وفاقی بجٹ2013-14

یہ انتہائی مایوس کن بجٹ ہے کیونکہ یہ نہ تو کسی معاشی ویژن کا عکاس ہے اور نہ ہی بجٹ میں مقرر کیے گئے ریونیو، اخراجات، مالیاتی خسارے اور دیگر اہداف کا حصول ممکن نظر آتا ہے۔ بجٹ سے اس بات کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ حکومت میں اہل ثروت اور طاقتور طبقات پر ٹیکس عائد کرنے کے لیے درکار سیاسی عزم کا فقدان ہے۔ اس سال کا بجٹ بھی پچھلے سالوں کی طرح رسمی کارروائی ہے اور اعداد و شمار کا گورکھ دھندا ہے۔ بجٹ میں جو اقدامات تجویز کیے گئے ہیں وہ بہت ہی سطحی ہیں اور موجود نظام میں کوئی بھی قابل ذکر تبدیلی کرنے سے گریز کیا گیا ہے۔ اس لیے نہ تو مالیاتی خسارے پر قابو پایا جاسکے گا اور نہ ہی جاری رہنے والی معاشی ترقی کا حصول ممکن ہوگا۔ قربانی کا بکرا صرف غرباء اور محروم طبقہ کو بنایا گیا ہے جو پہلے ہی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں اور متمول افراد پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا بلکہ انہیں یہ رعایت بھی دی گئی ہے کہ اگر وہ اپنے واجبات 30 جون تک ادا کردیں تو ان کے خلاف کوئی تعزیری کارروائی نہیں کی جائے گی اور نہ ہی کوئی سرچارج وصول کیا جائیگا۔ بجٹ میں کوئی بھی پروگریسو ٹیکس نافذ نہیں کیا گیا۔ ہمارا ٹیکس جی ڈی پی تناسب دنیا میں پست ترین سطح پر ہے۔ 75فیصد سے زیادہ ٹیکس بالواسطہ ٹیکسوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ عوام سیلز ٹیکس میں کمی کی امید لگائے بیٹھے تھے۔ حکومت نے اس میں ایک فیصد کا اضافہ کرکے اس کا بوجھ غریب صارفین کو منتقل کر دیا ہے۔ کئی اشیاء پر ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کیے گئے ہیں اور ایکسائز ڈیوٹی میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ان سارے ٹیکسوں کا بوجھ عوام کو برداشت کرنا پڑے گا۔ جس سے ان کی زندگی دلدل میں پھنس جائے گی لیکن امیروں اور طاقتور افراد کو ملک اور بیرون ملک اثاثے ڈکلیئر کرنے کے لیے نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان کی آمدنی کے ذرائع کے بارے میں پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ پاکستان میں بجٹ کو ملک وسائل پر اشرافیہ کے کنٹرول اور حکمرانی کو مستحکم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ملکی اشرافیہ ایک مافیا ہے جو سول و خاکی بیورو کریسی، صنعتکار سیاستدان، لینڈلارڈ اور حریص تاجروں پر مشتمل ہے۔ ہماری معیشت اشرافیہ کے لیے ہے اور یہ مراعات یافتہ طبقات کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے۔ حکمران طبقہ ملک کی 2فیصد آبادی کی نمائندگی کرتا ہے لیکن ملک کے 95 فیصد وسائل پر قابض ہے۔ وہ بے زمین کاشتکاروں، غریب شہری ورکرز اور سفید پوش ملازمین کا استحصال کرتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ دولت جمع کرتے ہیں۔ وہ ضروریات زندگی کی اشیاء کی قیمتوں میں مصنوعی طریقوں سے اضافہ کرتے رہتے ہیں تاکہ 98فیصد آبادی کی کمائی کا بڑا حصہ چھین سکیں۔ پاکستان کی حکمران اشرافیہ قومی دولت لوٹنے اور ٹیکس چوری میں ملوث ہے وہ اپنے حصے کا ٹیکس ادا نہیں کرتے اور ملکی خود داری اور حاکمیت کا سودا کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتے۔ سیلز ٹیکس کی شرح میں جو ایک فیصد اضافہ ہوا ہے۔ کاروباری حضرات اس کا بوجھ، صارفین کو منتقل کردیں گے۔ وہ صارفین سے سیلز ٹیکس اکٹھا کریں گے اور ٹیکس افسران کی ملی بھگت سے اس کا حقیر سا حصہ ملکی خزانے میں جمع کرا دیں گے اور بقیہ رقم خود ہڑپ کر جائیں گے کیونکہ اگر وہ پوری رقم جمع کرا دیں گے تو ان کی حقیقی آمدنی حکومت کے نوٹس میں آجائے گی۔ اس ناجائز طریقے سے ان کی دولت میں اضافہ ہوتا رہے گا اور انکم ٹیکس بھی کم ادا کرنا پڑ یگا۔ لیکن عوام غریب سے غریب تر ہوتے جائیں گے کیونکہ انہیں ہر چیز کی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑتی ہے اس کے عوض انہیں حکومت سے کچھ بھی نہیں ملے گا۔ انہیں ضروری خدمات یعنی تعلیم اور صحت کے اخراجات بھی اپنی جیب سے ادا کرنے ہونگے۔ وزیرخزانہ نے موجودہ ٹیکسوں کی شرح میں معمولی تبدیلیاں کرکے اور ریگریسو ٹیکسوں کے نفاذ سے 230 ارب روپے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے اور ٹیکس ریونیو کا ہدف 2598ارب روپے صوبوں کو منتقل ہوجائیں گے اور حکومت کے پاس صرف 1918 ارب روپے بچیں گے۔ اخراجات کا ہدف 3500ارب روپے سے کچھ زیادہ ہے اور مالیاتی خسارہ 1600 ارب روپے ہوگا۔ حکومت نے ریونیو اور اخراجات کے رخنے پورے کر نے کے سلسلے میں بالواسطہ اور ودہولڈنگ ٹیکسوں پر انحصار کیا ہے۔ ٹیکس کا دائرہ کار وسیع کرنے اور ٹیکس چوروں کا محاسبہ کرنے کے سلسلے میں کسی قسم کی کارروائی کرنے سے پہلو تہی کی ہے۔ بجٹ خسارے کا ہدف 6.3 فیصد مقرر کیا گیا ہے جو غیر حقیقت پسندانہ ہے کیونکہ اس سال کا مالیاتی خسارہ 8.8فیصد مقرر کیا گیا ہے یہ بھی غیر حقیقت پسندانہ ہے کیونکہ اس سال کا مالیاتی خسارہ 8.8 فیصد ہے اور 1600 ارب کا رخنہ وزیراعظم ہائوس کے اخراجات کم کرکے اور سطحی قسم کی کفایت شعاری سے پورا نہیں ہوسکتا۔ بیورو کریسی کا حجم کم کیے بغیر غیر ترقیاتی اخراجات میں کوئی قابل ذکر کمی نہیں کی جاسکتی۔ لہٰذا مالیاتی خسارہ پورا کرنے کے لیے مزید قرض لیے جائیں گے۔ ہمارا کل قرض 14 ٹریلین سے تجاوز کرچکا ہے اور سال کے اختتام تک 15 ٹریلین ہوجائیگا۔ آئی ایم ایف نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کے قرض میں اضافہ ہوتا جائیگا اور 2017ء تک 28ٹریلین ہوجائیگا۔ بجٹ تقریر میں کہا گیا ہے کہ مالیاتی استحکام اورمعاشی ترقی کا حصول حکومت کی معاشی پالیسی کے بڑے مقاصد ہیں لیکن بجٹ میں جو اقدامات تجویز کیے گئے ہیں ان سے اس مقصد کا حصول ناممکن ہے کہ بجٹ کا مزید مایوس کن پہلو یہ ہے کہ آئی ایم ایف سے ای ایف ایف (Extendend Finance Facility) کا حصول ناگزیر لگتا ہے اور اس مقصد کے لیے سٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ کا عمل ابھی سے شروع کردیا گیا ہے۔ بجٹ میں دیئے گئے ریونیو اور اخراجات کے تخمینے مایوسی میں اضافہ کرتے ہیں۔ حکومت نے اگلے سال کے ریونیو کا ٹارگٹ 2.5 ٹریلین مقرر کیا ہے جو 2012-13 کے متوقع ریونیو سے 500ارب زیادہ ہے۔ وزیرخزانہ کا خیال ہے کہ نئے ٹیکس اقدامات اور 4.4 فیصد معاشی ترقی کی شرح نمو کی مدد سے اس کا حصول ممکن ہوگا لیکن سیلز ٹیکس میں اضافے کی وجہ سے معاشی ترقی کی شرح نمو پر منفی اثرات مرتب ہونگے اور سیلز ٹیکس میں اضافے سے بھی متوقع مقدار میں ریونیو حاصل نہیں کیا جاسکے گا۔ اس کے علاوہ حکومت کو آپشن سپورٹ فنڈ سے 1.4 ارب ڈالر اور 3-4 سیلولر ٹیکنالوجی کی نیلامی اور دیگر سیکٹرز سے 1.1 ارب ڈالر حاصل کرنے کی امید لگائے بیٹھی ہے لیکن یہ بہت ہی حقیر رقوم ہیں اوران سے بجٹ کے رخنے پورے نہیں ہوسکیں گے۔ ٹیکس کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کے سلسلے میں بھی کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔ اگر ٹیکس کادائرہ کار بڑھانا ملحوظ خاطر ہوتا تو زرعی آمدنی اور خدمات کے شعبے پر ٹیکس لگایا جاتا اور ایف بی آر کی ازسر نو تعمیر کے لیے اصلاحات کی جائیں تاکہ ٹیکس چوری اور کرپشن کا خاتمہ ہوتا۔ وزیرخزانہ نے ایسے اقدامات کا ذکر کیا ہے جو پہلے بھی آزمائے جا چکے ہیں اور ناکام رہے ہیں۔ جب تک ملک کے ٹیکس نظام کو منصفانہ اورعادلانہ بنیادوں پر استوار نہیں کیا جاتا۔ معیشت میں کسی بہتری کی امید کرنا خام خیالی ہوگی۔ امیر اور طاقتور طبقات سے ٹیکس وصول کرنے میں حکومت ناکامی سے نہ صرف معیشت ڈوب رہی ہے بلکہ ملک کی جڑوں کو بھی کھوکھلا کررہی ہے کیونکہ وسائل کی کمیابی کی وجہ سے نہ تو ہم عوام کو بلاتعطل بجلی فراہم کر پا رہے ہیں اور نہ ہی سماجی خدمات اور انفراسٹرکچر کی تعمیر نو کے لیے فنڈز دستیاب ہیں۔ ملک میں بڑے پیمانے پر پائی جانیوالی ٹیکس چوری اور کرپشن کی جڑ FBR کا SROS کرنے کا صوابدیدی اختیار ہے۔ طاقتور پریشر گروپس SROS کے ذریعے ٹیکس لاز کی پابندی سے بچ نکلتے ہیں۔ اس سے کارٹلز کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور انہیں کھُل کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔ بجٹ میں ان کے اس اختیار پر کوئی قدغن نہیں لگائی گئی کیونکہ وزارت خزانہ کے بابو اور FBR اپنے سیاسی آقائوں کی نہایت خوش دلی سے خدمت بجا لاتے ہیں۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں