انتظار اور مایوسی کے بیچ پھنسے بزرگ

انتظار بہت ظالم چیز ہے ، بندے کو مار دیتا ہے ، تباہ و برباد کر دیتا ہے لیکن بعض اوقات اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہوتا۔ فرض کیجیے آپ کسی جگہ جا رہے ہیں، لمبی سڑک ہے ، گاڑی میں پیٹرول ختم ہو جاتا ہے ۔ ساتھ میں جو کوئی بھی تھا آپ اسے گاڑی میں بٹھا کر چلے جاتے ہیں اور کسی نہ کسی طرح لفٹیں لے کر پمپ تک پہنچتے ہیں، تیل لے کر آتے ہیں اور گاڑی چل پڑتی ہے ۔ اب اس پوری کارروائی میں ایک گھنٹہ لگا۔ جو بندہ پیٹرول ڈھونڈنے گیا اس کا تو ایک گھنٹہ شاید آدھے گھنٹے میں ہی گزر گیا لیکن جو پیچھے انتظار میں ہے اس کا وہ گھنٹہ تین گھنٹوں کے برابر تھا۔ منٹ کی سوئی سرک سرک کر آگے بڑھ رہی تھی، گاڑی میں گرمی، حبس والا موسم اور ایک لایعنی اکتاہٹ، یہ سب چیزیں مل کر انتظار کو جنم دے رہی تھیں۔ گرمی لگ رہی ہے تو اس کا حل بھی یہی سوچنے میں ہے کہ پیٹرول کب آئے گا، حبس بھی اسی وقت ختم ہو گا جب گاڑی چلے گی اور اس کا اے سی چلے گا، اسی طرح ان دو چیزوں سے پیدا ہونے والی اکتاہٹ بھی تبھی دم توڑے گی جب جانے والا واپس آئے گا۔ جب پیٹرول آ گیا، سواری چل پڑی تو وقت دوبارہ اپنی نارمل سپیڈ پر آ جائے گا۔
انتظار سے مفر ممکن نہیں۔ یہ وہ چیز ہے جو بلاتفریق امیروں اور غریبوں دونوں کے حصے میں آتی ہے ۔ نوعیت کا فرق ہو سکتا ہے لیکن کیفیات یکساں ہوتی ہیں۔ ہو سکتا ہے جس وقت کسی مزدور کا بچہ باپ کے آنے کا انتظار اس لیے کر رہا ہو کہ وہ آئیں گے تو دودھ کا ایک گلاس ملے گا عین اسی وقت ایک امیر گھر کا بچہ اپنے ابا کی راہ اس لیے دیکھ رہا ہو کہ واپسی پر وہ نئی گاڑی میں آئیں گے ، صبح جاتے ہوئے انہوں نے وعدہ کیا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ دودھ کا انتظار شدت میں نئے ماڈل کی گاڑی کے انتظار سے زیادہ ہو۔ 
ایک انتظار وہ ہوتا ہے جو سسی پنوں کا کرتی تھی، سوہنی مہینوال کا کرتی تھی یا اب بھی کئی ہیریں رانجھے کا کیا کرتی ہیں۔ یہ انتظار کی سب سے مہلک قسم ہے ۔ دنیا بھر کی شاعری اور فکشن عموماً اسی انتظار کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے ، معیار کا فرق ہو تو ہو جذبات ایک ہی جیسے رواں دواں نظر آتے ہیں۔ عاشقانہ شاعری کا معاملہ ویسے بھی فٹ پاتھ پر پڑی ہوئی کتابوں کی طرح ہوتا ہے ، ہر کوئی اپنے ذوق کے مطابق اٹھاتا ہے اور روانہ ہو جاتا ہے ۔ تم تو ٹھہرے پردیسی، ساتھ کیا نبھاؤ گے ، قسم کے گانے بھی سپر ہٹ ہوتے ہیں اور سننے والے بیگم اختر کی غزلیں بھی سنتے ہیں۔ یہ سب انتظار کے کرشمے ہیں۔
طے ہوا کہ انسانوں کی زندگی میں انتظار ایک نہایت اہم فیکٹر ہے ۔ انتظار آس کو جنم دیتا ہے ، امید کو پیدا کرتا ہے ، بیچ بیچ میں کہیں مایوسی جنم لے بھی تو امید آگے بڑھ کر سنبھالا دے دیتی ہے اور یوں زندگی کی گاڑی چلتی رہتی ہے ۔ ہم بحیثیت قوم انتظار سے نفرت کرتے ہیں۔ شاید صدیوں کی مایوسیوں اور یاسیت کا اثر ہے یا ہمارے مصالحوں میں کچھ ایسا ہے جو رہ رہ کر ہمیں انتظار ختم کرنے پر اکساتا ہے ۔ قطار لگی ہو گی تو ہم سب کو چیر پھاڑ کر سب سے آگے نکلنا چاہیں گے ، سڑک پر ہوں گے تو بھی ایسا لگے گا جیسے کسی جگہ ایمرجینسی اٹینڈ کرنے جا رہے ہیں، گھر کھانا کھانے بیٹھیں گے تو بھی جلتے توے پر پاؤں ہوں گے ، بھلے جلدی میں روٹی کچی بن جائے ، سالن ٹھیک گرم نہ ہو، جلدی جلدی جلدی جلدی، ہر چیز کی جلدی، بے تحاشا جلدی اور بے وقت عجلت ہمارے خمیر میں شامل ہے ۔ 
اکثر جگہوں پر یہ جلدی بنا بنایا کام بگاڑ بھی دیتی ہے ۔ بعض اوقات ضروری ثبوت جلدی میں مِس ہو جاتے ہیں اور اکیلی رپورٹیں ہاتھ ہلاتی ہوئی چلی آتی ہیں۔ کبھی ایک چلتا پھرتا وزیر اعظم معزول کر دیا جاتا ہے ، پانچ برس گزرتے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کیس کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہوا۔ کہیں ایک صدر دو دو مرتبہ اسمبلیاں توڑتا ہے ۔ کبھی امید پوری نہ ہونے پر خوابوں اور عالم رویا سے شہادتیں لائی جاتی ہیں۔ کبھی پانچ پانچ برس حکومت جانے کی تاریخیں دے دے کر اینکر اپنی مارکیٹ ڈاؤن کر لیتے ہیں۔ کبھی بڑے بڑے لیڈر گاڑی کی چھت پر بیٹھ کر سگار سلگاتے ہیں، اتنی ہی عظیم الشان باتیں کرتے ہیں لیکن چار دن بعد سب کچھ ایکسپائر ہو جاتا ہے ۔ یہ ہماری زندگی کا حصہ تو ہے لیکن کب تک ہم اس رویے کو بھگتیں گے اس بارے میں خیال کے گھوڑے بھی ستو پی کر سو چکے ہیں۔ 
سیلز ریپس کے پاس عموماً ایک ڈائری ہوتی ہے جس میں دن بھر کے اہم کام اور ان کے فالو اپ نوٹ رہتے ہیں۔ یہ ڈائری اہم میٹنگز میں بھی کام آتی ہے لیکن اسے مینٹین کرنا بڑا صبر والا کام ہے ، وقت لیتا ہے ۔ ایک سال پرانی ڈائری اس پورے برس کا ریکارڈ ہوتی ہے ، یہ ہر ملاقات کے وقت سامنے رکھی جاتی ہے ، اسی سے نوٹس لیے جاتے ہیں، اس کے بغیر جو بھی میٹنگ کی جائے اس کا نتیجہ عموماً صفر بٹا صفر نکلتا ہے ۔ ہمارے یہاں سیلز ریپ ہو یا قومی لیول کا لیڈر، ڈائری کیا کاغذ کی ایک پرچی رکھنا بھی اپنی شان گھٹنے کے برابر سمجھتے ہیں۔ 
