پچھلے چھ ماہ میں کورونا بارے اتنا کچھ کہا سناگیا ہے کہ عام آدمی جس کا میڈیکل فیلڈ سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں وہ بھی انسانی اناٹومی‘ فزیالوجی اور پتھالوجی سے اچھا خاصا واقف ہو گیا ہے۔ معمولی پڑھا لکھا آدمی بھی اب یہ جانتا ہے کہ کوروناایک وائرس ہے جو انسانی جسم پر حملہ آور ہو کر مختلف اعضا کو نقصان پہنچاتا ہے اور اگر بروقت مناسب علاج نہ ہو تو جان بھی لے سکتا ہے۔ یہ کہ انسانی جسم کے اندر ایک مدافعتی نظام ہوتا ہے جس کا کام کوروناجیسے حملہ آوروں سے نپٹناہوتا ہے۔ مدافعتی نظام اگر کمزور ہوگاتو حملہ آور کو نقصان پہنچانے کا موقعہ مل جائے گااور اگر یہ مضبوط ہوگا تو حملہ پسپا ہو جائے گا۔ مدافعتی نظام یہ کام اینٹی باڈیز بنا کر کرتا ہے جو جراثیم کو مار کر جسم کو ضررسے محفوظ کر لیتی ہیں۔
مدافعتی نظام کے کمزور ہونے کی صورت میں مختلف طرح کی ادویات اور انجکشنز سے سسٹم کو سہارا دیا جاتا ہے ۔ یہ ایک طرف تو جراثیم پر براہ راست حملہ آور ہو کر ان کا قلع قمع کرتے ہیں اور دوسری طرف حملے کا زور توڑ کر مدافعتی نظام کو سنبھلنے کا موقع دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں وائرس لوڈ یعنی جراثیم کی تعداد جو حملہ آور ہوتی ہے بہت اہمیت کی حامل ہے۔اگر ابتدائی حملہ آور وائرس کی تعداد معمولی ہو تو حملہ آسانی سے پسپا ہو جائے گا اور یا تو علامات آئیں گی ہی نہیں یا آئیں بھی تو بہت معمولی ہوں گی‘ لیکن اگر حملہ آور جراثیم کی تعداد زیادہ ہوئی تو حملہ شدید اور جان لیوا ہو سکتا ہے۔ اور جان لیوا ہونے کے امکانات ان لوگوں میں زیادہ ہوں گے جن کے کچھ اعضامثلاً دل ‘ جگر‘ پھیپھڑے یا لبلبہ وغیرہ پہلے سے ہی کسی عارضے میں مبتلا ہوں ۔ اسی لیے شرح اموات عمر رسیدہ لوگوں میں بہت زیادہ رہی۔
ایک دلچسپ حقیقت جس کے بارے میں ذرا کم لوگ جانتے ہیں کہ اگر آپ کا مدافعتی نظام ضرورت سے زیادہ رد عمل کا مظاہرہ کرنے لگے تو جراثیم کے ساتھ ساتھ اپنے جسم کو بھی نقصان پہنچانے لگتا ہے ۔کورونا کے مریضوں کے پھیپھڑو ں کے مکمل تباہ ہونے کی بڑی وجہ یہی ہوتی ہے‘ اسی لیے اب دیگر دوائوں کے ساتھ ڈاکٹرز سٹیرائیڈز بھی دیتے ہیں تاکہ ہمارے مدافعتی نظام کا رد عمل توازن میں رہے۔ پھر جب مریض بیماری کے بعد صحت مند ہو جاتا ہے تواینٹی باڈیز بننے کے باعث کچھ عرصہ(4سے 6 مہینے) کیلئے کورونااس پر دوبارہ حملہ آور نہیں ہو سکتا۔ لیکن اگرسسٹم کو توانا رکھا گیا توبیماری سے محفوظ رہیں گے لیکن سسٹم عدم توجہی کے باعث کمزور ہو گیا تو حملہ آوروں کو دوبارہ بھی شہ مل سکتی ہے۔سسٹم کو اچھی خوراک اور ورزش یا پھربار بار ویکسین لگوا کر توانا رکھا جا سکتا ہے۔گویا یہ ایک جہدِمسلسل ہے اور جسم کے مدافعتی نظام کو ہر وقت جراثیم کے خلاف اپنے آپ کو تیار رکھنا ہوگا۔
ٍٍسوچتے سوچتے معاً یہ خیال آیا کہ ہمارا کریمنل جسٹس سسٹم بھی تو بالکل ایسے ہی کا م کرتا ہے۔ جرم بھی ایک کوروناہے جو ہمارے معاشرے کے جسم پر حملہ آور ہوتا ہے اور کریمنل جسٹس سسٹم جسم کے مدافعتی نظام کی طرح اس کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ یہ اعضائے بدن کو نقصان نہ پہنچا سکے اور تندرستی برقرار رہے۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ کریمنل جسٹس سسٹم پانچ حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ قانون ساز ادارے‘ پولیس(اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے)‘ پراسیکیوشن ‘ عدالتیں اور جیل ۔ یہ پانچوں مل کر معاشرے کا مدافعتی نظام ترتیب دیتے ہیں ۔ مدافعتی نظام کے یہ پانچوں ارکان اگرباہمی تعاون اور یکجہتی کے ماحول میں کام کریں تو مجرم کیلئے سر اٹھانا ممکن نہیں ہوتا‘ لیکن بد قسمتی سے دیکھا یہ گیا ہے کہ باہمی تعاون اور ربط و ضبط کے فقدان سے یہ نظام کمزور پڑ جاتا ہے جس کا فائدہ جرائم پیشہ افراد اور گروہوں کو پہنچتا ہے۔
قدرت نے انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو کچھ اصول اور ضابطے سکھا دیے ہیں کہ کس کے خلاف ‘کیسے اور کس حدعمل تک کرنا ہے۔ معاشرے میں یہی کام قانون ساز ادارے کرتے ہیں ۔ وہ جرائم کے خلاف ایسے قوانین بناتے ہیں جن کے نفاذسے جرائم کی بیخ کنی ہو اور معاشرے کی صحت برقرار رہ سکے۔ لیکن اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ انسانی مدافعتی نظام کی کمزوریوں کی مانند ملکی قوانین بھی بعض اوقات کمزور ہوتے ہیں یا بدلتے حالات کے باعث ان میں سقم آجاتے ہیں جن کا فائدہ اٹھا کر جرم حملہ آور ہوجاتاہے اورمجرم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تمام کوششوں کے باوجود بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
یوں تو سٹیٹ کے تمام ہی ادارے معاشرے کے مدافعتی نظام میں اہم ہیں‘ لیکن پولیس کواس میں مرکزی اہمیت حاصل ہے‘ اس لیے کہ اس حوالے سے اس کا کردار دہرا ہے۔ پہلے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ جرم کا حملہ ہو نہ پائے اور اس کی اینٹی باڈیز اس کے افسران کی شکل میں دن رات گلیوں‘ بازارو ں اور سڑکوں پر سرگرداں رہتی ہیں۔ لیکن اگر لوڈنگ ڈوزطاقتور ہو یعنی جرائم پیشہ افراد کی تعداد پولیس کی روک تھام کی استعداد سے بڑھ جائے یا ان کا طریقۂ واردات پولیس کی نسبت ایڈوانس ہو توجرم سوسائٹی کو بیمار کر دے گا۔ اس صورتحال میں ادویات اور انجکشن بھی لازمی ہو جائیں گے یعنی پولیس کے ساتھ ساتھ پراسیکیوشن‘ عدالت اور جیل کے نظام کو بھی متحر ک کر نا پڑے گا۔ پولیس مجرمان کو پکڑ کر عدالت کے سامنے پیش کرتی ہے ‘ پراسیکیوشن کیس لڑتی ہے اور عدالت سزا( قید یا موت ) دے کے معاشرے کو ان کی شر سے نجات دیتی ہے۔ بظاہر ایک شاندار نظام اپنی جگہ پر موجود ہے اور حقیقت یہ ہے کہ جرم کے مقابلے میں یہ نظام کہیں کمزور نظر آتا ہے۔ جیسے خوراک کی کمی انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو کمزور کر دیتی ہے اسی طرح وسائل کی کمی ہمارے معاشرے کے مدافعتی نظام کو نحیف کر دیتی ہے ۔ یوں تو اس نظام کے سبھی حصے وسائل کی کمی کا رونا روتے ہی رہتے ہیں لیکن ان میں سب سے بُری حالت پولیس کی ہے۔ پاکستان کی پولیس دنیا میں سب سے کم وسائل سے کام چلانے وا لی پولیس ہے ۔ امریکہ ‘ برطانیہ اور سنگاپور جیسے ملکوں میں فی کس سکیورٹی اخراجات 250 ڈالر سالانہ سے زائد ہیں‘ جبکہ پاکستان میں یہ دس ڈالر سے بھی کم ہیں۔ ایسی صورتحال میں جرم کاکورونازور نہ پکڑے تو اور کیا ہو! خوراک کی کمی کے علاوہ مدافعتی نظام بذاتِ خود بھی بیماریوں کا شکار ہو سکتا ہے بعینہ معاشرے کا یہ نظام خود اگر کرپشن‘ نااہلی‘ بیرونی مداخلت جیسی بیماریوں کا شکار ہو تو جرم کے کوروناسے کیا لڑے گا؟
جیسا کہ اوپر ذکر ہوا کہ کوروناان لوگوں کیلئے زیادہ مہلک ثابت ہوا جن کے جسم کا کوئی عضو یا اعضاپہلے سے متاثر تھے‘معاشرے کے کچھ حصے مثلاً معاشرتی ‘ سماجی‘ معاشی ‘ سیاسی اور انتظامی نظام اگر صحتمند نہ ہوں تو معاشرے کے مدافعتی نظام کو مضبوط کرنے کی بجائے اس کیلئے ایک معذوری بن جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر معاشرتی نظام افراد کی بہتراخلاقی تربیت نہ کر رہا ہو‘ یا معاشی نظام افراد کیلئے خوشحالی کے وہ مواقع فراہم نہ کر رہا ہو جو اِن کی ضروریات یا جائزخواہشات کی تکمیل کیلئے ضروری ہوں یا سیاسی نظام عدل کو اپنے تابع رکھنا اور اپنے مقاصد کے مطابق استعمال کرنا چاہتا ہو تو معاشرتی مدافعتی نظام کسی بھی صورت جرم کے کوروناکا مقابلہ نہیں کرسکتا اور معاشرے کا وینٹی لیٹر پر جانا اور بالآخر موت سے ہمکنار ہونا لازمی ہے۔
جہاں معاشرتی مدافعتی نظام کا مضبوط اور توانا ہونا معاشرے کی صحت کیلئے ضروری ہے‘ اس کا بے جا شدید ردعمل (Over-reaction) بھی خطرناک نتائج کا باعث ہو سکتا ہے۔ اس کی طاقت اور اختیار کو بھی اگر احتساب (Accountability) کے سٹیرائیڈ نہ ملیں تو یہ اتنا ہی مہلک ہو سکتا ہے جتنا انسانی مدافعتی نظام کوروناانفیکشن میں پھیپھڑوں اور دیگر اعضا کیلئے ہوتا ہے۔ لیکن احتساب کی یہ ڈوز ایک مرتبہ کافی نہیں ہوتی۔ پورے معاشرے کوہر وقت چوکنااور خود کریمنل جسٹس سسٹم کو بھی ہمہ وقت خود احتسابی کیلئے تیا ررہنا ہوتا ہے۔دوسری طرف معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ و ہ مدافعتی نظام کوتوانا اور فعال رکھنے کیلئے اس کو مناسب وسائل کی فراہمی لگاتار بنیادوں پر یقینی بنائے ۔