ڈرون حملوں پر کوئی سچ نہیں بول رہا

ویسے امریکہ بھی کیا یاد کرے گا کہ کس قوم سے پالا پڑا ہے‘ جس کے سیاستدان اور حکمران عوام سے کچھ کہتے ہیں اور امریکہ کو کچھ اور۔ امریکیوں کو ملاقاتوں میں کہتے ہیں کہ آپ ڈرون حملے جاری رکھیں‘ ہم رسمی احتجاج کرتے رہیں گے اور پاکستانی عوام کو مطمئن رکھنے کے لیے پارلیمنٹ میں قراردادیں منظور کرتے ہیں۔ کل جماعتی کانفرنس بلا کر اعلامیہ بھی جاری کر دیتے ہیں۔ ان سب اقدامات کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ امریکہ فوراً ایک اور حملہ کر دیتا ہے اور پاکستان کے بچے کھچے بھرم کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیتا ہے۔ امریکہ کو معلوم ہے کہ یہاں کے سیاستدان اور حکمران اپنے لوگوں کے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں اور سبھی کی کوئی نہ کوئی قیمت ہے لہٰذا بقول عمران خان کے‘ وہ ہماری قراردادوں‘ خودمختاری اور آزادی کو پائوں کی نوک پر رکھتا ہے۔ امریکہ نے اعلان کیا ہوا ہے کہ وہ اپنے ہائی ویلیو ٹارگٹ والے افراد کو ختم کر کے دم لے گا‘ یا دوسری صورت میں وہ ہمیں اطلاع دیتا ہے کہ وہ وہاں موجود ہیں آپ انہیں پکڑ کر ہمارے حوالے کر دیں یا انہیں خود ختم کر دیں۔ ہم سے چونکہ ایسا نہیں ہو پاتا لہٰذا وہ ٹارگٹ پر ڈرون حملے کر کے اسے ختم کر دیتا ہے۔ اس نے صاف صاف کہہ رکھا ہے کہ یہ ٹارگٹڈ ڈرون حملے جاری رہیں گے۔ نوازشریف کے دورۂ امریکہ کے بعد جب ہماری ملاقات پاکستان اور افغانستان کے امور کے صدارتی مشیر جیمز ڈوبن سے ہوئی اور ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا ملاقات میں ڈرون حملوں پر بات ہوئی؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ پاکستانی رہنمائوں نے ڈرون حملوں کا ذکر کیا اور ہم نے سن کر خاموشی اختیار کر لی یعنی ڈرون حملے ختم کرانے کی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔ جب یہ سب کچھ واضح ہے تو یہ سب ڈرامہ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ نوازشریف کچھ کہتے ہیں‘ چودھری نثار کچھ کہہ رہے ہیں‘ سرتاج عزیز کچھ اور فرما رہے ہیں‘ جبکہ عمران خان کچھ اور کرنے جا رہے ہیں۔ ایک ہی حکومت میں رہتے ہوئے یہ لوگ مختلف بیانات دیتے ہیں۔ کوئی زمینی حقائق کی بات کرتا ہے تو کوئی عوام کا جذبۂ غیرت جگاتا ہے اور ان کے جذبات سے کھیلتا ہے لیکن سچ کوئی نہیں بولتا کہ یہ ڈرون حملے پاکستان کی خاموش رضا مندی سے ہوتے ہیں اور ہم خود اس قابل نہیں ہیں کہ امریکہ کو مطلوب لوگ پکڑ کر ان کے حوالے کردیں۔ 
اس وقت سرتاج عزیز کے اس بیان پر خوب بحث ہو رہی ہے کہ امریکہ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے دوران ڈرون حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ان کے اس بیان کی تکذیب اور تصدیق کے حوالے سے مختلف بیانات دیئے جا رہے ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ سرتاج عزیز کے بیان پر شک کرنے کی کوئی وجہ ہے۔ اگر ابھی ڈرون حملے ہو رہے ہیں تو مذاکرات کے دوران تو نہیں ہو رہے اور مذاکرات کے شروع ہونے کا ابھی کوئی امکان نظر بھی نہیں آ رہا۔ پاکستانی حکومت بھی یہی کہہ رہی ہے اور طالبان لیڈر شپ بھی ابھی مذاکرات کے امکانات کو مسترد کر رہی ہے‘ لہٰذا ڈرون حملے جاری ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ امریکی افغان طالبان کو مارتے ہیں۔ اگر جنوبی یا شمالی وزیرستان میں کوئی افغان طالبان موجود ہوں تو وہ ان کو مارتے ہیں۔ ہنگو والا حملہ حقانی نیٹ ورک پر کیا گیا جو افغانستان میں لڑ رہے ہیں۔ واقفانِ حال یہ بتاتے ہیں کہ پاکستانی حکام اور سکیورٹی ادارے پاکستانی طالبان کو مارنے کے لیے بھی امریکہ سے ڈرون مارنے کی درخواست کر دیتے ہیں۔ حالانکہ ان کو مارنا امریکہ کا ٹارگٹ نہیں ہے۔ 
اگر یہ سب کچھ یہاں کے سیاستدانوں اور حکمرانوں کی مرضی سے ہو رہا ہے تو اتنے بڑے ڈرامے کی کیا ضرورت ہے۔ قوم کو سچ نہ بتانے کی کیا وجہ ہے۔ اس سے پاکستانی حکمرانوں اور امریکہ کے خلاف مزید نفرت پیدا ہو رہی ہے۔ پاکستانی حکمرانوں کی کریڈیبلٹی ملیا میٹ ہو رہی ہے اور امریکہ پاکستانیوں کی بے بسی دیکھ کر مزید حملے کیے جا رہا ہے۔ ممکن ہے عمران خان اور ان کے اتحادی جذبۂ ایمانی سے نیٹو سپلائی بند کردیں اور دھرنے دینے کا سلسلہ شروع کردیں لیکن کیا اس سے ڈرون حملے بند ہو جائیں گے؟ کیا گزشتہ سال چھ مہینے تک نیٹو سپلائی بند رکھنے سے انہوں نے حملے بند کر دیئے تھے؟ کیا بے گناہ اور معصوم قبائلیوں کا خون بہنا تھم گیا تھا؟ کیا سلالہ چیک پوسٹ پر شہید کیے گئے بہادر پاکستانی فوجیوں کے خون کا بدلہ لے لیا گیا تھا؟ کیا امریکہ اب ڈرون حملوں سے باز آ جائے گا؟ اگر آپ کے اندر یہ جرأت ہے کہ ڈرون مار گرائیں تو اس کے لیے متبادل حکمتِ عملی تراشنے کی 
ضرورت ہے نہ کہ اعلانِ جنگ کی۔ اگر اعلانِ جنگ کے بعد امریکہ نے کسی بہانے پاکستانی شہروں اور خود اسلام آباد پر ڈرون گرانے شروع کردیئے تو آپ کیا کریں گے؟ دراصل عمران خان کا احتجاج بھی ایک احتجاج ہی رہے گا اور وہ آخر میں یہ کہنے کی پوزیشن میں آ جائیں گے کہ ہم نے ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کرنے کا وعدہ کیا تھا‘ سو ہم نے وعدہ پورا کر دیا ہے۔ صورتِ حال یہ ہے کہ 2014ء میں امریکہ جزوی طور پر افغانستان سے نکلے گا لیکن مکمل طور پر ہرگز نہیں۔ اس نے افغانستان کے ساتھ مختلف اقسام کے سکیورٹی کے معاہدے کر لیے ہیں جن کے تحت وہ ا فغانستان کی افواج کی تربیت کرے گا‘ اس کو سکیورٹی کے لیے امداد دے گا اور خطرے کی صورت میں اس کے دشمن کے خلاف لڑے گا۔ افغانستان کا دشمن مستقبل میں کون ہوگا؟ یہ معاہدہ امریکہ نے کیا سوچ کر کیا ہے؟ کون کون سے سٹیک ہولڈرز اور Players آنے والے وقتوں میں افغانستان اور اس خطّے میں متحرک ہوں گے؟ دہشت گردی کے خلاف جنگ کن خطوط پر لڑی جائے گی؟ یہ ہیں وہ سوالات اور امکانات جن کو سامنے رکھتے ہوئے ایک نئی جامع حکمتِ عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے اور انہی خطوط پر امریکہ کے ساتھ ایک نئے طرزِ تعلق کی بنیاد رکھنے کی ضرورت ہے۔ 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں