ویسے تو امریکی صدر اوباما کا گزشتہ روز ہونے والا سٹیٹ آف دی یونین خطاب امریکی آئین کے آرٹیکل 2 کے سیکشن 3 کے تحت ایک آئینی فریضہ ہے اور آئین کے اس حصے کی منظوری 1787-88ء میں دی گئی تھی ، لیکن اس سال کیے جانے والے اس خطاب کی اہمیت مختلف نوعیت کی ہے۔ اس خطاب میں صدر اوباما نے اپنی مستقبل کی پالیسی واضح کی اور ری پبلیکنز کے امیج اور بُری کارکردگی کو عوام کی نظر میں پوری طرح سامنے لانے کی کوشش کی ہے اور انہیں اچانک دفاعی پوزیشن پر لاکھڑا کیا ہے۔ یہ وہی ری پبلیکنز ہیںجنہوں نے گزشتہ ایک سال سے صدر اوباما اور ڈیموکریٹس کو 'اوباما کیئر‘ (Obama care) پروگرام اور امیگریشن اصلاحات پروگرام پر بہت مشکل صورت حال سے دوچار کیا ہوا ہے۔ اوباما نے اس خطاب میں جتنے اقدامات کا ذکر کیا ہے وہ سب عوام کی دلچسپی اور مفاد میں تصور کیے جاتے ہیں۔ فوری طور پر انہوں نے کم از کم اجرت 7.8 ڈالر سے بڑھا کر 10.10 ڈالرفی گھنٹہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ امیگریشن اصلاحات بل کی منظوری‘ خواتین کے لیے مردوں کے برابر تنخواہ اور دوسری مراعات کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے اب گیند کانگریس کی کورٹ میں پھینک دی ہے کہ وہ عوام کے فائدے کے لیے ان تمام اقدامات اور بلوں کی منظوری دیں۔ انہوں نے 2014ء میں افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی کے فیصلے پر کاربند رہنے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔ اس خطاب کو سب سے پہلے سابق امریکی صدر وِلسن نے تاریخی واقعے میں بدلا اور تب سے اب تک تمام امریکی صدور اس روایت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں اور اپنی حکومت کی پالیسی اور کارناموں کو خطاب کا حصہ بناتے ہیں۔ تاہم اوباما سے پہلے جتنے بھی صدور تھے انہوں نے مجموعی طور پر اسے آئینی فریضے کے طور پر ہی لیا لیکن اس دفعہ کا یہ خطاب امریکہ کی اندرونی سیاست کے لیے ایک بھونچال سے کم نہیں ہے۔ مختلف سیاسی‘ صحافتی اور کاروباری حلقے اس خطاب کا بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔
اس خطاب کا سب سے زیادہ اثر ری پبلیکنزکے اندر خلفشار کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ جب سے یہ خطاب ہوا ہے ری پبلیکنزمختلف گروپوں میں بٹے ہوئے ہیں اور بعض کانگریس اراکین تو پارٹی میں اتحاد کے لیے زور دے رہے ہیں اور اپنے اراکین کو متحد رہنے کی اپیلیں کر رہے ہیں۔ یہی اوباما اور ڈیموکریٹس چاہتے تھے۔ ری پبلیکنز کا ردعمل بھی مثبت اور منفی دونوں صورتوں میں سامنے آیا ہے۔ جب سے اوباما صدر بنے ہیں ری پبلی کنز اس کوشش میں ہیں کہ ڈیموکریٹس کسی بھی صورت میں کامیاب نہ ہو سکیں ، خاص طور پر اوباما 'تبدیلی‘ کا جو نعرہ لے کر آئے تھے اور جو اصلاحات اور تبدیلیاں لانے کا عزم لائے تھے اسے راستے میں روک دیا گیا اوراوباما ابھی تک کسی بھی ایسے کام میں کامیاب نہیں ہو سکے جو عوام کے فائدے میں ہو۔ اوباما کا ہیلتھ کیئر پروگرام ہو یا امیگریشن اصلاحات ، کم از کم اجرت بڑھانے کی بات ہو یا عالمی سطح پر امریکی امیج بہتر کرنے کی بات ‘ کانگریس نے اوباما کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اس کے کسی بھی فیصلے اور اقدام کی توثیق نہیں کی۔ مجبوراً اوباما کو سٹیٹ آف دی یونین خطاب کا سہارا لے کر عوام کی عدالت میں جانا پڑا۔ اس وقت اچانک اوباما کی مقبولیت میں اضافہ ہو گیا ہے اور ری پبلیکنز ایک دوسرے سے چھپتے پھر رہے ہیں۔ اوباما نے ری پبلیکنزکو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہیں لیکن اگر وہ ساتھ نہیں دیں گے تو وہ خود بھی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ ری پبلیکنز نے اگر فوری طور پر عوام کے وسیع تر فوائد میں کیے جانے والے اقدامات اور فیصلوں کی مخالفت جاری رکھی تو مستقبل قریب میں ری پبلیکنز کی ریٹنگ بالکل گر جائے گی اور اگلے انتخابات میں ایک مرتبہ پھر ڈیموکریٹس کامیاب ہوں گے۔
جہاں تک پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بات ہے یا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کا تعلق ہے ، اوباما ہو یا کوئی اور صدر‘ ری پبلیکنز ہوں یا ڈیموکریٹس‘بنیادی پالیسی ان کے مختلف دفاعی اور پالیسی ساز ادارے تیار کرتے ہیں جس کو حکومت اور صدر کو ماننا پڑتا ہے۔ اب بھی اگرچہ ڈرون حملوں کے استعمال اور پاکستان میں ان حملوں سے ہونے والے جانی نقصانات پر اوباما نے افسوس کا اظہار کیا ہے اور اعتراف کیا ہے کہ ان حملوں سے باہمی تعلقات پرکافی منفی اثر پڑ رہا ہے لیکن یہ صرف پالیسی بیان ہے ، اوباما اس مسئلے میںکچھ بھی نہیں کر پائیں گے کیونکہ ایسے فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں جن کو امریکی صدور کو ماننا پڑتا ہے۔ امریکی صدر اپنے دفاعی اور پالیسی ساز اداروں کی سفارشات اور فیصلوں پر عملدرآمد کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ امریکہ کے اندر بھی مختلف طرح کی مقتدرہ اور لابیاں کام کر رہی ہوتی ہیں۔ بعض اوقات صدر ایک مہرے کی طرح کام کرتا ہے۔ افغانستان کے اندر قیامِ امن‘ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا دائرہ کار‘ ڈرون حملے‘ پاکستان کا کردار‘ افغانستان سے اتحادی فوجوں کے انخلا اور بعد کی صورت حال کے حوالے سے امریکہ کا کردار طے شدہ ہے اور اس کردار کو تبدیل کرنے کے حوالے سے امریکی صدر مقتدرہ کا اسی طرح محتاج ہے جس طرح پاکستان کے حکمران ملکی اور غیر ملکی مقتدرہ کی مرضی سے ہٹ کرکوئی فیصلہ نہیں کر سکتے۔