جمہوری نظام کی بقا کا سوال

جتنی تیز رفتاری سے وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ اور ان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اپنی عوامی مقبولیت گنوالی ہے ،اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ بجلی‘ گیس‘ پانی اور روزگار کی ورثے میں ملی قلت کے علاوہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے حکومت کو اقتدار کے پہلے ہی چند ماہ کے اندرعوام میں غیر مقبول کر دیا تھا مگر منگل کے روز منہاج القرآن درسگاہ کے طلبا اور طالبات پر پنجاب پولیس نے جس بربریت اور بے دردی سے لاٹھیاںاور گولیاں برسائیں اور نہتے لوگوں کو جان سے مار ڈالا ، فاشست حکمرانی کے عکاس اس شرمناک واقعہ نے تو مسلم لیگ ن کی دونوں حکومتوں خصوصاً حکومت پنجاب کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔
مسلم لیگ کے اقتدار میں آنے کے بعد ایک طرف لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے وعدے وفا نہ کرنے پر شہر شہر عوامی احتجاج شروع ہو گئے جس سے پارٹی قیادت کی ساکھ کو سخت دھچکا لگا پھر جب نئے فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف کا تقرر ہوا تو خارجہ پالیسی کے معاملات کے علاوہ دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات اور ایک ٹی وی چینل کی تکرار نے سویلین اور عسکری قیادت کے درمیان دوریاں پیدا کر دیں۔ بعد ازاں جب چھ سات ماہ بعد طالبان کے ساتھ مذاکرات واقعی مذاق بن گئے تو حکومت عوامی دبائو کے آگے سر جھکا کر اپوزیشن اور جنرل راحیل شریف کے ساتھ 
بالآخر ایک صفحہ( Same Page)پر آگئی اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب شروع کرنے کااعلان کیا۔ یوں نہ صرف فوج اور حکومت کے تعلقات اور دیگر معاملات میں بہتری پیدا ہوئی بلکہ ملک کی تمام بڑی سیاسی پارٹیوں نے آرمی آپریشن کی حمایت کردی، حتیٰ کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اپنا آئندہ ہفتے بہاولپور میں طے شدہ جلسہ عام بھی منسوخ کرنے کااعلان کردیا اورشیخ رشید نے مجوزہ ٹرین مارچ ملتوی کردیا۔
گویا ایک برس کے بعد اللہ اللہ کرکے مسلم لیگ کی حکومت نے ابھی گزشتہ ہفتے سکھ کا سانس لیا اور معاملات پر اپنی گرفت کوبہتر کیا ہی تھا کہ منگل کے روز لاہور شہر کے قلب ،ماڈل ٹائون میں بربریت اور انسان دشمنی کی اتنی سنگین واردات حکومت پنجاب سے سرزد ہوگئی ،جس نے نہ صرف انسانیت کو شرمندہ کیا ہے بلکہ خود وفاقی حکومت کی بنیادوں میں بھی ایسی دراڑیں ڈال دی ہیں جن کو آئندہ کئی برسوں میں بھی شاید پُر نہ کیا جاسکے گا۔درندگی کے اس واقعہ نے علامہ طاہر القادری جیسے صرف ایک نشست جیتنے والے مخصوص اقلیت کے دینی عالم کو ایک ہی دن میں مظلومیت کے