اس کی ایک وجہ ہر وقت کی جلدی بھی ہے ۔ کون ڈائری رکھے ، کون نوٹ کرے ۔ بھئی آپ راہنما ہیں۔ گھر سے نوٹس لے کر آئیں، اپنے تھنک ٹینک کی رائے لیجیے ، میڈیا سے بات کرنی ہے تو وہاں آپ کے پاس کچھ سالڈ بولنے کو ہو، کسی اعلی سطحی اجلاس میں جانا ہے تو وہاں معلوم ہو کہ تیاری سے گئے ہیں۔ ایک سیاسی لیڈر کا بولنا تاریخ کا ریکارڈ ہوتا ہے اور وہ ایسی باتیں کرنے لگے کہ سمجھ ہی نہ آئے ریکارڈ سازی کس کس پہلو سے کریں تو یہ ایک المیہ ہے ۔ نوٹس رکھ کر بولنے کی عادت گنتی کے چند راہنماؤں میں پائی جاتی ہے ، جذباتی ذہنوں کے مطابق یہ اچھی بات نہیں ہوتی لیکن یہی بات آپ کو ٹو دا پوائنٹ، پریسائز یا مختصر بات کرنے کا حوصلہ دیتی ہے (تحقیق: دیکھو نواز شریف اور اوباما ملاقات کی پرچی والی تصویر)۔ جلدی میں بات کیجیے گا، بغیر تیاری کے بولیں گے تو وہی خبریں بنیں گی، وہی تجزیے آئیں گے جو پچھلے دنوں بھائی جعفر حسین کا ہم سب والا کالم شیئر کرنے سے آئے تھے ، یا پھر کہا جائے گا، "کسی کام کی نہیں تھی، اچھا ہوا چلی گئی۔" 
اس رویے کی دوسری وجہ مایوسی اور ناامیدی ہے ۔ لاشعور بڑی ظالم چیز ہے ، یہ ایسے ایسے کام کرواتا ہے کہ توبہ ہی بھلی۔ یہ زبان سے وہی کچھ نکلوائے گا جو آپ محسوس کر رہے ہیں، یہ ہر وقت اسی کھد بد میں لگا رہے گا کہ یار کچھ بھی ہو بس میرا کام پورا ہو جائے لیکن یہی لاشعور بعض اوقات مقصد پورا ہونے کے بعد پچھتاتا ہوا بھی نظر آئے گا۔ کبھی نہ کبھی، کہیں نہ کہیں یہ خیال ضرور آتا ہے کہ یار ذرا سوچ کے بات کر لیتے ۔ 
خواب دیکھنا ضروری ہے ، خوابوں کے بغیر زندگی کیسے گزاری جائے ، کچھ تو ہو جس کے پانے کی آرزو ہو لیکن چاند کی تمنا کرنا، تاروں کو توڑ کر گھر لے آنا، دودھ کی نہر کھودنا یہ سب ایسے خواب ہیں جو کبھی ختم نہ ہونے والے چکر میں گھیرے رکھتے ہیں اور اسی چکر میں انسان ہر کام میں پہلے جلد بازی اور بعد میں مایوسی کا شکار ہوتا چلا جاتا ہے ۔ اگر چاند تک پہنچنا ہے ، تاروں کو گھر لے کے آنا ہے تو پہلے خلائی سفر کی ٹریننگ لیجیے ، سپیس سوٹ یا شیروانیاں آخر میں خریدی جاتی ہیں۔ اسی طرح دودھ کی نہر اگر باتوں سے کھودی جا سکتی تو ہر دوسرا لپاڈیا فرہاد ہوتا، اسے کھودنے کے لیے دونوں ہاتھوں کی قوت اور پختہ ارادہ درکار ہوتا ہے ، باعمل لوگ کھود لیتے ہوں گے ، ہمارے جیسے ساری عمر کھدائی کرتے ہیں آخر میں آ کر پتہ چلتا ہے کہ نری گھاس ہی کھودی تھی۔ میرا جی کیا خوب کہہ گئے ، ہاتھ سے آنکھ کے آنسو تو نہیں پونچھے تھے ! 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں