داڑھی قدیم زمانوں سے انسان کی ساتھی رہی ہے۔ ایک وقت تھا جب استرے یا الیکٹرک شیور کا تصور بھی ممکن نہیں تھا، داڑھی اس وقت مجبوری ہوتی تھی۔ غاروں میں بنی پری ہسٹورک تصاویر دیکھی جائیں یا لبنان، میسوپوٹیمیا، انڈیا، ایران، یونان، روس، چین، مصر الغرض کہیں بھی جھانکا جائے تو تاریخ کے جھروکوں سے جھانکتی اکثر شخصیات کے چہرے باریش نظر آئیں گے۔ ویسے اتنا دور جانے کی بجائے وہ اپنے پریسٹ کنگ کا چہرہ دیکھا جائے جو موہنجو دڑو میں ہوتا تھا یا ٹیکسلا والے مہاتما بدھ کے نروانی مجسمے دیکھے جائیں تو وہاں بھی ایک شانت چہرے پر داڑھی سجی نظر آئے گی۔ یہ بزرگی کی علامت تھی یا دانائی کی، رعب داب کے چکر میں رکھی گئی یا درویش منش ہوئے تو قسمت کے پھیر میں آ کے رکھ لی، وجوہ خدا بہتر جانتا ہے۔ بات یہ ہے کہ داڑھی ازمنہ قدیم سے اب تک ایک آپشن کے طور پر چلی آ رہی ہے۔
مختلف عقائد کے پیروکاروں میں یہ قدر مشترک نظر آتی ہے۔ مسیحیوں کے یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جتنی شبیہیں موجود ہیں، سب میں ان کے لمبے بال اور خوبصورت سی داڑھی ہے۔ ان کے دیگر بزرگوں کے مجسمے اور تصاویر جو اکثر چرچ کے اندر ہم لوگ فلموں میں دیکھتے ہیں، ان میں بھی یہی ناک نقشہ ہوتا ہے۔ مائیکل اینجلو، روداں، ڈائونچی وغیرہ کے بنائے مجسمے دیکھتے جائیں ان میں بھی یہی سب کچھ ملے گا۔ ہندوؤں کے یہاں زیادہ تر جوگی اور سادھو وغیرہ داڑھی رکھے نظر آتے ہیں۔ جو پارٹی شیو جی کے ساتھ ہے عموماً ان کے داڑھی ہوتی ہے، وشنو کے پوجنے والے صفا چٹ ہوتے ہیں۔ بعضے ان میں سے بھدرا بھی کرواتے ہیں یعنی ایکدم چہار ابرو صاف، داڑھی مونچھ بھنویں سب غائب، تو یہ ان کے رچولز ہیں۔ یہودیوں کے یہاں تو عین ہمارے جیسی داڑھی ہوتی ہے۔ ابھی پچھلے دنوں ایک کانفرنس تھی جہاں مختلف مذاہب کے علما کو ملا کر ایک جگہ بٹھایا گیا تھا۔ وہاں ایک آدھا سگ دنیا بھی کسی کھاتے میں بلا لیا گیا تو اس نے دیکھا کہ اگر یہودی ربی (مذہبی پیشوا) کے سر سے وہ چھوٹی سی ٹوپی ہٹا لی جائے تو ان میں اور ہمارے لوگوں کی وضع قطع میں کوئی فرق نہیں ہو گا۔
پارسیوں کی طرف اگر زرتشت کی شکل یا مجسمہ دیکھا جائے تو ایک دلفریب سی داڑھی ان کے چہرے پر موجود نظر آتی ہے۔ پرانے سے پرانے مجسمے والے زرتشت بھی ایسے ہی دکھتے ہیں۔ سکھوں کے پانچ شرعی لوازم ہیں جن میں کچھا، کنگھا، کڑا، کرپان اور کیس شامل ہیں۔ کیس جو ہے وہ یہی بال ہیں، سر کے ہوں یا چہرے کے، وہ لوگ تو غریب تراش خراش بھی نہیں کر سکتے بلکہ تھینکس ٹو فلم انڈسٹری کہ لوگ ان کی دیدہ زیب پگڑیوں اور داڑھی باندھنے کے طریقوں سے واقف ہیں ورنہ سالم سکھ تو اپنے یہاں گنتی کے ہی ہوں گے۔ اسی طرح بدھ جوانی میں بھرپور قسم کی مونچھیں رکھتے تھے جو لاہور میوزیم میں دیکھی جا سکتی ہیں، مائل بہ فقر و درویشی ہوئے تو مناسب سی داڑھی رکھ لی۔
ہمارے یہاں داڑھی محبوب ترین سنتوں میں سے ایک ہے۔ ہر وہ جوان جو مذہبی رجحان رکھتا ہے اس سعادت کو حاصل کرنے کی کوشش میں رہتا ہے۔ کئی لوگ آس پاس کے ماحول کی وجہ سے نہیں رکھ پاتے لیکن دل میں احترام اور ایک خواہش ضرور ہوتی ہے۔ اسلام کے نزول سے اب تک اس کی شرعی اہمیت مسلم ہے اور مسنون داڑھی والے ویسے ہی قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔
چند دن پہلے ایک خبر آئی کہ گوادر میں بلکہ ٹھیک بولیں تو اوڑماڑہ جو گوادر کا ایک علاقہ ہے اس میں انتظامیہ نے حجاموں کو ہدایت کی کہ بھئی داڑھی کے ڈیزائن نہیں بنائے جائیں گے، جس نے شیو کروانی ہے وہ کروائے، جس نے داڑھی رکھنی ہے وہ رکھے بس یہ ہیروگیری نہیں چلے گی۔ مولوی محمد امین جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن گروپ کے رکن ہیں، یہ آرڈر انہوں نے زبانی کلامی جاری کیا کیوں کہ ان کے پاس قانونی طور پر ایسے کوئی اختیارات نہیں تھے۔ ان کے مطابق چہرے پر فیشن کے لیے سانپ کی طرح لکیریں یا نقشے وغیرہ نہیں بنوانے چاہئیں اس سے داڑھی کے اہانت کا پہلو نکلتا ہے اور چونکہ یہ سب زبردستی نہیں کروایا جا سکتا اس لیے منہ زبانی تمام ہدایات انہوں نے جاری کیں۔
مولانا صاحب کا یہ رویہ بالکل ہمارے بزرگوں کا سا ہے۔ فرنچ کٹ ایک عام سی داڑھی ہے جسے بہت زیادہ اردو برتی جائے تو چگی داڑھی کہا جا سکتا ہے۔ اس کا ڈیزائن کچھ ایسا ہوتا ہے جیسے منہ کے گرد تالا لگا ہو۔ بہت سے گھروں میں بچے فرنچ کٹ بھی نہیں رکھ سکتے کیوں کہ بزرگوں کو اس پر بھی کئی اعتراض ہوتے ہیں۔ ذاتی تجربہ تو یہ ہے کہ ایک بار فرنچ کٹ رکھ کر کسی گاؤں جائیں تو بابا جی لوگ باقاعدہ روک کر نصیحت کرتے ہیں: منڈیا شیو کرا لے‘ اگلی واری پنڈ ایس طراں نہ آئیں۔ تو مولانا امین صاحب نے کچھ نیا نہیں کیا۔
مسئلہ صرف یہ ہے کہ انسان وضع دار ہو تو گھر کے بزرگوں کی بات سن لیتا ہے، محلے کے بڑے ٹوکیں تو ان کی بات پر کان دھر لیتا ہے لیکن حکومتی سطح پر ایسا کچھ کروانا مناسب نہیں ہے۔ ایسے اقدامات تو افغانستان اور سوات میں ابھی چھ سات برس پہلے تک فل زوروں پر تھے۔ مولانا آج زبانی احکامات جاری کرتے ہیں کل کوئی اور آ کر قانون میں بھی جوڑ توڑ کر لے گا۔ دیکھیے چہرے کے بال، سر کے بال، پورا جسم، یہ کسی بھی شخص کا انفرادی معاملہ ہے۔ وہ اپنے عقائد کی روشنی میں ان کے ساتھ جیسا بھی سلوک کرے اس کو روکنا پاکستان تو کیا دنیا کے کسی قانون میں جائز نہیں ہے۔ ہمارے یہاں معاشرتی بناوٹ کچھ ایسی ہے کہ شخصی آزادی کا تصور ہی بارہویں تیرہویں جماعت میں جا کر آتا ہے اس سے پہلے تو بچے ایویں ہی بڑوں کے زیر اثر ہوتے ہیں۔ تو اگر کوئی بچہ اب کیبل یا ٹی وی دیکھ کر تھوڑے بہت شوق پورے کرنا چاہتا ہے تو اسے کرنے دیجیے۔ چندے بعد خیر سے روزی روٹی کے دھندوں میں پڑے گا تو خود ہی پتہ لگ جائے گا کہ سیر میں کتنی پکتی ہیں۔ یہ ڈیزائین والی داڑھیاں یا جدید تراش خراش کے بال یہ سب ایک عمر کے ساتھ ہوتے ہیں اس کے بعد تو ویسے بھی بال رہتے ہی کہاں ہیں، وبال رہ جاتے ہیں۔
داڑھی ویسے بڑی زبردست چیز ہے، صبح سویرے اٹھ کر بندے کو جو پہلی فکر شیو کرنے کی ہوتی ہے، اس سے بے نیاز کر دیتی ہے۔ آفٹر شیو اور چھتیس قسم کے دوسرے جھنجھٹوں سے بھی چھٹکارا دلاتی ہے۔ کسی پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کیا جائے تو صوفی صاب سیٹ چھڈ دینا ذرا قسم کی باعزت آوازیں آتی ہیں۔ دہی لینے جائیں تو حاجی صاحب کا لقب ملتا ہے۔ کوئی مانگنے والا آئے تو مولوی صیب تیرے بچے جیئیں کی دعا ملتی ہے۔ کسی سے جھگڑا ہو جائے تو اکثر اوقات یہی داڑھی کچھ غصیلے قسم کے بھرم بھی دے جاتی ہے۔ چہرہ گردوغبار سے بچا رہتا ہے کیوں کہ وہ سب داڑھی میں ہی رہ جاتا ہے۔ سردیوں میں ٹھنڈی ہوا سے بچاتی ہے، گرمیوں میں پسینے سے گیلی ہو کر لو کو ٹھنڈی ہوا میں بدلنے کے لیے خس بن جاتی ہے۔ ایک فائدہ وہ بھی ہے جو ڈاکٹر علی شریعتی گنوایا کرتے تھے۔ کل ملا کر راوی کم از کم اس معاملے میں سو فیصد ریکمنڈیشن دے سکتا ہے کہ داڑھی رکھ کر آدمی واقعی مزے میں ہوتا ہے۔
کچھ داڑھیاں رکھنے والوں کی وجہ سے بھی مشہور ہوئیں جیسے ٹیگور کی داڑھی تھی، دیوندرناتھ ستیارتھی تھے، اوشو تھے، راسپوٹین کی داڑھی تھی، لینن کا سٹائل تھا، ٹالسٹائی تھے، ابراہم لنکن تھے یا آج کل وہ فٹ بالر میسی صاحب رکھے پھرتے ہیں تو یہ سب یاقسمت یانصیب والی بات ہے۔ جو مرضی جب مرضی رکھ لے بس یہ بزرگانہ روک ٹوک اگر نہ ہو بچے ذرا سکون سے زندگی گزار لیں گے۔ ویسے بھی ایک داڑھی ہی تو ہے جس پر گوادری بچوں کی مرضی چل سکتی ہے۔