گزرتا وقت اور تھما ہوا سٹیشن

بند جکڑے ہوئے پاؤں کسے پسند ہوتے ہیں؟ بڑے مزے سے دور تک ٹانگیں پھیلائے، جوتے موزے اتارے، ننگے پیروں سے فرش کی ٹھنڈک پورے جسم میں جذب کرتے، کوئی ڈیڑھ سو برس پرانے لکڑی کے بینچ پر میں وہاں آرام سے بیٹھا تھا۔ وہ بات کرنے کی جگہ نہیں تھی۔ اس کے احترام کا خیال کرتے ہوئے ایک سگریٹ سلگائی اور ہمہ تن فراموش ہو گیا۔ اب راکھ کب گل ہوئی، سلگنے والی چیز اپنے آخری دموں تک کیسے پہنچی، کوئی اندازہ نہیں، اصل بات یہ ہوئی کہ زندگی میں پہلی بار اپنا میلا پن برا لگا۔ 
سگریٹ ختم ہوئی تو حسب عادت ایک طرف اچھال دی۔ اس کے گرنے سے پہلے خیال آ گیا کہ نہیں استاد، یہاں نہیں، چپ چاپ اٹھ کر سکون سے ‘‘ٹوٹا'' اٹھایا اور پٹڑی کے بیچ پتھروں میں کہیں پھینک دیا۔ یہ گولڑہ ریلوے سٹیشن تھا اور معیاری وقت کے مطابق وہاں کچھ نہیں بج رہا تھا۔ وہاں سب کچھ ساکت تھا۔ حرکت تھی تو ہمارے پیروں کی تھی جن میں سے دو، جیسا کہ بتایا گیا، اس وقت بغیر جوتوں کے تھے اور بڑی موج کرتے تھے اور دعائیں دیتے تھے اس سنسان بیابان جگہ پر موجود روحوں کو، جنہوں نے ٹائٹ قسم کی ایک چائے پلائی اور بہت تفصیل سے ہر چیز کے بارے میں بتایا۔ 
وہاں میوزیم میں ایک چیز تھی جسے ریٹلر کہتے ہیں۔ وہ جو مٹی کے دو پہیوں میں بانس کی تیلیاں پھنسا کر اور دھاگے لگا کے مسلسل کھینچنے والا ایک آلہ ہوتا تھا، جو عیدوں پہ غبارے والے سے ملتا تھا اور جو چلنے پر ٹک ٹک کی آواز نکالتا تھا اور جس آواز کی وجہ سے ابا لوگ پک جاتے تھے اور اماں لوگوں کی طرف سے باہر رخصت ہونے کا نہایت غیر مہذب اشارہ ملتا تھا، ریٹلر اسی قسم کی ایک چیز ہوتی تھی۔ آواز تقریباً ویسی ہی مگر یہ ہاتھ میں پکڑ کے گھمایا جاتا تھا، آواز آتی تو بٹلر وغیرہ سمجھ جاتے تھے کہ صاحب سلام بولتے ہیں۔ اس وقت تک ملازموں کو بلانے کے لیے کال بیل ایجاد نہیں ہوئی تھی۔ اب تک بھی نہ ہوئی ہوتی تو حرج ہی کیا تھا۔ افسران بالا ریٹلر گھماتے گھماتے کلائیاں مضبوط کر لیتے۔ جیسے جیسے ریٹلر کی جگہ کال بیل نے لی، ویسے ویسے بہت سی فائلوں کا وزن کم ہوتا چلا گیا۔ غلام نبی پٹھان ایک وفاقی وزیر ہوتے تھے۔ انہوں نے چیف سیکرٹری سید فدا حسین سے فون پہ کہا کہ لیاقت علی خان قتل کیس والی فائل بھجوا دیجیے۔ آگے سے ٹال مٹول ہوتی رہی۔ جب بہت جوڑ توڑ کرنے کے بعد فائل غلام نبی پٹھان کے ہاتھ میں پہنچتی ہے تو وہ ایسے خالی تھی جیسے فیل ہونے والے بچے کا رزلٹ کارڈ، ایک بھی صفحہ اندر موجود نہیں تھا۔ کال بیل کا رواج تب تک دفاتر میں زور پکڑ چکا تھا۔ 
ادھر ایمرجنسی میں بجایا جانے والا ایک سائرن بھی موجود تھا۔ سمجھیے اس کا سائز اتنا ہے کہ ایک عام انسان کی ہتھیلی میں سما جاتا ہے۔ جیسے ہاتھ والی سلائی مشین کے ساتھ گھمانے کا ایک بڑا سا پہیہ ہوتا تھا اور اس میں ایک ہتھی لگی ہوتی تھی، ویسے ہی اس میں صرف ہتھی ہے، پہیہ کہیں اندر ہو گا۔ اسے ہاتھ میں قابو کریں اور ہینڈل کو گھمائیں، ایسی زوردار آواز نکلتی ہے جیسے وہ سحری افطاری والا سائرن ہوتا ہے۔ تھوڑا وزن میں بھاری لیکن اتنی زیادہ آواز رکھنے والا سائرن جسے چلانے کے لیے بجلی کی ضرورت بھی نہ ہو، کمال تھا۔ دیکھیے اب سرکٹ کا زمانہ ہے۔ کاویے سے دو ٹانکے گاڑے، چائنا سے سپیکر لیے، سائرن بن گیا۔ معراج وہ تھی جب کچھ بھی نہیں ہے اور کام بھی کرنا ہے۔ ایسی پائیدار اور ہیوی ویٹ لیکن کومپیکٹ مشین کہ وہاں صرف یہی دیکھنے کے لیے جایا جا سکتا ہے۔ 
ظفر اور فقیر ادھر ایسے گھومتے پھرتے تھے جیسے چھوٹے سے بکری کے بچے کسی پسندیدہ جگہ پر چھلانگیں مارتے ہوئے اچھلتے کودتے ہیں۔ صبح چھوٹا سا کام تھا، سرکاری دفتر میں حاضری دی تو وہاں ایک نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ پڑھنے لکھنے کے شوقین تھے، کیمسٹری اچھی بن گئی تو نکلتے ہوئے پوچھا کہ بھائی گولڑہ شریف سٹیشن کا ارادہ ہے، چلیے گا؟ وہ ظفر شاہزیب تھے۔ اس طرح گولڑہ سٹیشن پر دسراہٹ اور ایک قابل فوٹوگرافر نصیب ہوا۔ دبا کے تصویریں بنائیں اور بنوائیں۔ بعض جگہ پہ عکاسی ممکن نہیں ہوتی، لمحہ موجود کو انجوائے کیا جاتا ہے، سو وہ بھی کیا، ہم جیتے جی مصروف رہے۔ 
نت ڈنگدے کلیجہ میرا، تار جدائیاں دے۔ ٹرین کے بعد جب فاصلے کم ہوئے تو محبوب زیادہ دور دراز کے علاقوں میں نوکری کے لیے جانے لگے۔ جو برہنیں پیچھے انتظار میں بال سفید کرتیں انہیں تار کا آسرا ہوتا تھا۔ جدائی کا سہی، پیغام تو آتا تھا۔ تو یہ جو تار تھا یہ ایسی مشین پر آتا تھا جسے ایک انگلی سے آپریٹ کرتے تھے۔ انگریزی ایلفابیٹس کے لیے کوڈ طے تھا۔ جیسے حرف ای لکھنا ہے تو اس مشین کا اکلوتا بٹن دبا کے ایک چھوٹی سی بیپ دی جاتی، ٹوں کی وہ آواز جب دوسری جگہ پہنچتی تو کوڈ سمجھنے والا فوراً کاغذ پر ‘‘ای'' لکھ دیتا۔ پھر آئی کے لیے دو دفعہ ٹوں ٹوں کی آواز بھیجی جاتی، حرف ڈی کی آواز ایک لمبی اور دو چھوٹی ٹوں پر مشتمل ہوتی۔ اس طرح عید مبارک کا پیغام مکمل ہو کے دور دیس سے آ جاتا اور ٹکوں کی نوکری میں لاکھوں کا ساون رلتا رہتا۔ پوری اے بی سی کے لیے چھوٹی ٹوں اور طویل ٹوں کے مختلف کمبینیشن بین الاقوامی طور پہ طے کیے گئے تھے اور انہیں مورس کوڈ کہا جاتا تھا۔ تو وہ پیغام بھیجنے والا در دلکشا، وہ مشین بھی اس میوزیم میں آرام کرتی ہے۔ چار پانچ برس پہلے پوری دنیا سے تار بھیجنے کا سسٹم ختم ہو چکا، اب کمپیوٹر پہ آمنے سامنے بیٹھ کر آنسو بہائے جاتے ہیں۔ ہزاروں میل دور بیٹھے ایک دوسرے کے پل پل کی خبر ہوتی ہے، یقین مگر دو کوڑی کا بھی نہیں ہوتا۔ 
اس وقت سکول کے بچوں کی ایک لمبی سی قطار وہاں سے نکل رہی تھی جب ماضی کی اس دھند میں دو پیادے داخل ہوئے۔ ایک نے سوچا کہ یہ قطار بنانا بھی آخر کیوں ضروری ہے۔ بچہ تو بچہ ہے، اگر اسے گھمانے لائے ہیں تو تھوڑا کھل کے گھومنے پھرنے دیا جائے، لیکن پھر بعد میں یہ خیال ایسے دھندلا گیا جیسے سردیوں میں نہانے کے بعد آئینے پر دھند پڑتی ہے۔ اب جو آئینہ صاف ہوتا جاتا ہے تو بہت سی دوسری چیزیں یاد آنے لگتی ہیں۔ 
وہاں پہنچتے ہی سب سے پہلے شاندار قسم کے برگد اور پیپل کے درخت استقبال کرتے ہیں۔ ساتھ ہی وہ مختصر سی عمارت ہے جو اٹھارہویں صدی کے آخر میں انگریزوں نے بنائی۔ اس وقت یہ درخت چھوٹے ہوں گے اور عمارت بڑی ہو گی۔ اب یہ درخت اسے سایہ بھی آفر کر سکتے ہیں۔ وقت وقت کی بات ہے۔ تو عمارت اب چھوٹی لگتی تھی اور درخت عظیم الشان تھے اور پکار پکار کے کہتے تھے کہ آؤ، یہاں چہل قدمی کرو۔ دن میں کرو گے تو لوگوں کی آوازیں سنو گے، ٹرینیں آئیں جائیں گی، رات میں کرو گے تو ہمارا حال بانٹو گے اور اپنی خبر بھی دو گے۔ رات مگر کون کالی کرے۔ انہیں یہ علم نہیں کہ اب رات بہت سے دوسرے مشاغل کی نذر ہو چکی ہے۔ وہ وہیں کھڑے ہیں جہاں سوا سو برس پہلے کھڑے تھے۔ غریب جاندار، لاچار درخت! 
میگا پروجیکٹس کے بجٹ کا ہزارواں حصہ اگر یہاں دان کیا جائے تو اتنا ریوینیو اکٹھا ہو سکتا ہے جتنا کوئی جھوٹ بولے۔ یہاں لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا سیلون موجود ہے، مہاراجہ جودھپور کی بیٹی کو جہیز میں ملنے والی رائل بوگی موجود ہے، تنگ پٹریوں پر چلنے والے چھکڑے تن تنہا کھڑے ہیں، شیر کے منہ والے پرنالے ہیں، جرمنی کی پوسٹل ریل کا ڈبہ ہے، اور پھر ایک سٹور ہے۔ اس سٹور کے اندر کئی گھڑیال کسی ٹھیک کرنے والے کے انتظار میں ہیں۔ وکٹورین عہد کا شاندار فرنیچر ہے۔ وہ لمبی والی آرام کرسیاں ہیں۔ کالے رنگ کے چھوٹے سلیپر پنکھے ہیں۔ دو پروں والے بڑے پنکھے ہیں۔ جنگوں میں چھینی جانے والی کمیونیکیشن مشینیں ہیں، جو فخریہ نہ دکھائی جائیں تو بھی اتنی ہی متاثر کن ہیں، کہ وہ قدیم ہیں، اور کیا کیا کچھ ہے۔ اللہ اکبر! گورے ان چیزوں پہ پاگل ہوتے ہیں۔ ہم نہیں ہو سکتے کیوں کہ ہم عقل مند ہیں۔ تو وہ باہر ملک سے دوڑے ہوئے آئیں گے اگر صرف یہ سٹیشن مزید بنا سنوار کے طریقے سے پروموٹ کیا جائے اور یہ ساری چیزیں یہیں موجود رہنے دی جائیں! اللہ بس ‘ باقی ہوس۔ 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں