میں اکثر سوچتا ہوں کہ وہ کون سی بات ہے جو دلوں میں جگہ بناتی ہے‘ جسے محبوب بناتی ہے لوگ اسے ہاتھوں پر اٹھا لیتے ہیں‘ اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے امڈے چلے آتے ہیں۔ عام سے شخص کو نیلسن منڈیلا اور سارتر بنا دیتی ہے۔ محمود درویش اور پابلونیر ودا بنا دیتی ہے۔ جواب آیا۔''فطری طور پر دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ لوگ ہوتے ہیں جو مختلف عہدوں اور منصبوں پر فائز رہتے ہیں‘ حکمران بھی ہوتے ہیں۔ اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں بھی ہوتے ہیں۔ اختیار و اقتدار ان کی جیب میں ہوتا ہے۔ قدرت انہیں اصول‘ جمہوریت‘ آزادی‘ انصاف‘ انسانی حقوق اور جبرو آمریت کے خاتمے کے لیے لڑنے اور جدوجہد کا موقع بھی دیتی ہے۔ انہیں خدمتِ انسانیت کے لیے بھی وسائل مہیا کرتی ہے۔ لیکن وہ پھر بھی کچھ نہیں کر پاتے۔ ان کے نامۂ اعمال میں کوئی ایسا عمل نہیں ہوتا جس پر وہ فخر کر سکیں یا انہیں طمانیت اور سرشاری نصیب ہو۔ لوگ ان کے جانے کی دعائیں مانگتے ہیں۔ جب وہ (منصب یا دنیا سے) چلے جاتے ہیں تو لوگ خوش ہوتے ہیں مٹھائیاں بانٹتے ہیں ‘ بھنگڑے ڈالتے ہیں۔ دوسری قسم‘ وہ خوش قسمت لوگ ہیں جنہیں دنیا میں بھی لوگوں کاپیار میسر آتا ہے اور جانے کے بعد بھی۔ قدرت ان سے کوئی ایسا بڑا کام لیتی ہے جو انہیں دوسروں کی نظر میں محبوب بنا دیتا ہے۔ وہ جانے لگتے ہیں تو لوگ اداس ہوجاتے ہیں۔ جسٹس افتخار چودھری اسی قبیلے کے ممتاز فرد کا نام ہے جو اب سابق چیف جسٹس ہو چکے ہیں۔ جن کے حرف انکار نے سماج کے جمود میں ہلچل مچا دی۔ جس نے اختیار اور طاقت کے نشے میں چُور چار فوجی جرنیلوں کی موجودگی میں ان کا حکم ماننے سے انکار کردیا۔ جب وہ چیف جسٹس کے عہدے سے معزولی کے بعد ایوانِ اقتدار سے نکلے تو انہیں گھر جانے کی اجازت نہ ملی لیکن پھر دنیا نے دیکھا کہ اسی جمود زدہ سماج میں وہ تحریک چلی کہ سب کچھ بہا لے گئی۔ ایک نئے پاکستان کاآغاز ہوا۔ اگر جسٹس افتخار محمد چودھری 9مارچ 2007ء کو وقت کے فرعون کے سامنے نہ ڈٹ جاتے تو آج اس ملک میں انتخابات ہوتے‘ نہ جمہوریت آتی‘ جنرل پرویز مشرف وردی اُتارتا نہ صدارت چھوڑ کر ملک سے فرار ہو جاتا‘ عدلیہ آزاد ہوتی نہ سماج کے اندر تبدیلی کی خواہش یا لہر پیدا ہو سکتی۔‘ وہ روشن آواز اس وقت نہ ابھرتی تو مایوسی‘ تھکاوٹ اور افسردگی کے آسمان پر کوئی روشن ستارہ نہ چمکتا ۔ لوگوں کو اپنے دیرینہ دکھوں کے لئے مسیحا مل گیا۔ سیاسی جماعتوں کو جدوجہد کا استعارہ ہاتھ آ گیا۔ وکلاء کو آزاد عدلیہ کے خواب کی تعبیر مل گئی اور سول سوسائٹی تبدیلی کا علم لے کر نکل کھڑی ہوئی۔ پھر 20جولائی بھی آئی اور 3نومبر بھی‘ دوبارہ نظر بندی بھی آئی اور بحالی بھی ہوئی۔ یہ کارواں چلتا رہا۔ کسی نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ سٹیل مل کے فیصلے سے شروع ہونے والا یہ سفر لاپتہ افراد کے مشہور کیس پر ختم ہوا۔ ریکوڈک کیس سے لے کر میموگیٹ سکینڈل تک‘NICLسے لے کر اوگرا کرپشن کیس تک‘ سوئس اکائونٹس کیس میں خط لکھنے سے لے کر رینٹل پاور کرپشن کیس تک‘ چینی سستی کرنے کے ازخود نوٹس سے لے کر سی این جی سبسڈی کیس تک‘ راجہ پرویز اشرف کے ترقیاتی فنڈز کے کرپشن کیس سے لے کر لاپتہ افراد کے کیس تک‘ کراچی اور بلوچستان بدامنی کیس سے لے کر مفادِ عامہ میں کیے جانے والے کتنے ہی فیصلوں تک ایسی تاریخ ہے جس پر تاریخ کو خود ناز ہے۔ عدالتی فعالیت کی جو مثال افتخار
محمد چودھری کی سربراہی میں موجودہ سپریم کورٹ نے قائم کی اس کی کوئی نظیر پہلے کبھی نہ تھی۔ اسی سپریم کورٹ اور عدلیہ نے ملک کے طاقتور اداروں کو عدلیہ اور عوام کے سامنے جوابدہ بنا دیا۔ انہوں نے وزیر اعظم سے لے کر فیڈرل سیکرٹری ایف سی اور آئی ایس آئی سے لے کر نیب اور ایف آئی اے تک‘ پولیس سے لے کر دوسری سکیورٹی ایجنسیوں تک‘ سابق آرمی جرنیلوں اور وزرائے اعلیٰ تک سبھی کو عدالت کے سامنے پیش ہونے پر مجبور کر دیا۔ بدعنوان انتظامیہ کو نکیل ڈالی‘ عدلیہ کو اس مقام پر لے آئے کہ اب کوئی آمر عدلیہ کو موم کی ناک سمجھ کر استعمال نہیں کر سکے گا۔ انہوں نے جمہوریت کا استحکام یقینی بنایا۔ انہوں نے واضح کردیا کہ ''اب کسی کو جمہوری نظام لپیٹنے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘‘۔ انہوں نے اربوں روپے قومی خزانے میں واپس جمع کروائے۔ من پسند خلاف ضابطہ تقرریوں اور تبادلوں پر از خود نوٹس لے کر انہیں ختم کرایا۔ ان سب دلیرانہ فیصلوں سے پاکستان کا وقار عالمی برادری میں بلند ہوا لیکن جس کیس نے جسٹس افتخار چودھری اور پاکستان کو دنیا بھر میں امید اور وقار کا استعارہ بنایا وہ
لاپتہ افراد کا کیس ہے۔ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کوئی اسے ختم نہیں کر سکتا۔ اگرچہ ابھی تک ایجنسیاں اور حکومت چند لوگوں کو ہی عدالت کے سامنے پیش کر سکی ہے لیکن عدالت نے انہیں پابند کر دیا ہے کہ وہ لاپتہ افراد کو عدالت کے سامنے پیش کریں اور ان کے خلاف قانون کے مطابق سلوک کیا جائے۔ عدالتِ عظمیٰ کا یہ فیصلہ دنیا بھر کے ایسے ممالک کی بڑی عدالتیں ایک ریفرنس کے طور پر استعمال کریں گی جہاں لاپتہ افراد کے کیسز زیر سماعت ہیں۔ جسٹس افتخار چودھری نے ساڑھے آٹھ سال پر محیط اپنی اننگ بہادر اورمردِ جری کی طرح کھیلی۔ تاریخ لکھی اور خود تاریخ ساز ہو گئے۔ ان جج ساتھیوں کو بھی سلام جو موسموں کے گرم و سرد کے باوجود ان کے ساتھ استقامت لیے کھڑے رہے؛ میری تازہ کتاب 'ملاقات‘ میں زیادہ تر ایسے کالم شامل ہیں جن میں جسٹس افتخار چودھری اور عدلیہ کی جدوجہد کو موضوع بنایا گیا ہے۔ یہ کتاب پہلے اس لیے پیش نہ کی کہ وہ چیف جسٹس کی مسند کی شان تھے۔ اب خود مل کر کتاب پیش کروں گا۔
سکوتِ شب میں جو روشن سی اک صدا بھی ہے
وہ شخص خوف کے موسم میں حوصلہ بھی ہے
یہی نہیں کہ وہ تنہا تھا اک دیا تھامے
پھر اس کے بعد چراغوں کا سلسلہ بھی ہے