کیا عمران خان متبادل قیادت ہے؟

کیا اس ملک میں دھرنے‘ مظاہرے‘ جلسے‘ جلوس اور ہڑتالیں کرانے والوں کو عمران خان کی شکل میں ایک نیا مہرہ ہاتھ آ گیا ہے؟ کیا عمران خان کی صلاحیتیں محض اس کارِ لاحاصل کے لیے رہ گئی ہیں؟ کیا ایسے کاموں کے لیے دفاع پاکستان کونسل‘ جماعت اسلامی‘ ڈاکٹر طاہرالقادری اور اسی قبیل کی جماعتیں اور افراد کافی نہیں تھے؟ 
دھرنے‘ لانگ مارچ‘ جلسے‘ جلوس اور ریلیاں ہر فرد اور جماعت کا بنیادی حق ہے‘ ایسی سرگرمیاں حکومتِ وقت کو دبائو میں رکھتی ہیں اور انہیں اپنی من مانی یا غلط فیصلے کرنے سے روکتی ہیں۔ ظاہر ہے تحریک انصاف اور عمران خان کو بھی یہ حق حاصل ہے، لیکن بہتر ہوتا اگر عمران خان یہ سب کچھ خیبرپختونخوا کوایک مثالی صوبہ بناکر اوراس کے معاملات درست کر کے کرتے۔ اگر ان کے اپنے صوبے میں بھی پنجاب سے زیادہ مہنگائی اور کرپشن ہے‘ اگر وہ اپنے صوبے کی افسر شاہی کودرست نہیں کر سکے‘ جاگیرداری نظام کے خاتمے کے لیے اصلاحات نہیں لا سکے‘ پٹوار کلچر کا خاتمہ نہیں کر سکے‘ سفارشی تقرریوں کو نہیں روک سکے‘ ٹیکس کے نظام کو درست سمت پر نہیں ڈال سکے‘ اپنے منہ زور وزیروں اور سیاسی کارکنوں کی تربیت نہیں کر سکے‘ تعلیمی نصاب اور نظام میں انقلابی تبدیلیاں نہیں لا سکے‘ اپنے صوبے میں توانائی کی ضروریات پورا کرنے کے لیے کوئی بڑا منصوبہ شروع نہیں کر سکے‘ غربت کے خاتمے کے لیے کوئی پروگرام یا سکیم کا آغاز نہیں کر سکے‘ انفراسٹرکچر اور صحت کا نظام درست نہیں کر سکے تو میرا خیال ہے کہ انہیں یہ سب کچھ نہیں کرنا چاہیے۔ انہیں ابھی اپنے صوبے اور ٹیم کے احوال کو درست کرنا ہے۔ گورننس کو بہتر کرنا ہے لیکن بدقسمتی سے ابھی عمران خان اس معیار پر پورا نہیں اتر سکے۔ ان کی صلاحیتیں پارلیمنٹ سے باہر موجود جماعتوں کی طرح صرف ہو رہی ہیں اور انہیں اس کا ادراک تک نہیں۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ وہ ہر معاملے میں صرف دو شخصیات کے مشوروں کو سنتے ہیں اور ان پر عمل پیرا ہوتے ہیں ، اس کے علاوہ ان کا کوئی تھنک ٹینک نہیں ہے۔ ان کا کوئی سیاسی پس منظر نہیں ہے۔ ایک کاروباری آدمی ہے اور دوسرا اپنی صلاحیتوں میں کمی کے باعث بڑے بڑے اداروں کو منافع سے نقصان میں تبدیل کرتا رہا ہے۔ 
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ صوبے میں مہنگائی باقی صوبوں کی نسبت زیادہ ہے لیکن اپنے صوبے میں مہنگائی کم کرنے کی بجائے صلاحیتیں اور وقت احتجاجی سیاست پر صرف ہو رہا ہے۔ نیٹو کنٹینرز بند کرنے کا اثر یہ ہوا ہے کہ امریکہ نے دھمکی دی ہے کہ وہ امداد بند کردے گا اور متبادل روٹ اختیار کر لے گا۔ یہ روٹ اسے ایران کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی صورت میں میسر آ چکا ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت میں اعلیٰ تعلیم کے نظام میں اصلاحات کے حوالے سے قانون سازی کے لیے قائم کی گئی کمیٹی نے جو ڈرافٹ بل تیار کیا ہے‘ اسے صوبائی اسمبلی میں قانون سازی کے لیے پیش ہونا ہے۔ اگر صوبائی اسمبلی اسے منظور کر دیتی ہے تو اسے بل کا درجہ دے دیا جائے گا، لیکن چونکہ طاقتور گروپوں کے مفادات پر ضرب پڑ رہی ہے لہٰذا پارٹی کے اندر سے ہی ایک گروپ جس میں اراکین اسمبلی اور وزراء شامل ہیں اس بل کی مخالفت کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ابھی تک وزارتِ قانون نے اس بل کو کلیئر کیا ہے اور نہ ہی اسے قانون سازی کے لیے اسمبلی میں پیش کیا جا سکا ہے۔ چونکہ یہ ڈرافٹ وائس چانسلرز کی تقرری‘ ملازمت کے دورانیے اور کنٹریکٹ کے اختتام کا ایک طریق کار اور شفاف نظام وضع کرتا ہے لہٰذا جہاں وائس چانسلرز کو اپنی نوکری کی فکر پڑ گئی ہے وہاں اپنے من پسند اور چہیتے افراد کو جامعات میں نوکریاں دینے والوں کے رستے بھی بند ہونے کا 
خدشہ بھی موجود ہے۔ لہٰذا جامعات‘ وزارتِ تعلیم اور دوسرے محکموں سے متعلقہ گروپ نے ابھی تک اس بل کو صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں پیش نہیں ہونے دیا۔ کہنے والوں نے بتایا ہے کہ جب عمران خان کو صورتِ حال سے آگاہ کیا گیا تو انہوں نے اس کو درخوراعتنا نہیں سمجھا۔ کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک ایک عضوِ معطل ہیں اور بے اختیار وزیراعلیٰ کے طور پر نمائشی عہدہ قبول کیے بیٹھے ہیں۔ بہت سارے کام اور فیصلے اس لیے نہیں ہو رہے کہ عمران خان دستیاب نہیں ہوتے۔ سو سب اچھا ہے کی خبریں نہیں ہیں۔ بہت کچھ کرنے کی گنجائش موجود ہے اور عمران خان کو اپنے صوبے میں Deliver کرنا پڑے گا‘ قوم ہی نہیں دنیا بھی انہیں دیکھ رہی ہے۔ ملکی اور عالمی مقتدرہ کی نظریں بھی ان پر ہیں۔ اگر وہ بھی روایتی سیاست کی نذر ہو گئے اور مقتدرہ کے اشاروں پر ناچنے والی جماعتوں کی طرح بن گئے تو اس ملک کی اور بدقسمتی کیا ہوگی۔ 
اس ملک کے عوام اور نوجوان نسل نے انہیں متبادل قیادت کے طور پر چنا ہے‘ وہ ایک بڑی اکثریت کے خوابوں کی تعبیر ہیں۔ انہیں اپنے آپ کو بھی سنبھالنا ہے اور اپنے چاہنے والوں کو بھی ساتھ رکھنا ہے۔ انہیں ملکی مسائل اور چیلنجز کا حل پیش کرنا ہے، متبادل نظام سامنے لانا ہے، صرف نعرے نہیں لگانے‘ دھرنے نہیں دینے‘ مظاہرے نہیں کرنے‘ ریلیاں نہیں نکالنی‘ امن و امان اور معاشی خرابیاں سب سے بڑے چیلنجز ہیں۔ اس کے لیے انہیں ٹھوس حکمتِ عملی سامنے لانی ہے اور اس کام کے لیے ان کی صوبائی حکومت ایک ٹیسٹ کیس ہے اور صوبہ ان کے لیے بڑا میدان۔ 
کیا انہیں دفاعِ پاکستان کونسل یا مقتدرہ کی بی ٹیم بننا ہے یا اس قوم کا مسیحا ، فیصلہ اُن کے ہاتھ میں ہے۔ 
آخر میں معروف شاعر جلیل عالی کی بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح کے لیے لکھی گئی نظم ''صبحِ اَنا کا سورج‘‘ کا ایک حصہ :
 
وہ سب کی آنکھوں سے دیکھتا تھا 
سب اس کی آنکھوں سے دیکھتے تھے 
وہ اپنے ہاتھوں پہ کل کا سورج اٹھا کے نکلا 
 
تو عہدِ نو کی بشارتوں سے دمکتے چہروں کا اک سمندر تھا ساتھ اس کے 
 
کہا جو اس نے‘ کیا جو اس نے 
وہ جب بھی منشور تھا ہمارا 
وہ اب بھی منشور ہے ہمارا 
کہ ایک اِک عکسِ خواب اس کا 
کہ ایک اِک نقشِ تاب اس کا 
لہو میں ہلچل مچا رہا ہے 
کہ اپنی صبحِ اَنا کا سورج 
اسی طرح جگمگا رہا ہے 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں