پاکستان ٹیکس چوروں کی جنت ہے

پاکستان میں اس بات پر تقریباً سبھی لوگ متفق ہیں کہ ٹیکس اکٹھا کرنے والا شعبہ نہ صرف کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے بلکہ پروفیشنلز م اور اہلیت سے بھی عاری ہے۔بہت سے سیاستدان اور بیورو کریٹ انکم ٹیکس ریٹرنز فائل نہیں کرتے لیکن متعلقہ ادارہ ان کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کرتا۔اس سے بلا شبہ اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ٹیکس اکٹھا کرنے والا ادارہ صرف امراء اور طاقتور افراد کے مفاد کا تحفظ کرتا ہے۔مراعات یافتہ طبقات ایس آر اوز کے ذریعے بے شمار ٹیکس چھوٹیں اور رعائتیں حاصل کر رہے ہیں‘جو بری حکمرانی اور مالیاتی بدانتظامی کی بدترین مثال ہے۔بدقسمتی سے موجودہ حکومت اس عمل کو جاری رکھے ہوئے ہے‘ حالانکہ یہ آئین کے آرٹیکل 77اور 162کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور اس کی وجہ سے صوبوں کو ملنے والے ریونیو میں بھی کمی ہو جاتی ہے۔صوبوں کو چاہیے کہ وہ اسے کونسل آف کامن انٹریسٹ کے فورم پر زیر بحث لائیں اور اس قسم کے غیر آئینی اور امتیازی قواعد و ضوابط کا سلسلہ بند کرائیں تاکہ وہ اپنے حصے کا پورا ریونیو حاصل کر سکیں۔ 
ایس آر اوز کے ذریعے ذاتی مفاد کے تحفظ کی بدترین مثال مئی 2012ء میں سامنے آئی جب گریڈ 20سے 22تک کے افسران کے ٹرانسپورٹ الائونس پر ٹیکس ریٹ کم کر کے صرف 5فیصد مقرر کر دیا گیا۔ بیوروکریسی کے اعلیٰ ترین عہدیداروں کے لیے یہ رعایت پارلیمنٹ کو بائی پاس کر کے حاصل کی گئی اور آڈیٹر جنرل نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا کیونکہ وہ بھی اس سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ بیورو کریٹ کیسے ملک کو لوٹتے ہیں۔ جہاں تک پرائیویٹ سیکٹر کے ملازمین کا تعلق ہے ان کو اس الائونس پر نارمل ریٹ پر ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ وزیر خزانہ نے 2014-15ء کے بجٹ میں بھی اس معاملے میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔یہ ٹیکس رعایت صرف فیڈرل گورنمنٹ کے گریڈ 20سے گریڈ 22 تک کے اہلکاروں کو میسر ہے۔اس رعایت کا کوئی جواز نہیں‘ لہٰذا اسے فوراً واپس لیا جانا چاہیے۔اسی طرح ایف بی آر نے بھی پارلیمنٹ کے کسی ایسے ممبر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی‘ جو اپنے ٹیکس ادا کرنے کی ذمہ داریوں سے قاصر رہے ہیں۔اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ متعلقہ ادارے اور پارلیمنٹ کے ٹیکس نادہندہ ممبران کے درمیان ایک قسم کا گٹھ جوڑ ہے جس کی رو سے دونوں فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اس سے ورک فورس کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ایک اور مسئلہ ٹیکس چوروں کو کھلی چھٹی دینے کا ہے کہ وہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق(4)111کے ذریعے اپنا کالا دھن ٹیکس ادا کئے بغیر سفید کرا سکتے ہیں اور یہ سہولت ان لوگوں کو بھی میسر ہے جنہوں نے کبھی انکم ٹیکس ریٹرنز فائل نہ کیے ہوں۔ 
اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ حکومت ٹیکس نیٹ وسیع کر کے ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کے بارے میں کتنی سنجیدہ ہے۔اگر ایف بی آر موثر کارروائی کرتاتو ایسے تمام افراد‘ جن کی آمدنیTaxable Limitسے زیادہ ہے‘ انہیں ٹیکس ریٹرن فائل کرنے اور اپنے حصے کا ٹیکس ادا کرنے پر مجبور کر سکتا تھا۔ ایسے افراد کی تعداد 20ملین سے کم نہیں۔صوبائی ریونیو بورڈ بھی اتنے ہی نااہل اور غیر موثر ہیں۔زرعی انکم ٹیکس 2000ء میں نافذ کیا گیا تھا لیکن صوبائی حکومتیں زرعی ٹیکس اور دیگر محصولات وصول کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہیں۔وزیر خزانہ نے 10جون 2014ء کو صوبائی حکومتوں کو زرعی ٹیکس کی بے حد قلیل مقدار اکٹھا کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ زراعت کا جی ڈی پی میں حصہ21فیصد ہے لیکن ٹیکس ریونیو میں اس سیکٹر کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے ۔وزیر خزانہ نے سینیٹ کے اجلاس میں انکشاف کیا کہ 2013-14ء میں پنجاب نے صرف 700ملین اور صوبہ سندھ نے 300ملین زرعی ٹیکس اکٹھا کیا ہے۔ اگر یہ کام کسی خود مختار اور اہل ادارے کے سپرد ہوتا تو کم از کم 100ارب روپے زرعی ٹیکس اکٹھا کیا جا سکتا تھا۔عالمی بنک نے ایف بی آر کو ایک پانچ سالہ ٹیکس ایڈمنسٹریشن ریفارم پروجیکٹ (TARP)پر عملدرآمد کے لیے سینکڑوں ملین ڈالرکا قرض دیا تھا جسے ایف بی آر نے ضائع کر دیا۔ پاکستان کی درخواست پر یہ پروگرام ایک سال کے لیے بڑھا بھی دیا گیا تھا؛ تاہم ایف بی آر اس پروگرام کے آغاز سے لے کر آج تک ٹیکس نیٹ وسیع کرنے‘ ریونیو کے اہداف حاصل کرنے‘ ٹیکس اور کرپشن پر قابو پانے‘ سیلز ٹیکس پر مکمل عملدرآمد کرنے‘ براہ راست ٹیکسوں کا حصہ بڑھانے اور ٹیکس جی ڈی پی تناسب میں اضافہ کرنے جیسے تمام محاذوں پر بری طرح ناکام ہوا ہے۔ ٹی اے آر پی پروگرام کے آغاز پر ٹیکس جی ڈی پی تناسب 9.4فیصد تھا اور اس کے اختتام پر گر کر 8.8فیصد رہ گیا۔یہ پاکستان میں ٹیکس ریفارم کی انتہائی افسوناک کہانی ہے۔وسائل اور ماہرانہ صلاح کاری کی دستیابی کے باوجود ایف بی آر ابھی تک ایک خود کار انٹیلی جنس سسٹم تیار نہیں کر سکا‘ جس کی مدد سے ٹیکس چوری اور کرپشن پر قابو پایا جا سکے۔عالمی بینک نے TARPکے اختتام پر Implementation Completion And Result Reportجاری کی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں جی ایس ٹی (سیلز ٹیکس) کا دائرہ بہت ہی محدو د ہے اور 2005ء سے 2012ء تک اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی حالانکہ ریفارمڈ جی ایس ٹی کے ذریعے بالواسطہ ٹیکسوں کے ڈھانچے اوورہال کرنے کی بھی کوشش کی گئی تھی جو کامیاب نہ ہوسکی۔وقت گزرنے کے ساتھ پارلیمنٹیرینز اور ٹیکس ایڈمنسٹریشن نے مل کر پاکستان کو ٹیکس چوروں اور لوٹ کھسوٹ کرنے والوں کی جنت بنا دیا ہے۔ پاکستان واحد ملک ہے جہاں 70فیصد پارلیمنٹیرین ٹیکس ریٹرنز فائل نہیں کرتے اور پھر کہتے ہیں کہ انہیں جو معاوضہ ملتا ہے اس میں سے ٹیکس کٹ جاتا ہے‘ اس لئے ٹیکس ریٹرنز فائل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔حکومتی اہلکاروں کی اکثریت کی بھی یہی پوزیشن ہے جن میں ٹیکس اکٹھا کرنے کے ذمہ دار ادارے کے 1020افسران بھی شامل ہیں۔ 
انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق (4)111 کے ذریعے ٹیکس چوروں کو کھلی چھٹی دے دی گئی ہے کہ وہ اپنا کالا دھن سفید کرا لیں۔ اس مقصد کے لیے کسی بھی منی ایکسچینج کو لوکل کرنسی اور معمولی کمیشن دے دیا جائے تو وہ اس کے بدلے میں ترسیلات زر کا اہتمام کر دیتا ہے ۔ جس سے Untaxedآمدنی سفید ہو جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ سہولت معیشت کی افزائش کے لیے ضروری ہے۔ اس قسم کی کارروائی نے ہمارے معاشرے کے ڈھانچے کو تہس نہس کر کے رکھ دیا ہے۔ انہی کی وجہ سے ملک میں ٹیکس کلچر پروان نہیں چڑھ سکا۔بدقسمتی سے اس قسم کی پالیسیوں کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے۔وقت کا تقاضا ہے کہ ایف بی آر کو بند کر کے ایک قومی ٹیکس اتھارٹی NTAتشکیل دی جائے‘ جو مرکز‘ صوبوں اور مقامی حکومتوں کے لیے ٹیکس اکٹھا کرنے کی ذمہ دار ہو۔ این ٹی اے خود مختار ہو اور پروفیشنل بورڈ آف ڈائریکٹرز کی زیر نگرانی کام کرے۔ اس مقصد کے لیے پارلیمنٹ میں قانون سازی کی جا سکتی ہے۔چونکہ این ٹی اے خود مختار ہو گا اس لیے تمام حکومتیں اس کے فیصلوں کا احترام کریں گی۔ این ٹی اے اپنے اخراجات پورے کرنے کے بعد تمام ریونیو مختلف حکومتوں کو ان کے حصے کے مطابق تقسیم کر دے گا۔ اس وقت مرکز اور صوبے مستعدی اور دیانتداری سے ٹیکس اکٹھا نہیں کر رہے‘ جب مقامی حکومتیں وجود میں آئیں گی تو ان کا بھی یہی حال ہو گا۔ 
ہمارے ملک کی ٹیکس گنجائش 8ٹریلین کے قریب ہے۔اگر زرعی ٹیکس اور دیگر صوبائی اور مقامی ٹیکس مستعدی اور دیانتداری سے وصول کئے جائیں تو 12ٹریلین کے ٹیکس حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ مرکز‘ صوبوں اور مقامی حکومتوں کی استعداد کے مطابق ٹیکس حاصل کرنے کے لیے این ٹی اے کا قیام ضروری ہے۔ نیشنل فنانس ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کو جو فنڈز ملتے ہیں اس کا دارو مدار اس بات پر ہوتا ہے کہ ٹیکس کتنی محنت سے اکٹھے کئے جاتے ہیں۔اگر کیک کا سائز بڑا ہو گا تو صوبوں کو بھی زیادہ فنڈز میسر ہوں گے۔ مرکز اور صوبے دونوں کو فائدہ ہو گا پارلیمنٹ اتفاق رائے اور جمہوری عمل کے ذریعے این ٹی اے قائم کرنے کے لیے قانون سازی کرسکتی ہے۔ اس سے عوام کو بھی فائدہ ہو گا کیونکہ انہیں مرکز‘ صوبائی اور مقامی ریونیو اتھارٹیز کی بجائے ایک ادارے سے ہی ڈیل کرنا پڑے گا۔ این ٹی اے کے کام کرنے کے طریقہ کار کے بارے میں کونسل آف کامن انٹریسٹ قواعد و ضوابط وضع کر سکتی ہے اور اس کی کنٹرولنگ اتھارٹی نیشنل اکنامک کونسل ہو سکتی ہے۔ 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں