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے کیونکہ کاروبار کی کامیابی کی ضمانت اہلیت نہیں بلکہ سپیڈ منی (Speed Money) ہوتی ہے۔ کرپشن کی وجہ سے اثاثہ جات کا غلط استعمال ہوتا ہے اور ہر کسی کے لیے مساوی مواقع میسر نہیں ہوتے۔ چوری، ڈاکہ زنی، دھوکا دہی، رشوت ستانی، تاوان اور اقربا پروری وغیرہ سب کرپشن کے مظاہر ہیں۔ پاکستان میں بدقسمتی سے ایک ایسا معاشی، انتظامی، سماجی اور سیاسی ڈھانچہ وجود میں آچکا ہے جس کے نتیجے میں خود غرضی، ذاتی فائدہ، دفتری کارروائیاں، رشوت ستانی، نمودو نمائش، لاقانونیت، سرخ فیتے کی کارروائیاں، اقربا پروری، ٹیکس چوری کا فروغ، کاہلی اور کام چوری کا فروغ، سرکاری وسائل کا غلط اور غیر معیاری استعمال، نوکرشاہی کے وسیع اختیارات اور غیرپیداواری سرکاری اخراجات میں بے تحاشا اضافہ جیسے حالات پیدا ہوچکے ہیں جن کے نتیجے میں یوں لگتا ہے کہ ہمارے ملک کے حالات جیسے کیسے خود ہی چل رہے ہیں۔ سرمایہ دار انکم ٹیکس، کسٹم، ایکسائز اور دیگر ٹیکسوں کے بارے میں شاکی ہیں۔ انہیں کارخانے لگانے کے لیے واپڈا، محکمہ صحت اور میونسپل کارپوریشنوں کے دفتروں کے چکر لگانے پڑتے ہیں جہاں نذرانوں کے بغیر بجلی، گیس کے کنکشن اور NOC حاصل کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ محکمہ کسٹم اور ایکسائز کو ’خوش‘ کیے بغیر بندرگارہ سے مشینری کی کلیرنس نہیں ہوسکتی۔ ایسے ماحول میں سرمایہ داروں کو دفتری کارروائیوں اور ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کے غیر اخلاقی حربوں کا سامنا ہو تو وہاں کرپشن ہی پھلتی پھولتی ہے۔ اہلیت کو پروان چڑھانے اور معیشت میں بہتری لانے کے بارے میں سوچناخام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔ اسی طرح عام آدمی کو تھانے، کچہری اور دیگر محکموں سے اپنے جائز کام کروانے کے لیے بھی نذرانے اور رشوت دینی پڑتی ہے۔ کرپشن ایسا ناسور ہے جو معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کرکے رکھ دیتی ہے اور غربت میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ عالمی بینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح 51فیصد ہوچکی ہے اور 100ملین افراد غربت کی دلدل میں پھنس چکے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ کرپشن پورے معاشرہ میں سرایت کر چکی ہے جس سے امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہورہے ہیں۔ حالیہ سالوں میں کرپشن میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف لڑی جانیوالی جنگ کی وجہ سے تباہ ہونے والے انفراسٹرکچر کی بحالی پر بھاری اخراجات کرنے پڑ رہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کو اس جنگ سے 45 ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے حکومت کو ڈیفنس اور غیر پیداواری مدوں پر اٹھنے والے اخراجات میں بڑا اضافہ کرنا پڑا ہے‘ اس لیے سماجی شعبے کی بہتری کے لیے مناسب مقدار میں فنڈز فراہم نہیں کیے جاسکتے جس کی وجہ سے غربت میں اضافہ ہورہا ہے۔ ٹیکس چوری اور کرپشن نے معیشت کو جکڑ رکھا ہے۔ تمام حکومتیں معیشت کی استعداد کے مطابق ٹیکس اکٹھا کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ اشرافیہ کو ہر قسم کی رعایتیں اور مراعات دی گئی ہیں۔ ٹیکس چوری عام ہے۔ عوام پر غیر منصفانہ ٹیکس نظام مسلط ہے۔ ملک میں معاشی عدم مساوات اور سماجی ناانصافی کا دوردورہ ہے۔ غیر قانونی اقدامات جیسے سمگلنگ، ذخیرہ اندوزی، انڈرانوائسنگ اور مس ڈیکلیریشن آف گڈز تجارتی نظام کا باقاعدہ حصہ بن چکا ہے کیونکہ متعلقہ افراد یا اداروں کو احتساب کا کوئی ڈر نہیں۔ اس لیے وہ ان پر غیر قانونی سرگرمیوں سے نفع بخش کاروبار چلاتے ہیں۔ معاشی ترقی صرف جوابدہ اور معتبر حکومت کے دور میں ہی ممکن ہوتی ہے جو تمام فیصلے سیاسی مصلحتوں کی بجائے میرٹ اور اہلیت کی بنیاد پر کرتی ہو۔ پاکستان دنیا کا ساتواں گنجان آباد ملک ہے اور ہماری آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ سیاسی عدم استحکام اور دگرگوں معاشی حالات کی وجہ سے اکثر طلبا بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے جارہے ہیں اور سینکڑوں عالم فاضل لوگ بشمول ڈاکٹرز اور کاروباری افراد جو ملک کی سماجی اور معاشی فلاح وبہبود کے لیے بہت قیمتی اثاثہ ہوسکتے تھے مایوسی اور ناامیدی کی حالت میں ملک چھوڑ کر جارہے ہیں۔ ملک کی 80فیصد دولت پر 20ہزار خاندان قابض ہیں۔ پاکستان کے غریب ترین اور دوردراز علاقوں میں جاری تشدد کی لہر کی وجہ سے میڈیکل کی سہولتیں اور دوائیاں پہنچانا بہت مشکل ہوچکا ہے۔ ملک کے کئی حصوں میں بجلی اور پینے کا صاف پانی بھی دستیاب نہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 70فیصد لوگوں کی رائے ہے کہ کرپشن نے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں اور ہر سال اربوں روپے کرپشن کی نذر ہوجاتے ہیں۔ تقریباً تمام ریونیو کمانے والے محکموں میں فنانشل بے قاعدگیاں پائی جاتی ہیں۔ اگر حکومتی کنٹرول میں چلنے والے اداروں کے مجموعی نقصانات، سرکلرقرض اور ان اداروں کو دی جانیوالی اعانتوں کو جمع کیا جائے تو وہ کل ٹیکس ریونیو کا 50فیصد بنتا ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ اگر حکومت 2004ء کے پبلک پروکیورمنٹ رولز پر عملدرآمد یقینی بنا سکے تو 4 ارب ڈالر سالانہ بچائے جاسکتے ہیں۔ ہمارا ملک مختلف فرقوں، ذاتوں، برادریوں اور لسانی طبقوں میں بٹا ہوا ہے۔ ان میں قوم کے اجزا نظر نہیں آتے۔ انتظامی اقدامات کا مقصد محض بیورو کریٹک ہولڈ ہے جہاں حقائق کا جائزہ لینے اورمنطقی انداز میں مسائل کو حل کرنے کی بجائے طاقت اور اختیارات کا استعمال کیا جاتا ہے۔ پولیس اور انتظامیہ کالے انگریزوں کے روپ میں اس ملک پر حکومت کررہی ہے۔ غلط انتظامی اور معاشی پالیسیوں کی وجہ سے شعبہ تعلیم بالکل تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔ تعلیمی نظام میں دوغلا پن پیدا ہوچکا ہے۔ بیرونی امداد ہماری رگ رگ میں سما چکی ہے۔ چنانچہ کمزور اور نااہل سیاسی حکومتیں لاقانونیت، سرمایہ داریت، جاگیرداریت، امن عامہ کی بگڑتی ہوئی صورتحال، ملک میں بے چینی، ہندوستان کے ساتھ سرد جنگ کے حالات، دفاعی اخرات، سیاستدانوں کے لیے بڑھتی ہوئی مراعات اوران پر بڑھتے ہوئے سرکاری اخراجات‘ دقیانوسی بجٹ، دفتری کارروائیوں کی بہتات، تعلیمی نظام کی پستی، جدید تعلیمی رجحانات کی مخالفت، نجی اورقومی سوچ میں فرق، دولت کی تقسیم میں ناہمواری، ذاتی اور سرکاری حیثیت میں فرق اور بے جا شاہ خرچیاں وغیرہ ایسے بے شمار مسائل ہیں جو کرپشن کی وجہ سے جنم لیتے ہیں۔ ایک محفوظ مستقبل کی بنیادرکھنے کے سلسلے میں کرپشن بہت بڑا چیلنج ہے کہ اس پر قابو پانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر اس پر موثرطریقے سے قابو پایا جاسکے تو بیرونی دنیا سے قرض لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ غربت کم کرنے کا بھی واحد موثر طریقہ یہی ہے کہ کرپشن اور نااہلی پر قابو پایا جائے۔ دولت کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں۔