میں نے نصر رُوپانی کو اپنے ٹی وی ٹاک شو میں بلایا تو کسی اور موضوع پر گفتگو کرنے کے لیے تھا لیکن انہوں نے گفتگو کا رُخ ایک ایسے موضوع کی طرف موڑ دیا جو بالکل نیا اور اہم تھا جسے سن کر شرکاء چونک گئے اور اپنی بقیہ باتوں کا مرکز و محور صرف اسی تحقیق اور ان کے کام کو بنا لیا۔ تحقیق کے مطابق بچے کا ذہن ماں کے پیٹ میں ہی بننا شروع ہو جاتا ہے اور بچے کی پیدائش سے پہلے ہی بچے کا ذہن 70 فیصد تک بن چکا ہوتا ہے اور بقیہ 30 فیصد چھ سال کی عمر تک بن جاتا ہے۔ یعنی ایک بچے کا ذہن چھ سال کی عمر تک جتنا اور جیسا بننا ہوتا ہے‘ بن چکا ہوتا ہے اس عمر کے بعد ذہن اور ذہنی رویے اور سوچ تھوڑی بہت تبدیل تو ہو سکتی ہے لیکن بہت سست رفتاری کے ساتھ۔ دوسری اہم بات یہ تھی کہ بچے کی پیدائش کے 9 مہینے کے عمل میں ماں جن حالات سے گزرتی ہے‘ جو سوچتی ہے‘ جیسے رہتی ہے‘ جذباتی اور ذہنی معاملات میں جیسے جیسے وقت گزارتی ہے‘ خوش رہتی ہے یا اداس‘ جھگڑے کرتی ہے یا صلح جو رہتی ہے‘ جھوٹ بولتی ہے یا سچ بولتی ہے‘ صاف ستھری رہتی ہے یا نہیں‘ کھانا کم کھاتی ہے یا زیادہ‘ بہادری دکھاتی ہے یا بزدلی‘ شوہر محبت اور احترام دیتا ہے یا نہیں‘ جیسے جیسے احساسات ہوں گے ویسا بچے کا ذہن بنتا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب میں حاملہ عورتیں کتابیں یا میگزین کو پکڑ کر اونچا اونچا پڑھتی ہیں۔ وہ دراصل اپنے ہونے والے بچے کو کتاب سنا رہی ہوتی ہیں۔ اس بات کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے کہ دورانِ حمل عورتیں دیانت‘ ایمانداری‘ محبت‘ خلوص اور وفاداری کا مظاہرہ کریں اور مختلف النوع بری باتوں سے پرہیز کریں۔ وہاں کی مائوں نے بچوں کو جن خصوصیات سے متصف کرنا ہوتا ہے وہ ان خصوصیات کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ یہی وہ وجوہ ہیں جن کی بنا پریہاں کے بچے خاص طور پر مائوں کے ساتھ ٹریننگ کا حصہ بنتے ہیں۔ اگر ماں جذباتی طور پر مظلوم ہے‘ اس پر تشدد کیا جاتا ہے یا ماں اور باپ میں علیحدگی ہو چکی ہے یا دونوں ہر وقت لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں تو ایسے والدین کے بچے مختلف ذہنی انتشار کا شکار ہوتے ہیں۔ کوئی تشدد پسندی کی طرف مائل ہو جاتا ہے تو کوئی اذیت پسند‘ کوئی تنہا رہنا پسند کرتا ہے تو کوئی پرابلم چائلڈ بن جاتا ہے۔ یہی وہ ذہنی دبائو اور ڈِس آرڈرز ہیں جو آج کل وہاں کے سکولوں میں مختلف قسم کے Violence کی شکل میں اُبھر کر سامنے آ رہے ہیں۔بیرون ممالک مختلف مراکز ماں اور بچے کی تربیت کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود بچے قابو نہیں آ رہے۔ اس کی ایک وجہ خاندانی نظام کا کمزور ہونا ہے۔ مغرب میں چونکہ خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے لہٰذا بچے بھی اسی طرح بن جاتے ہیں۔ یوں یہ سلسلہ نسل در نسل سفر کر رہا ہے۔
