ایسے انسان کا تصور کیجیے جسے زندگی میں کوئی کام نہ ہو، نہ اسے نوکری کرنی ہو، نہ اسے کاروبار کرنا ہو، نہ اس نے شادی کی ہو نہ کرنی ہو، بس ایک کام ہو اور وہ کرتا جائے، کرتا جائے کرتا جائے یہاں تک کہ وہ اسی برس کا ہو جائے۔ اور وہ کام کتاب پڑھنا ہو۔ جب کبھی کتابوں سے جی بھر جائے تو جا کر دوستوں میں جا بیٹھے اور جو وہاں سے اکتائے تو واپس کتابوں میں جا گھسے۔ فرصت اتنی کہ کم و بیش ایک صدی ایسے ہی گزار دے اور مصروف ایسا کہ اس تمام عرصے میں دو باریک سی کتابیں شاعری کی آئیں۔
ایک مرتبہ پوچھا کہ نثر کی طرف توجہ کرتے، کچھ لکھ دیتے، کوئی یادیں کوئی آپ بیتی ہوتی آپ کی، کوئی افسانے، ناول، کچھ تو ہوتا۔ کہنے لگے ''ہاں میں بہت عرصے تک ڈائری لکھتا رہا، رف کاپیاں جو بچوں کی ہوتی ہیں، وہ لے آتا تھا، ایک صفحہ روز کا لکھ دیتا تھا۔ جب ایک کاپی بھر جاتی تو اسے کتابوں میں پھینک دیتا اور دوسری کاپی لے آتا۔ چالیس پچاس کاپیاں تو لکھی ہوں گی۔ پھر ایک بار میں نے لکھنے کے بعد پچھلا صفحہ کھولا، پھر اس سے پچھلا صفحہ کھولا پھر ایک اور پرانی کاپی کھولی تو مجھے لگا ہر صفحے پر وہی کچھ لکھا ہے جو آج کی ڈائری تھی۔ میں ہر روز وہی زندگی کرتا تھا تو پھر اسے بھی لکھ کر پھینک دیا بس، بہت بار بہت لوگوں نے کہا: چھپواؤ، لیکن اس میں ہے ہی کیا جو چھپوایا جائے۔ میں چوتھی جماعت میں تھا، ذرا بیمار ہوا تو سکول سے چھٹی کی اور گھر بیٹھا بستر میں آرام کر رہا تھا کہ بڑے بھائی نے وقت گزارنے کے لیے کوئی کتاب لا کر دے دی، بس وہ میری پہلی کتاب تھی، اس کے بعد تو ساری زندگی پڑھتا ہی رہا۔ جو کتاب سامنے آئی پڑھ ڈالی‘‘۔
پاکستان بننے کے بعد لدھیانے سے یہاں آ گئے، وہ بھی یوں ہوا کہ جالندھر میں سکھوں کو مسلمانوں نے کاٹا پیٹا تو لدھیانہ میں سکھ لسٹیں تیار کرنے لگے کہ 'مسلماناں دے کیہڑے جی پھڑکانے نیں‘۔ ان کے دوستوں میں بہت سے ہندو اور سکھ دوست بھی تھے۔ انہوں نے سمجھا دیا کہ بھیا‘ اب نکل جاؤ، یہ دوسروں کے ساتھ ٹرک پر بیٹھے اور ادھر آ گئے۔
ایف اے میں تھے تو پڑھائی چھوڑ دی اور آوارہ گردوں کے ٹولے سے جڑ گئے۔ کہا، ''چند راتیں میرے حصے میں بھی آ گئیں جب میں ان لوگوں کے گروپ میں آیا۔ میں انتظار سے دس برس چھوٹا تھا، ناصر کاظمی سے بیس برس کا فرق تھا، تو یہ لوگ مجھ سے پہلے بہت سی راتیں اور آوارہ گردی‘ گزار چکے تھے۔ میں اس دور کے بالکل آخر میں آیا۔ میرا اور ناصر کا گھر بھی کرشن نگر میں ہوتا تھا تو واپسی پر اکثر ہم دونوں اکٹھے آتے تھے۔ رات ہم لوگ ہوٹلوں میں کاٹتے تھے، ایک ایک کرکے جب تمام ہوٹل بند ہو جاتے تو کبھی بسوں کے اڈے پر بیٹھ جاتے کبھی پیدل چل پڑتے۔ ایک تانگے والا انتظار اور ناصر کا عاشق تھا۔ کبھی کبھی وہ بھی رات کو انہیں تانگے پر گھماتا رہتا تھا۔ ناصر پھر گیارہ بارہ بجے اٹھ کر دفتر چلا جاتا تھا۔ زرعی بینک کے رسالے کا ایڈیٹر تھا، وہاں وقت کی پابندی تو ایسی کوئی تھی نہیں، تو جب دل چاہتا ہو آتا۔ اس کی بیوی بہت باہمت عورت تھیں۔ بچوں کو زیادہ تو انہوں نے ہی پالا۔ اس کے بچوں نے بہت محنت کی، اپنا مقام بنایا اور ناصر کی چیزیں بھی ڈھونڈ ڈھونڈ کر چھپوائیں۔ پھر فلمیں دیکھنے کا بھی بہت شوق ہوتا تھا مجھے، ان دنوں لاہور میں تین چار سینما ہوتے تھے۔ جب ان کے ساتھ نہ ہوتا تو میری ہر رات کسی نہ کسی سینما میں گزرتی تھی۔ سب سے سستا ٹکٹ بارہ آنے والا ہوتا تھا۔ وہ لے کر بیٹھ جاتا تھا‘ اور فلم دیکھنے کے بعد پیدل واپس جاتا تھا‘ کرشن نگر۔ اب اتنے ہی پیسے ہوتے تھے کہ یا کرایہ دے دو واپسی کا یا فلم دیکھ لو، تو میں فلم دیکھ لیتا تھا۔"
مشہور مصور شاکر علی کو یاد کیا تو کہنے لگے، ''وہ تو کبھی بھی بات نہیں کرتا تھا۔ بالکل ہی چپ رہتا تھا۔ دوستوں میں بیٹھتا تو بس سننے کے لیے، بات کرتے اسے کم ہی دیکھا ہو گا۔ پہلے تو کچھ نہ کچھ تصویروں میں بنا ہی دیتا تھا، آخری دور میں تو بس لمبا سا کینوس ہوتا تھا، بالکل خالی، اوپر کہیں ایک دو کبوتر نظر آ جاتے تھے، میں بہت ہنستا تھا۔ وہ بمبئی سے کراچی اور وہاں سے لاہور آیا تھا۔ شاید این سی اے کا پرنسپل بننے پر آیا تھا۔ بہت اچھا وقت گزرا اس کے ساتھ۔ وہ بہت اداس رہتا تھا۔ اس کی بیوی اسے چھوڑ کر چلی گئی تھی، جب ہم اکیلے ہوتے تھے تو وہ بہت روتا تھا، وہ مجھ سے پوچھتا تھا، یار تم کیسے گزارا کرتے ہو، تمہاری زندگی میں تو کوئی عورت ہی نہیں، میں تو ساٹھ سے اوپر کا ہو گیا، آج بھی نہیں سوچ سکتا۔ میں کہتا تھا: بھئی میرا گزارہ تو ہو جاتا ہے۔ جب اس کا مکان بن رہا تھا تو نیر علی دادا‘ میں اور وہ‘ ہم لوگ دوپہر کو وہاں پہنچ جاتے تھے۔ اسے بہت شوق تھا کہ آرٹ کا نمونہ ہو وہ گھر، اس زمانے میں کہ ابھی وہ بن رہا تھا تو لوگ کہاں کہاں سے اسے دیکھنے آتے تھے۔ لوگ حیران ہوتے تھے کہ جو اینٹ جلی ہوتی ہے، جسے ہم ضائع کر دیتے ہیں، اسے ڈھونڈ ڈھونڈ کر وہ اکٹھا کرتا ہے اور ان اینٹوں سے مکان بنا رہا ہے۔ پھر وہ مکان بن گیا۔
وہ بہت ڈپریشن میں رہتا تھا۔ عبدالرحمن چغتائی کے مرنے پر ایک تعزیتی جلسہ ہوا تو شاکر کو اس کی صدارت کرنی تھی اور کچھ بولنا بھی تھا۔ میں کشور اور یوسف گئے وہ اپنے نئے گھر کے واحد کمرے میں بستر پر لیٹا ہوا تھا۔ شدید اداس تھا۔ کہنے لگا: مجھے نہیں جانا، چغتائی مر گیا ہے ایسے ہی میں بھی مر جاؤں گا بس، وہاں جا کر کیا کہوں گا میں... ہم لوگوں نے زبردستی اسے اٹھا کر گاڑی میں ڈالا اور وہاں لے جا کر بٹھا دیا۔ وہ کچھ تقریر کرکے آ گیا۔ اگلے ہفتے ہم دونوں کہیں بیٹھے تھے تو اس نے یوسف کامران سے کہا کہ یار مجھے گھر لے جاؤ اپنے، کشور سے کہو کچھ اچھا کھانے کو بنائے۔ یوسف فون کرنے گیا، ہم دونوں حسب معمول چپ بیٹھے تھے کہ اچانک میں نے دیکھا‘ اس کا سر آہستہ سے گر رہا ہے اور یہاں تک آ گیا، صوفے تک، وہ بے ہوش تھا اور گیلا سا لگ رہا تھا۔ میں نے شور مچا دیا کہ اسے ہسپتال لے کر جاؤ۔ ہم لوگ اسے یو سی ایچ میں لے گئے۔
وہ اگر وہیں رہتا تو شاید بچ جاتا۔ رامے ان دنوں وزیر تھا۔ اس نے اپنے پیار میں اسے وہاں سے میو ہسپتال منتقل کروا دیا۔ اب وہاں میرا کوئی جاننے والا ڈاکٹر ہی نہیں تھا۔ میں اگلے دن صبح گیا تو اس نے ہلکے سے ہاتھ کو جنبش دی۔ ڈاکٹر بہت حیران ہوا، کہنے لگا: آپ کون ہیں بھئی، یہ تو اب تک کسی کو دیکھ کر کوئی بھی رسپانس نہیں دے رہے، آپ کو دیکھ کر ہاتھ ملانا چاہ رہے ہیں، میں نے کہا بس ایسا ہی ہے۔ دوست ہوں۔
وہ ایک ڈیڑھ ہفتے رہا ہسپتال میں۔ بات چیت یا ہلنا جلنا تو ہوتا نہیں تھا۔ خاموش پڑا رہتا تھا۔ ویسے ہی مر گیا۔ یوسف کامران بھی سعودی عرب گیا کسی امریکی کمپنی میں، جو تیل نکالتی تھی، اس کی بھی لاش آئی وہاں سے، وہ بھی مر گیا۔
شاکر تو لوگوں کو مفت بنا بنا کر بھی تصویریں بہت دے دیتا تھا۔ دوستوں کے گھروں میں اس کی بہت سی تصویریں تھیں۔ ایک دن میں نے کہا: یار تم جو میرے اتنے اچھے دوست ہو، مجھے کچھ بنا کر کیوں نہیں دیتے۔ کہنے لگا تم کیا اپنے گلے میں لٹکاؤ گے۔ میں بہت ہنسا، ٹھیک ہی تو کہتا تھا، پہلے گھر بناؤں تو اس میں تصویریں بھی ٹانگوں‘۔
یادیں اور بہت سی ہیں، کہنے کی بات اتنی کہ زاہد ڈار نے گھر اب تک نہیں بنایا، زاہد ڈار آج بھی اپنی شرطوں پر زندگی جیتے ہیں۔ خدا انہیں صحت اور حوصلہ دے۔ زاہد ڈار اس مصروف زندگی سے فرار کی ایک عمدہ مثال ہیں!