1980ء کی دہائی سے لے کر آج تک پاکستان کی بیشتر حکومتیں مبینہ طور پر مالی کرپشن میں ملوث رہیں اور معاشی فیصلے عوام کی فلاح وبہبود کے بجائے حکمرانوں اور ان کے حواریوں کو مالی فوائد پہنچانے کے لیے کیے جاتے رہے ہیں۔ عوام سابق حکومت کی بری حکمرانی اور مالی کرپشن سے تنگ آئے ہوئے تھے ۔ اس لیے انہوں نے مئی 2013ء کے الیکشن میں ن لیگ کو اقتدار میں لانے کے لیے ووٹ دیئے۔ عوام کا خیال تھا کہ ن لیگ نے اپنے سابق تجربے اور پچھلی حکومت کی معاشی بدانتظامی سے سبق سیکھا ہوگا اور وہ اپنی پرانی غلطیاں نہیں دہرائے گی۔ یاد رہے کہ ن لیگ نے اپنے منشور میں ٹھوس معاشی اصلاحات کا ایجنڈا پیش کیا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد معیشت کو درپیش بنیادی مسائل پر قابو پانے کے لیے سٹرکچرل اصلاحات پر عملدرآمد کیاجائے گا۔ حکومت کی اب تک کی کارکردگی سے ایسا لگتا ہے کہ اس نے اپنے سابق تجربے اور دیگر حکومتوں کی ناکامیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ 1999ء کے بعد سے معیشت کے سٹرکچرل مسائل مزید گہرے ہوچکے ہیں لیکن حکومت نے اپنی سابق روش اور معاشی حکمرانی کے انداز میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ معاشی ترقی حاصل کرنے کے لیے میگا پروجیکٹس پر فوکس کیاجارہا ہے۔ حقیقی وسائل نہ ہونے کے باوجود ملکی اور غیر ملکی ذرائع سے قرض حاصل کرکے یہ بڑے منصوبے شروع کیے جارہے ہیں اور عوام کی شکستہ حالی کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی۔گوادر کو سنگاپور اور دبئی کی طرز پر ڈویلپ کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں اور عوام کو بلٹ ٹرین اور موٹر ویز کی خوشخبریاں دی جارہی ہیں لیکن بڑھتے ہوئے پبلک قرض کے بوجھ اور ملکی آبادی کی اکثریت کی ناگفتہ بہ معاشی صورت حال پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی۔ پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کی باتیں کی جارہی ہیں لیکن یہ خیال نہیں رکھا جارہا کہ بچتوں اور سرمایہ کاری کی پست ترین شرح سے پائیدار معاشی ترقی کیسے ممکن ہوسکتی ہے؟ ہمارا ٹیکس جی ڈی تناسب پست ترین سطح یعنی 9فیصد سے بھی کم ہے۔ اس کو بڑھانے کے لیے کوئی لائحہ عمل تیار نہیں کیا جارہا۔ تجارتی خسارہ کم کرنے اور بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرنے کے سلسلے میں بھی تاحال کوئی
منصوبہ بندی نہیں ہے ۔روپے کی قدر میں اضافہ کرنے کے لیے کمیاب زرمبادلہ کے ذخائر استعمال کیے جارہے ہیں۔ قرض سے حاصل کیے گئے وسائل شہروں میں بسنے والے چند ہزار خاندانوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے استعمال ہورہے ہیں اور عوام کی اکثریت کے مسائل نظر انداز کیے جارہے ہیں۔ بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی خدمت پر خرچ ہورہا ہے اور کوئی دوسرا کام کرنے کے لیے کچھ نہیں بچتا۔ ملکی ذرائع یعنی بنکاری نظام اور ایس بی پی سے بڑی مقدار میں قرض لیاجارہا ہے جو اسراف اور غیر پیداواری منصوبوں پر خرچ کیا جارہا ہے۔دھڑا دھڑ کرنسی نوٹ چھاپنے سے افراط زر میں اضافہ ہورہا ہے۔ برآمدات میں اضافہ کرنے اور ملک کی زرمبادلہ کمانے کی گنجائش میں اضافہ کرنے کی بجائے بیرونی ذرائع سے قرض حاصل کرنے پر انحصار بڑھایا جارہا ہے۔صورت حال کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ کل پبلک قرض جی ڈی پی کے ستر فیصد کے برابر ہوچکا ہے۔ ملک میں جمودی افراط زر( Stagflation)کی صورت حال ہے اور روزگار کے نئے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے بے روزگاری میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ایسے افراط زر پر قابو پانے کی بجائے چند ہزار نوجوانوں کو سبسڈائزڈ ریٹ پر قرض دیاجارہا ہے ۔کیا اس افراط زر سے چھٹکارا پایا جاسکتا ہے؟ یہ ن لیگ کے پچھلے دور حکومت کی پیلی ٹیکسی سکیم جیسی gimmicہے۔
اس ساری صورت حال سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت کے طرز حکمرانی اور معاشی سوچ میں تبدیلی کے کوئی آثار نہیں؛ تاہم پیچ ورک اور اعدادو شمار کے جوڑ توڑ کے ذریعے نہایت موثر پبلسٹی مہم کا آغاز کیاگیا ہے تاکہ عوام کو یہ تاثر دیاجاسکے کہ معیشت کی بحالی کا عمل شروع ہوچکا ہے اور خوشحالی ان کے دروازے پر دستک دینے والی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت عوام کو لالی پاپ سے بہلانے کی کوشش کررہی ہے اور صرف کاسمیٹک تبدیلیوں سے کام چلایا جارہا ہے ۔حکومت ایسی پالیسی اصلاحات سے احتراز کررہی ہے جن سے اشرافیہ کے طاقتور افراد کے زد میں آنے کا احتمال ہو کیونکہ اس طبقے کے اکثر افراد حکومت کا حصہ ہیں۔ حکومت جن سیکٹرز میں وقتی، عارضی کامیابیوں کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے،ان کے دیرپا بنیادی مسائل جوں کے توں ہیں۔ انہیں حل کرنے کے لیے کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ موجودہ حکومت نے لوڈشیڈنگ اور انرجی سیکٹر کے مسائل پر قابو پانے کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھا تھا لیکن وسط اپریل سے ہی ملک میں بارہ سے سولہ گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔ دوسری جانب بجلی کے ٹیرف میں دوگنا اضافہ کرکے عوام پر بجلی گرادی گئی ہے۔ جون 2013ء میں 480ارب روپے کے گردشی قرض کی ادائیگی کردی گئی تھی لیکن اب پھر سرکلر قرض 330ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے۔ رینٹل پاور پروڈیوسر کو سبسڈی دی جارہی ہے ۔کرنسی نوٹ چھاپ کر ان کے بقایا جات کی ادائیگی کی جارہی ہے اور انہیں غیر مناسب پرافٹ مارجن دیئے جارہے ہیں۔ بجلی چوری ، کرپشن اور ڈسٹری بیوشن نقصانات پر قابو پانے کے لیے جن سٹرکچرل اصلاحات کی ضرورت ہے اس سلسلے میں کچھ بھی نہیں کیاجارہا ۔ اسی طرح واپڈا ملازمین کو مفت بجلی مہیا کی جارہی ہے جس کا کوئی قانونی جواز نہیں۔ اس کا بوجھ عام صارفین پر پڑتا ہے اور بجلی کا ضیاع بھی ہوتا ہے۔ اگر مفت سپلائی بند کردی جائے تو بجلی کی لاگت میں کچھ کمی آنے کے علاوہ لوڈشیڈنگ میں بھی کچھ تخفیف ہو سکتی ہے۔ اس سلسلے میں بھی ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیاگیا۔ حکومت نے ایسی ادائیگیاں،جو 2013-14ء میں ہونا تھیں،جون 2013ء میں کرکے 2012-13ء کا مالیاتی خسارہ بڑھا دیا اور پھر بجٹ میں چند علامتی اقدامات اور مالیاتی اکائونٹ کے اعدادو شمار کو جوڑ توڑ کر 2013-14ء کے مالیاتی خسارے کا ہدف کم کرنے کا دعویٰ کردیا۔ علاوہ ازیں کشکول توڑنے کے اپنے وعدے کے برعکس بجٹ سپورٹ کے لیے بڑی حد تک بیرونی قرض پر انحصار کیا۔جب بیرونی وسائل مطلوبہ مقدار میں نہ ملے اور ٹیکس ریونیو کا ہدف پورا ہوتا نظر نہ آیا تو ٹیکس ریونیو کا ہدف 2475ارب روپے سے کم کرکے 2345ارب مقرر کردیا اور ترقیاتی پروگرام کے لیے بھی بہت کم فنڈز مہیا کیے۔ حکومت نے سٹیٹ بینک سے بھاری مقدار میں قرض لینا شروع کردیا جو عوام پر ایک قسم کا پوشیدہ ٹیکس ہے۔ بجٹ سے متعلق آئی ایم ایف کی شرائط پر پورا اترنے کے لیے کئی قسم کی اکائونٹنگ چالبازیوں سے کام لیاگیا۔ اس طرح حکومت آئی ایم ایف کو تو شاید قائل کرسکتی ہو لیکن بجٹ کی بنیادی کمزوریاں جوں کی توں ہیں۔ موجودہ حکومت نے سٹیٹ بینک سے سابق حکومت سے بھی کہیں زیادہ قرض لیا لیکن اعدادو شمار کے جوڑ توڑ سے جو پرائس انڈیکس تیار کیے گئے۔ ان پراس کی پرچھائیں تک نہیں پڑنے دی۔ عوام حقیقی زندگی میں دو عددی افراط زر کا بوجھ برداشت کررہے ہیں لیکن سرکاری اعدادو شمار کے مطابق افراط زر صرف9.2فیصد ہے۔ بینکاری نظام سے جاری حکومتی قرض کی وجہ سے بینکو ں کے خالص ملکی اثاثوں میں کئی گنا اضافے اور نقدیت کے پھیلائو کے باوجود افراط زر کی شرح 9.2فیصد کیسے ہوسکتی ہے؟ اس بارے میں کچھ نہیں بتایا جارہا ۔
حکومت نے بیرونی قرضوں کی خدمت کے سلسلے میں نادہندگی سے بچنے کے لیے آئی ایم ایف سے 6.8ارب ڈالر کا قرض لیا اور سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے گرتے ہوئے ذخائر کو سہارا دینے کے لیے بیرونی ذرائع سے بڑے پیمانے پر قرض حاصل کیا۔ اس سے کلیاتی معاشی مظاہر میں بہتری کے آثار نمودار ہورہے ہیں لیکن یہ بہتری عارضی ہے۔ پائیدار معاشی ترقی اور معیشت کی بنیادوں کو مضبوط بنانے کے لیے پالیسی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ مشرف اور سابق حکومت کے ابتدائی دنوں میں یہی کچھ کیا گیاتھا لیکن جب وہ رخصت ہوئے تو معیشت بہت بری حالت میں تھی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ معیشت کی اصل صورت حال کے بارے میں عوام کو اعتماد میں لے اور سٹرکچرل اصلاحات پر عملدرآمد کا آغاز کردے تاکہ بجٹ اور بیرونی سیکٹر کے معاملات میں دیرپا بہتری لائی جاسکے۔سٹرکچرل معاشی اصلاحات کے بغیر معاشی انحطاط کا عمل دوبارہ شروع ہوجائے گا جیسا کہ مشرف دور اور سابق حکومت کے آخری دنوں میں ہوا۔