ایف بی آر پچھلے کئی سالوں سے ٹیکس ریونیو کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے ۔اس سال بجٹ میں ٹیکس ریونیو کا ہدف 2475ارب روپے رکھا گیا تھا۔اس پر نظر ثانی کر کے 2345ارب روپے کر دیا گیا۔اب اسے مزید گھٹا کر 2270ارب روپے مقرر کیا گیا ہے ۔ایف بی آر کی اس کارکردگی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ متعدد حکومتیں ٹیکس چوری میں ملوث افراد کے خلاف ایکشن لینے سے پہلو تہی کرتی رہی ہیں۔حال ہی میں میں ایف بی آر نے جو ٹیکس ڈائریکٹری شائع کی،اس کے مطابق صرف 8لاکھ 90ہزار افراد نے ٹیکس ادا کیا ہے جبکہ ٹیکس نمبراین ٹی این ہولڈرز کی تعداد 3.6ملین ہے۔ایف بی آر کے چیئرمین نے نومبر 2013ء میں واضح کیا تھا کہ سابق اور موجودہ حکومت نے ٹیکس چوری میں ملوث افراد کو جو غیر معمولی ٹیکس چھوٹیں اور رعائتیں دینے کے علاوہ ٹیکس ایمنسٹی سکیمیں جاری کی ہیں ، ان سے ایف بی آر کی ریونیو اکٹھا کرنے کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔موجودہ حکومت امرا اور طاقتور طبقوں پر ٹیکس عائد کرنے سے پہلو تہی کر رہی ہے۔20کروڑ کی آبادی والے ملک میں صرف 15000افراد نے دس لاکھ سے زیادہ آمدنی دکھائی ہے۔اگر پانچ لاکھ امیر ترین لوگ اپنے حصے کا پورا ٹیکس ادا کر دیں تو پاکستان کو قرضوں کی ضرورت نہ رہے۔حکومت نے نومبر 2013ء میں اپنے حمایتی بااثر کاروباری افراد کے لیے غیر معمولی ٹیکس چھوٹوں کا اعلان کیا۔اس کے بعدایس آر او ایس کے ذریعے ان پر عملدرآمد کیا۔ اس سے ن لیگ نے اپنی سابق روش اور معاشی طرز حکمرانی پر مہر تصدیق ثبت کر دی کہ وہ ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کے خلاف ایکشن لینے سے پہلو تہی کرتی ہے ۔وزیراعظم نے جس ٹیکس ریلیف پیکیج کا اعلان کیا،اس کے تحت کاروباری حلقے کے 26میں سے 25مطالبات مان لیے گئے۔ اس سے ایف بی آر کی کارکردگی مزید کمزور ہو گئی۔
اس سال کے پہلے دس مہینوں میں ایف بی آرنے 1743ارب
روپے کا ریونیو اکٹھا کیا۔باقی دو مہینوں میں اگر 527ارب روپے اکٹھے کر لیے تو 2270ارب حاصل ہو سکے گا جو مشکل نظر آتا ہے ۔ٹیکس ریلیف پیکیج کا اعلان ہوتے وقت ماہرین نے پیش گوئی کی تھی کہ یہ سکیم کامیاب نہیں ہو گی ،کیونکہ انکم ٹیکس آرڈی ننس کی شق(4)111کی رو سے اس سکیم سے زیادہ سہولتیں میسر ہیں، جس سے کاروباری حلقے غیر ذمہ دار عناصر کی ملی بھگت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔یہ شق پوشیدہ اثاثوں اور غیر ٹیکس شدہ آمدنی کو سفید دھن میں تبدیل کرنے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔یہ شق غیر ذمہ دار عناصر کی ناجائز ذرائع سے کمائی ہوئی آمدنی اوردیگر اثاثوں کو مکمل تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اگر کوئی اپنی دولت بیرون ملک سے بینکوں کے ذریعے پاکستان بھیجتا ہے اور بیرونی کرنسی ریاست کے حوالے کر دیتا ہے اور اس کے بدلے پاکستانی کرنسی حاصل کر لیتا ہے تو اس سے کوئی سوال/جواب نہیں پوچھا جاتا اور اس کی دولت سفید تصور کی جاتی ہے۔
انکم ٹیکس آرڈی ننس کے نفاذ کے آغاز سے ہی اکثر ماہرین اس شق کے مضر اثرات سے حکومت کو آگاہ کرتے رہے ہیں،لیکن حکمرانوں نے کبھی اس شق کو حذف کرنے کی کوشش نہیں کی۔اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ وہ خود بھی اس سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔وزیر اعظم نے معیشت کی بحالی کے لیے ٹیکس کلچر کو فروغ دینے اور صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے ٹیکس ریلیف کے ترغیبی پیکیج کا اعلان کیا۔اس سکیم کے تحت تمام نیشنل ٹیکس نمبر ہولڈرز ،جنہوں نے پچھلے پانچ سالوں میں کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا تھا،اگروہ بیس ہزارروپے سالانہ کے حساب سے ٹیکس ادا کر دیں تو وہ آڈٹ ڈیفالٹ سرچارج اور ہر قسم کے جرمانے سے مستثنیٰ ہوں گے۔ اسی طرح جن افراد نے پچھلے پانچ سال میں ٹیکس ریٹرن فائل نہ کیا ہو، وہ پچیس ہزار روپے سالانہ کے حساب سے ٹیکس ادا کر دیں تو وہ بھی آڈٹ ڈیفالٹ سرچارج اور ہر قسم کے جرمانے سے مستثنیٰ ہوں گے اور انہیں اگلے پانچ سال بھی آڈٹ سے استثنیٰ حاصل ہو گا۔اس سکیم کی میعاد 28فروری تک تھی ،لیکن اس میں دو ماہ کا اضافہ کر دیا گیا اوریہ 30اپریل 2014ء کو ختم ہو گئی۔یہ سکیم مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی۔پرائم منسٹر کے ریلیف پیکیج کے اعلان کے بعد ٹیکس چوری میں ملوث ہزاروں افراد کا آڈٹ ترک کر دیا گیا،حالانکہ آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ آئندہ ایس آر او کے ذریعے کوئی بھی ٹیکس چھوٹ یا رعایت نہیں دی جائے گی۔اس کے باوجود ٹیکس ریلیف پیکیج دیا گیا۔معیشت کو ڈاکومنٹ کرنے کے لیے بجٹ میں کئی اقدام منظور کئے گئے تھے لیکن وزیر خزانہ نے ایس آر اوکے ذریعے وہ تمام اقدام واپس لے لئے۔پارلیمنٹ نے ایک قانون کی منظور ی دی تھی ،جس کے مطابق بنکوں کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ دس لاکھ یا اس سے زائد مالیت کے سودوں سے ایف بی آر کو مطلع کریں گے۔ اس قانون کو بھی ایس آر او کے ذریعے معطل کر دیا گیا۔
دسمبر 2013ء کو ایف بی آر کے ترجمان نے ایک کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے تسلیم کیا تھا کہ پچھلے پانچ سالوں میں جتنے ایس آر او جاری کئے گئے وہ سب کاروباری افراد کی ڈیمانڈ پر جاری
ہوئے تھے اور یہ کہ ایف بی آر ، ایس آر اوز سے تنگ آ چکا ہے اور چاہتا ہے کہ یہ اختیار پارلیمنٹ کو سونپ دیا جائے۔2013ء میں ہزاروں کیس آڈٹ کے لیے چنے گئے تھے۔اس سے ایف بی آر کو ٹیکس ریونیو کا ہدف حاصل کرنے میں مدد مل سکتی تھی ،لیکن وزیر اعظم کے پیکیج کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا۔ایف بی آر اب نظرثانی شدہ ہدف حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے ،جسے مزید کم کرکے 2270ارب روپے کر دیا گیا ہے۔اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ہر قسم کے طریقے استعمال کیے جارہے ہیں ۔ٹیکس ریونیو میں 16فیصد اضافہ دکھانے کے لیے اربوں روپے کے ریفنڈ روک لیے گئے ہیں اور بڑے ٹیکس دہندگان سے پیشگی وصولی کی جا رہی ہے۔ سینیٹ کی سب کمیٹی نے اس بے ضابطگی کا نوٹس لے رکھا ہے۔ایف بی آر کے چیئرمین نے تسلیم کیا ہے کہ 97ارب روپے کے ریفنڈ روک رکھے ہیںجبکہ سینیٹ کی سب کمیٹی کا خیال ہے کہ 400ارب سے زیادہ کے ریفنڈ روک رکھے ہیں۔پرائم منسٹر کی ایمنسٹی سکیم کے بارے میں حکومت کے سرگرم حمایتیوں نے سرد مہری کا اظہار کیا ہے اور صرف 300افراد نے اس سے فائدہ اٹھایا ہے اور ان سے 100ملین روپے سے بھی کم حاصل ہو سکے ہیں۔اس سکیم کی ناکامی تسلیم کرنے کی بجائے وزیر خزانہ نے ایف بی آر کی سرزنش کی ۔ایف بی آر کا کہنا ہے کہ ایس آر اوز کے ذریعے رعائتیں دینے کی وجہ سے تقریباً دو تہائی درآمدات پر ڈیوٹی وصول نہیں کی جا سکی۔یہ ایس آر اوز چند بزنس ہائوسز کو فائدہ پہنچانے کے لیے جاری کئے جاتے ہیں۔اگر یہ ایس آر اوز منسوخ کر دیے جائیں تو ہدف سے زیادہ ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہے۔اگر انڈر انوائسنگ اور جعلی ریفنڈ کے کیسز پر قابو پا لیا جائے تو آسانی سے ہدف سے زیادہ ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہے ۔
یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ اس صورت حال کے باوجود وزیر خزانہ فرماتے ہیںکہ معیشت درست سمت میں گامزن ہے۔تقریباً دو تہائی ریونیو ان کے سامنے چوری کر لیا جاتا ہے ،امراء ٹیکس نیٹ سے باہر رہتے ہیں جبکہ اور عوام کو روز مرہ ضروریات زندگی کی اشیاء پر 17سے 19فیصد جی ایس ٹی ادا کرنا پڑتا ہے۔جب انگریز سرکار نے نمک پر ٹیکس لگایا تھا تو اس وقت کے قائدین نے اس کے خلاف زبردست احتجاج کیا تھا ،حکومت کو وہ ٹیکس واپس لینا پڑا تھا اور آج جب ہم آزاد قوم ہیں تو ہمارے حکمران روز مرہ استعمال کی چیزوں پر زیادہ سے زیادہ ٹیکس لگا کر عوام کی معاشی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں۔لیکن سیاسی قائدین اور نہ ہی سول سوسائٹی کے کسی موثر طبقے نے اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔بڑی بڑی بزنس ایمپائر زکے مالکان ٹیکس ادا کئے بغیر پیسے کی طاقت سے الیکشن جیتتے ہیں ۔وہ اعلیٰ ترین حکومتی عہدیداروں یا ان کے قریبی رفقاء کی ملکیت ہیں۔امراء اور طاقتور طبقات اربوں روپے کے اثاثے بیرون ملک رکھتے ہیں ، ایف بی آر کو ٹیکس ڈیفالٹرز کی ڈائریکٹری شائع کرنی چاہیے ،جس میں اہل ثروت پراپرٹی مالکان ،متمول ڈاکٹروں ،پروفیشنلز سیاستدانوں،کاروباری افراد،اعلیٰ حکومتی عہدیداروں اور ان کے اہل خانہ کے نام ظاہر کئے جائیں جو اربوں روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں اور یا تو وہ ٹیکس ادا نہیں کرتے یا بہت کم آمدنی ظاہر کر کے دکھاتے ہیں۔