پاکستان قرض کے منحوس چکر میں پھنس چکا ہے۔ ہر سال پرانے قرضوں اور اصل زر کی قسطوں کی ادائیگی کے لیے مزید قرض لینا پڑتا ہے۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کے قرض میں 980ارب روپے کا اضافہ ہو گیا ہے اور کل قرض کا بوجھ 15ٹریلین روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ اس میں 6.7ارب ڈالر کا وہ قرض شامل نہیں جو نادہندگی سے بچنے اور بیرونی ادائیگیوں کے توازن کے حوالے سے درپیش مشکل صورت حال پر قابو پانے کے لیے حاصل کیا گیا ہے۔ اگر اس صورت حال پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کا معاشی بحران شدید سے شدید تر ہوتا جائے گا۔ 30جون 2013ء کو کل ملکی قرض 14ٹریلین روپے تھا‘ جو جولائی سے ستمبر تک بڑھ کر 15ٹریلین روپے ہو گیا۔ تین ماہ میں ایک ٹریلین کا قرض انتہائی خوفناک معاملہ ہے ۔ ہمارا ملکی قرض 15ٹریلین روپے اور بیرونی قرض 62ارب ڈالر ہے۔ ہمارے قومی وسائل کا بڑا حصہ قرضوں کی خدمت پر خرچ ہو رہا ہے‘ لیکن اس بارے میں پارلیمنٹ کو کبھی اعتماد میں نہیں لیا گیا‘ نہ ہی پارلیمنٹ میں اس بات پر بحث ہوئی ہے کہ قومی وسائل میں اضافہ کر کے قرض کی لعنت سے نجات حاصل کی جا سکے۔ ارکان پارلیمنٹ کے نزدیک ڈرون حملوں سے ہماری خود مختاری سلب ہوتی ہے۔ کیا امریکہ اور اس کے اتحادیوں اور دیگر عالمی اداروں سے بھیک مانگنے سے ہمارے وقار میں اضافہ ہوتا ہے؟ نان ایشوز پر توانائیاں اور وقت ضائع کیا جا رہا ہے۔
سابق حکومت اوسطاً 3سے 4ارب روپے روزانہ کے حساب سے قرض لے رہی تھی تو ڈار صاحب اس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا کرتے تھے۔ اب وہ روزانہ 10سے 11ارب روپے قرض لے رہے ہیں۔ اس کے باوجود وہ تمام معاشی مشکلات پر سابق حکومت کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ اس سال کے بجٹ میں قرض کی خدمت کے لیے 1.2ٹریلین روپے رکھے گئے ہیں جو کل ٹیکس ریونیو کا 61فیصد اور ڈیفنس بجٹ سے دوگنا ہے۔ جولائی سے ستمبر تک ملکی قرض میں ایک ٹریلین روپے اور بیرونی قرض میں 325 ارب روپے کا اضافہ بہت ہی خطرناک صورت حال کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اگلے سال قرض کی خدمت پر 1600ارب روپے سے بھی زیادہ خرچ کرنے پڑیں گے ‘ حکومت سٹیٹ بنک اور کمرشل بنکوں سے بھاری مقدار میں قرض لے رہی ہے۔ اس سے پرائیویٹ سیکٹر کو سرمایہ کاری کے لیے کریڈٹ کی فراہمی مشکل ہوتی جا رہی ہے اور افراطِ زر میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ سٹیٹ بنک نے پہلی سہ ماہی کے جو اعداد و شمار جاری کئے‘ اِن کے مطابق اندرونی قرض 9.52ٹریلین سے بڑھ کر 10.16ٹریلین ہو گیا ہے‘ یعنی 6.7فیصد (640ارب) اضافہ ہوا۔ قلیل مدتی قرض میں 611ارب روپے کا اضافہ ہوا‘ جو جون 2013ء میں 5.2ٹریلین تھا 30ستمبر کوبڑھ کر 5.8ٹریلین ہو گیا۔
فکر مندی کی بات یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی سخت ترین شرائط پر عملدرآمد کے باوجود دیگر عالمی اداروں سے قرض حاصل کرنے میں کامیابی نہیں ہو سکی۔ عالمی بنک نے ایک ارب ڈالر قرض کی منظوری دی تھی لیکن اسے ٹیکس نظام اور انرجی کے شعبے سے متعلق اصلاحات سے مشروط کر دیا ہے۔ 500ملین ڈالر کا ایک اور معاہدہ عالمی بنک کے بورڈ کی منظوری نہ ہونے کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہے۔ آئی ایم ایف سے 6.7ارب ڈالر کا قرض ملنے کے بعد حکومت کو امید تھی کہ عالمی بنک اور دیگر ذرائع سے وسائل کے حصول میں آسانی پیدا ہو جائیگی اور اس سے پاکستان کے پگھلتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا مل جائے گا‘ جو کم ہو کر 4ارب ڈالر سے بھی کم رہ گئے ہیں۔ پاکستان کا خیال تھا کہ اسے عالمی بنک‘ایشین ڈویلپمنٹ بنک‘ اسلامک ڈویلپمنٹ بنک اور دیگر ڈونرز سے اگلے تین سالوں میں 6سے 8ارب ڈالر تک کے وسائل دستیاب ہو جائینگے۔ 2010ء میں جب آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے سٹینڈ بائی پروگرام قبل از وقت ختم کر دیا گیا تھاتو ان اداروں نے پاکستان کو قرض دینے پر پابندی لگا دی تھی۔ اب جبکہ آئی ایم ایف سے قرض کی تجدید ہو چکی ہے‘ عالمی بنک نے قرض کا اجرا منصوبہ بندی کمشن اور پاور سیکٹرریفارم اور ٹیکس اصلاحات سے مشروط کر دیا ہے۔ اسی وجہ سے قرض ملنے کی امیدیں دھندلا گئی ہیں۔
اس ابتر صورتحال سے نکلنے کا ایک ہی طریقہ ہے۔ ٹیکس ریونیو میں اضافہ کیا جائے۔ معاشی ترقی کی رفتارتیز کی جائے۔ روزگار کے نئے مواقع پیدا کئے جائیں۔ اشرافیہ کو دی گئی ناروا ٹیکس چھوٹیں۔ رعاتیں اور سہولتیں ختم کی جائیں اور حکومتی کنٹرول میں چلنے والے اداروں کے نقصانات سے چھٹکارہ حاصل کیا جائے لیکن حکومت اس ایجنڈے پر عملدرآمد کے لیے سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ ن لیگ نے الیکشن سے پہلے بلند بانگ دعوے کئے تھے کہ وہ اقتدار میں آ کر بیرونی قرض کے کینسر سے نجات دلائے گی۔ لیکن اقتدار میں آنے کے فوراً بعد موجودہ حکومت عالمی اداروں سے قرض حاصل کرنے کے لیے اپنی پیش رو سے بھی زیادہ سرگرمی سے ہاتھ پائوں مار رہی ہے۔ Fiscal Responsibility 2010کے ذریعے حکومت کو پابند کیا گیا ہے کہ قرض کو قابو میں رکھنے کے لیے پالیسی تیار کرے تاکہ قرض جی ڈی پی کے 60فیصد سے تجاوز نہ کرے اور ہر سال جنوری کے مہینے میں اس کا جائزہ لے۔ پاکستان کا قرض جی ڈی پی کے 67فیصد سے تجاوز کر چکا ہے۔ اس کو محفوظ حد تک نیچے لانے کے لیے کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ کیونکہ قرض میں تخفیف کے لیے کوئی حکمت عملی تیار نہیں کی گئی۔ حکومت مالیاتی ڈسپلن نافذ‘ کرنے کے سلسلے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی اور حکومتی کنٹرول میں چلنے والے نا اہل اور کرپٹ اداروں کے نقصانات پورے کرنے کے لیے دھڑا دھڑ قرض لیا جا رہا ہے۔ سٹیٹ بنک کے اعداد و شمار کے مطابق ان اداروں کے نقصانات کی وجہ سے قرضوں میں 500سے 600ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کی رائے ہے کہ اگر موجودہ رجحان جاری رہا‘ تو 2015ء تک بیرونی قرض 75ارب ڈالر اور ملکی قرض 20ٹریلین روپے ہو جائے گا۔
ہمیں اپنی حیثیت سے زیادہ خرچ کرنے کی لت پڑ گئی ہے ۔ اسی وجہ سے ہم ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود عالمی اداروں سے بھیک مانگنے پر مجبور ہیں۔ جب غیر ملکی لیڈرز ہمارے حکمرانوں کا لائف سٹائل دیکھتے ہیں تو وہ اس پر خفگی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہیں یہ دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ ایسے ملک‘ جو دیوالیہ ہونے سے بچنے کے لیے بیرونی قرض پر انحصار کر رہا ہے‘ کے حکمران پر تعیش زندگی کے دلدادہ ہیں۔ ملک میں وسائل کی کمی نہیں‘ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ٹیکس سے حاصل ہونیوالی آمدنی کا بڑا حصہ حکمران اشرافیہ اپنی عیش و عشرت پر خرچ کر دیتی ہے۔ سیاسی اور سماجی صورتحال کی بڑی وجہ امیر اور غریب کے درمیان حائل خلیج کا وسیع ہونا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنیوالوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے پاکستان کا موجودہ بحران اقتدار کے بھوکے حریص سیاستدانوں‘ نااہل اور کرپٹ بیورو کریسی کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ قرض سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ملکی وسائل پر حکمران اشرافیہ کا تسلط ختم کیا جائے۔ حکمران اشرافیہ کو جو غیر معمولی مراعات اور سہولتیں حاصل ہیں‘ وہ واپس لی جائیں اور ہر کسی سے اس کی استعداد کے مطابق ٹیکس حاصل کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ اخراجات میں بھی قابل ذکر کمی کی جائے۔