سٹیٹ بینک آف پاکستان نے 17 مئی کو نئی زری پالیسی کا اعلان کیا اور کاروباری برادری کی توقعات کے برعکس پالیسی ریٹ میں کسی تبدیلی کے بغیر اسے 10 فیصدکی سطح پر برقرار رکھا۔ چونکہ معیشت کے بارے میں کاروباری افراد میں مثبت رجحان پایا جا رہا ہے اور کلیاتی معاشی مظاہر میں بہتری کے آثار نمودار ہو رہے ہیں، لہٰذا مارکیٹ میں توقع کی جا رہی تھی کہ پالیسی ریٹ میں کمی کا جواز ہے؛ تاہم ایسا لگتا ہے کہ سٹیٹ بینک کلیاتی معاشی مظاہر میں پائے جانے والے مثبت رجحان کے بارے میں مکمل طور پر یکسو نہیں۔ شاید اسی لیے اس نے پالیسی ریٹ میں کمی کرنے کے بجائے''دیکھو اور انتظار کرو‘‘ کی پالیسی کو ترجیح دی۔
پالیسی ریٹ کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ محتاط رویے کا نتیجہ ہے یا آئی ایم ایف کی شرائط کا آئینہ دار، اس سے قطع نظر سٹیٹ بینک نے اپنے پالیسی بیان میں کہا ہے کہ یہ فیصلہ تمام متعلقہ عوامل کا گہرا جائزہ لے کر کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے حق میں سب سے وزنی دلیل یہ دی گئی کہ حالیہ دنوں میں معیشت کے بارے میں جو اعتماد کی فضا پیدا ہوئی اس کی وجہ سے کلیدی معاشی مظاہر میں بہتری نظر آئی‘ اس رجحان کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ اس کی سطح برقرار رکھی جا سکے۔ اس سال افراط زر (کنزیومر پرائس انڈیکس) کی اوسط شرح 10 فیصد سے کم رہی لیکن اس رجحان کو قائم رکھنے کے لیے چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ سال یکم جولائی سے امسال 30 اپریل تک افراط زر کی اوسط شرح 8.7 فیصد رہی جو 8 فیصد کے ہدف سے زیادہ ہے۔ سٹیٹ بینک کا خیال ہے کہ اگر بیرونی صدمات درپیش نہ آ ئے تو اگلے سال افراط زر 8 فیصد رہنے کا احتمال ہے اس لئے کہ
2014ء میں ملک کی مجموعی طلب میں اضافے کی توقع نہیں۔ زر کے پھیلائو میں بھی کمی کی توقع ہے کیونکہ بجٹ سپورٹ کے لیے بینکاری نظام سے حکومتی قرض میں کمی واقع ہو گی۔ عالمی مارکیٹ میں کموڈٹی کی قیمتیں مستحکم رہنے اور افراط زر کے دبائو میں کمی کی توقعات ہیں۔2013-14ء کے لیے معاشی ترقی کی شرح نمو کا تخمینہ 4.1 فیصد ہے۔ اس سال کے پہلے نو ماہ میں پرائیویٹ سیکٹر کو کریڈٹ کی فراہمی پچھلے سال اسی عرصے کے مقابلے میں ڈھائی گنا زیادہ ہوئی۔ جولائی سے مارچ 2014ء تک تجارتی خسارہ 12.20 ارب ڈالر کی بلند سطح پر ہے اور اس سال کی تیسری سہ ماہی کے دوران موثر ایکسچینج ریٹ میں 8 فیصد اضافہ ہوا؛ چنانچہ بیرونی ادائیگیوں کے توازن پر اثرات کا بغور جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
جہاں تک مالیاتی سیکٹرکا تعلق ہے بجٹ میں مقرر کیے گئے ہدف سے کم ریونیو وصول ہونے کے باوجود جولائی سے مارچ تک مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 3.1 فیصد تک محدود رہا، نتیجتاً بجٹ سپورٹ کے لیے جولائی سے 2 مئی تک بینکاری نظام سے حکومتی قرض صرف 276 ارب روپے رہا۔ اس دوران حکومت نے سٹیٹ بینک کا 287 ارب روپے کا قرض بھی واپس کیا۔ آئی ایم ایف نے سٹیٹ بینک سے قرض لینے کا جو ہدف مقررکیا تھا حکومت نے اس سے کم قرض لیا۔
پالیسی ریٹ میں کمی نہ ہونے کی وجہ سے کاروباری برادری کو کسی حد تک مایوسی ہوئی؛ تاہم موجودہ حالات میں پالیسی ریٹ کو 10 فیصد پر برقرار رکھنا کئی وجوہ کی بنا پر درست فیصلہ ہے۔ سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ ملک کی زری پالیسی پر اثرانداز ہونے والے کلیدی معاشی عوامل مستحکم نہیں ہوئے اور ان کے مستقبل کے رجحان کے بارے میں کوئی پیش گوئی کرنا بہت مشکل ہے۔ مثال کے طور پر افراط زر میں نومبر تک تیزی سے اضافہ ہوا، اس کے بعد چند مہینوں میں افراط زر میں کچھ کمی ہوئی اور اپریل میں پھر بڑھ کر 9.2 فیصد ہوگیا۔ سٹیٹ بینک کا خیال ہے کہ 2014-15ء میں افراط زر 8 فیصد رہے گا لیکن یہ توقع خوش کن مفروضوں پر مبنی ہے۔ جہاں تک بیرونی سیکٹرکا تعلق ہے، ابھی تک جاری ادائیگیوں کا خسارہ قابل برداشت ہے، حالیہ دنوں میں سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے لیکن یہ بہتری سٹرکچرل اصلاحات سے نہیں آئی بلکہ دوست ممالک سے عطیات وصول ہونے کے علاوہ یورو بانڈ کی فروخت اور بیرونی ذرائع سے قرض حاصل کرکے لائی گئی ہے۔ اگرچہ روپے کی قدر میں تیزی سے اضافہ ہونے کے پورے اثرات آنے والے دنوں میں واضح ہوں گے لیکن ایک بات یقینی ہے کہ اس سے جاری ادائیگیوں کے خسارے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
ایسے موقع پر جب افراط زر کی شرح ہدف سے زیادہ ہے اور جاری ادائیگیوں کے خسارے کی صورت حال طویل عرصے تک قابل برداشت نہیں ہے تو مناسب یہی تھا کہ سٹیٹ بینک پالیسی ریٹ میں کوئی تبدیلی کرنے سے پہلے مثبت عوامل کے جڑ پکڑنے کا انتظار کر لیتا۔ زری پالیسی بیان میں سٹیٹ بینک نے چند تحفظات کا بھی ذکر کیا جو کسی قدر غیر معمولی لگتے ہیں۔ سٹیٹ بینک نے حالیہ معاشی رجحانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شرح سود معاشی سرگرمیوں پر اثرانداز ہونے والا واحد عامل نہیں بلکہ معیشت کے بارے میں اعتماد کی فضا پیدا ہونے، کسی حد تک انرجی کی بہتر سپلائی اور بینکاری نظام سے حکومتی قرض میں کمی کی وجہ سے پرائیویٹ سیکٹر کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ کاروباری برادری کا کہنا ہے کہ شرح سود کاروباری لاگت کا بڑا عنصر ہے، اس لیے پالیسی ریٹ میں کمی ہونی چاہیے تاکہ برآمدات کی مسابقتی پوزیشن میں بہتری لائی جا سکے اور درآمدات اور افراط زر میں کمی کی جا سکے۔ سٹیٹ بینک نے کاروباری افراد کی اس دلیل کو رد کرتے ہوئے زور دے کر کہا ہے کہ شرح سود کاروباری لاگت پر اثر انداز ہونے والے کئی عوامل میں سے ایک ہے۔ یہ کہنا تو مشکل ہے کہ آیا کاروباری برادری سٹیٹ بینک کی اس دلیل سے مطمئن ہوئی ہے یا نہیں، لیکن تمام سٹیک ہولڈرزکو چاہیے کہ وہ اس بات پر سنجیدگی سے غور کریں کہ شرح سود کاروباری لاگت اور معاشی ترقی کے امکانات پر کس حد تک اثر انداز ہوتی ہے۔
زری پالیسی بیان کا ایک اور حیران کن پہلو یہ ہے کہ اس میں مالیاتی پالیسی کی بنیادی کمزوریوں کا ذکر کیا گیا ہے اور نہ ہی اس کی غیر محافظت کا کیونکہ بجٹ سپورٹ کے لیے بیرونی وسائل کی آمد پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے، اس کی بجائے موجودہ مالیاتی پالیسی کا ذکر مثبت انداز میں کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے سٹیٹ بینک ہمیشہ مالیاتی پالیسی کی کمزوریوںکو نمایاں کرکے بیان کیا کرتا تھا اور صاف لفظوں میںکہا جاتا تھا کہ مالیاتی پالیسی کی خامیاں زری پالیسی پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ یہ بجٹ سے پہلے اس سال کی آخری زری پالیسی تھی اس لیے سٹیٹ بینک کو ان ایشوزکے بارے میں بھی اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہیے تھا جن کی وجہ سے نہ صرف بینکوں میں ڈیپازٹ رکھنے کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے بلکہ ملکی بچتوں اور سرمایہ کاری پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