ہمارے سماج میں بچوں کا نافرمان ہونا‘ جھوٹ بولنا‘ دھوکہ دینا‘ چوری چکاری‘ لڑائی جھگڑا‘ Violence اور انتہا پسندی کی طرف مائل ہونا جینیاتی عملِ انتقال کے سبب ہوتا ہے جو ماں کے پیٹ میں ہی مکمل ہو چکا ہوتا ہے۔ باہر تو اس کا ایک چھوٹا سا حصہ نمو پاتا ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق انسانی عادات بھی ماں کے پیٹ میں ہی بچے کے اندر پیدا ہو جاتی ہیں اور ذہن پر اثرانداز ہونے والی ہر قسم کی چیزیں چھ سال تک اپنا اثر برقرار رکھتی ہیں۔ مختلف سکولوں میں 2 سال سے لے کر چھ سال کے بچوں کے لیے ایک خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ وہاں پر کھانے پینے کی چیزیں رکھ دی جاتی ہیں اور ساتھ ہی ان کی قیمت بھی لکھ دی جاتی ہے لیکن کوئی وہاں بیٹھ کر
نگرانی نہیں کر رہا ہوتا۔ بچے کے اندر دیانتداری کا عنصر پیدا کرنے کے لیے اسے کہا جاتا ہے کہ وہ خود اکیلا جائے اور چیز اٹھا لے۔ جتنے کی چیز ہے اتنے پیسے وہاں رکھ دے۔ کوئی بھی بچہ ایسا نہیں ملتا جو کم پیسے رکھتا ہو۔ رُوپانی فائونڈیشن آج کل سندھ اور گلگت بلتستان کے علاقوں میں بچے اور ماں کے لیے ایسے تربیتی کورسز کا اہتمام کر رہی ہے جن سے ایک طرف ماں اور بچے کے درمیان تعلق مضبوط ہو اور دوسرا مائیں حمل کے دوران ہی بچوں کی ذہنی اور جذباتی صحت کا خیال رکھ سکیں۔ اگر ایسا ہوتا رہے اور یہ سلسلہ ملک کے دوسرے علاقوں تک پھیلا دیا جائے تو کیا اس قوم کی آئندہ نسلیں اچھے کردار اور خصوصیات کی حامل ہو سکتی ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اگر ہم ان مراکز کے دائرہ کار کو بڑھا دیں اور ان کے اندر مزید سہولتیں فراہم کردیں تو یہ معجزے تخلیق کر سکتے ہیں۔ میں یہ مشہور مقولہ سنتا یا پڑھتا ہوں کہ ''مجھے اچھی مائیں دو‘ میں تمہیں اچھی قوم دوں گا‘‘ تو نئی تحقیق کی روشنی میں اس کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ کیا میرے ملک کو ایسے اداروں‘ سکولوں اور مراکز کی ضرورت نہیں جو
اچھی مائیں پیدا کر سکیں تاکہ ہم اچھی قوم بن سکیں؟
ہمارے دانشور اور لکھنے والے اکثر سماجی تبدیلی کا ذکر کرتے ہیں اور ان کی تان صرف اس بات پر آ کر ٹوٹتی ہے کہ اگر کسی ملک اور معاشرے میں کوئی تبدیلی یا انقلاب آ سکتا ہے تو وہ صرف سماج کی سطح پر ذہنی تبدیلی سے ممکن ہے۔ یہ تبدیلی لانے کے لیے مختلف اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ ذہن تبدیل ہوں گے تو شعوری سطح پر بھی تبدیلی آ جائے گی۔ ہم نے ابھی تک ذہن تبدیل کرنے کے حوالے سے کوئی کام نہیں کیا۔ ذہن کی تبدیلی کا عمل ماں کے پیٹ میں موجود بچے کے ذہن پر پڑنے والے اثرات سے بھی ممکن ہے۔ اگر ہم یہ کام یہیں سے شروع کر لیں تو چھ سال کی عمر تک بچہ ایک مثبت‘ ذہین‘ کارآمد اور باصلاحیت انسان کے روپ میں ڈھلتا ہوا نظر آئے گا۔ اس کے بعد تو ہمارا کام محض ہلکی سی تراش خراش رہ جاتا ہے۔
چلیں ہم اس کام کا آغاز کرتے ہیں اور مائوں کو سکھاتے ہیں کہ وہ بچے کی پیدائش کے 9 ماہ کے عرصے کے دوران اسے ایسی کہانیاں اور لٹریچر پڑھ کر سنائیں جس سے وہ تشدد‘ انتہا پسندی‘ جھوٹ‘ دھوکہ‘ ظلم‘ بے انصافی‘ زیادتی اور سوچ پر پابندی کے خلاف اور امن‘ محبت‘ خیر اور عدل و انصاف کے لیے اپنی صلاحیتیں صرف کر دینے والا بچہ بن کر سامنے آئے تاکہ یہ سماج اپنے آپ کو تبدیل کرنے کے لیے تیار ہو سکے۔