حوالے سے پاکستانی سیاست میں بڑا قدآور لیڈر بنا دیا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے 1977ء میں پی این اے یا نوستاروں کی تحریک کے دوران بھٹو حکومت کے رکھوالوں نے لاہور میں گولی چلاکر پیر صاحب پگاڑا مرحوم کو قومی سطح کا بہت بڑا لیڈر بنادیا تھا۔ اس وقت خود وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے صلح جوئی کی خاطر ہوٹل پرل کانٹی نینٹل راولپنڈی میں پیر صاحب سے ملنے ان کے کمرے میں چلے گئے اور معافی تلافی کے لیے انہیں گزارش کرتے ر ہے مگر اس وقت بہت دیر ہوچکی تھی۔ لاہور کو لہولہان کرنے والا واقعہ چونکہ ایسے عالم میں رونما ہوا ہے جب افواج پاکستان اور حکومت کی پہلی مشترکہ ترجیح دہشت گردوں کا قلع قمع کرنا ہے لہٰذا میاں نوازشریف کے سامنے شہید ذوالفقار علی بھٹو جیسی بند گلی والی صورت حال تو نہیں لیکن علامہ طاہر القادری کا قومی افق پر ایک مظلوم سیاسی رہنما بن کر ابھرنا آنے والے وقتوں میں شریف برادران کو چین کی نیند نہیں سونے دے گا۔
آج اتنے بڑے خونریز اور درد ناک واقعہ کے باوجود ملکی حالات دگرگوں اس لیے نہیں ہونے پائیں گے کہ اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی،بی این پی اور بیشتر دوسری سیاسی قوتیں آپریشن ضرب عضب کے حق میں ہیں۔ میاں نوازشریف کو خصوصی طور پر سابق صدر آصف علی زرداری ،ان کے فرزند اور پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا شکر گزار ہونا چاہیے ،جنہوں نے طالبان سے مذاکرات میں وقت ضائع کرنے سے وزیراعظم کو مسلسل روکا اور دہشت گردوں کے خاتمہ کے لیے بھرپور فوجی کارروائی کا مطالبہ دہراتے رہے۔ آج جب چاروں طرف سے وزیراعلیٰ پنجاب کے استعفیٰ کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے تو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے ۔اب ایسا ہوگا کہ جب علامہ طاہر القادری صاحب 23جون کو واپس وطن آئیں گے تو لاکھوں لوگ ان کا شاندار استقبال کریں گے ۔
اس کے بعد علامہ صاحب اپنی جماعت کے شہید نوجوانوں اور خواتین کی قبر پر فاتحہ خوانی کریںگے۔ ان کے والدین اور عزیز و اقارب کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کااظہار کرنے ایک ایک کے گھر جائیں گے اور اپنے مخصوص سٹائل میں خطاب فرمائیں گے ، گویا آئندہ کچھ ہفتے ملکی سیاست میں کشمکش اور گرمی کو مزید بڑھائیں گے اور یہ کشمکش کسی لمحے بھی سنگین صورت اختیار کرسکتی ہے جس سے قومی اتحاد پارہ پارہ ہونے کا اندیشہ ہے۔ حالات کا تقاضا ہے کہ وزیراعظم فہم و فراست سے کام لیں اور عوامی مطالبہ تسلیم کریں تاکہ تلخیاں مزید نہ بڑھیں۔ یاد رہے کہ 1973ء میں شہر کراچی لسانی فسادات کی زد میں آیا تو بھٹو صاحب نے دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ٹیلنٹڈ کزن کی قربانی پیش کی تھی جس کے نتیجے میں وہ 1977ء تک بقیہ چار برس حکومت چلانے میں کامیاب ہوئے۔

'' مساوات‘‘ کی طرح روزنامہ''ہلال پاکستان‘‘ پیپلز پارٹی کا اخبار ہوا کرتا تھا۔جناب دستگیر بھٹی اس کے چیف ایڈیٹر تھے اور اب تک یہ ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ حنیف رامے صاحب کے بعد بھٹو صاحب نے مجھے ''مساوات ‘‘ کا ایڈیٹر بنایا تھا۔ اسی زمانے سے دستگیر بھٹی صاحب کے ساتھ رابطہ ہے۔ میں نے ان سے روزنامہ''دنیا‘‘ کے لئے کالم لکھنے کی درخواست کی ہے۔ امید ہے وہ'' دنیا‘‘ کے لئے لکھا کریں گے۔(نذیر ناجی)

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں