کیا وہ لوگ واقعی برے تھے؟

وہ اتنے زیادہ برے نہیں تھے جتنا انہیں سمجھا گیا۔ انہوں نے زندہ رہنے کا ایک الگ طریقہ بتا دیا۔ وہ تھا ہی اتنا دلچسپ کہ جس کا دل چاہتا جا کر ان کے ساتھ مل جاتا۔ بڑھے ہوئے بال، یہ لمبی لمبی داڑھیاں، ڈھیلی ڈھالی پرانی جینز، کوئی بھی شرٹ، یا بعض اوقات نہیں بھی، مناسب حد تک میلے اور شہر شہر گھومتے یہ لوگ ماڈرن خانہ بدوش تھے۔ خواتین عموما پھولدار میکسی نما جھبلے پہن لیتیں یا پھر وہی پینٹ شرٹ ان کا بھی لباس ہوتا تھا۔ میک اپ وغیرہ کا کوئی چکر نہیں پالتی تھیں۔ ہپی، بوہمئین، ہپسٹر، انہیں کچھ بھی کہا جا سکتا ہے۔ ہمارے یہاں جدید ڈکشنری کے مطابق انہیں جہاز کا خطاب دے لیجیے۔ انیس سو چونسٹھ پینسٹھ کے آس پاس یہ تحریک امریکہ سے شروع ہوئی اور جنگل کی آگ کے جیسے دنیا بھر میں پھیل گئی۔ ان پر اپنے زمانے کے مشہور زمانہ میوزک بینڈ ''بیٹلز‘‘ کا اثر بھی بہت زیادہ تھا۔ وہ پرانے وقتوں کی طرح پورے پورے قبیلے بنا کے رہتے اور موج مستی کیا کرتے تھے۔ 
جیسے ہر نارمل انسان نشہ نہیں کرتا، ویسے ان میں سے بھی کچھ تھے جو نہیں کرتے تھے۔ جو کرتے تھے وہ ایک دم سائیں لوگوں کی طرح کوئی کونا ڈھونڈ کے پڑے رہتے۔ پیسہ ویسہ کمانے کی ٹینشن سے مکمل فرار تھا۔ جہاں ہیں جیسے ہیں، لیٹے ہوئے ہیں۔ اٹھیں گے تو کوئی چھوٹا موٹا پارٹ ٹائم دھندا کر کے واپس آ جائیں گے، اتنا کہ دو وقت کا نشہ پانی ہو جائے، باقی راوی چین ہی چین لکھتا تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ جو اچھا لگے وہ کر لو، آ کے پھر سو جاؤ۔ یہ ایک طرح کے ملنگ تھے اور اس سارے معاملے کا بنیادی تصور بھی مشرق سے ہی لیا گیا تھا۔ روحانیات، بیٹلز کا اورئنٹل ٹچ اور بھنگ یا ''ماری جوانا‘‘ اس کمیونٹی کی بنیادیں تھیں۔ بعض اوقات اگر انہیں مناسب جگہ مل جاتی تو یہ گزارے لائق سبزیاں اور نشہ آور اجناس اگانے کا جتن بھی کر لیا کرتے۔ ان کی آخری منزل سکون تھا۔ وہ سکون جو مصروف ہوتی زندگی سے نکل چکا تھا۔ 
نشے کی حد تک بات پلے پڑتی ہے کہ ٹن ہوئے اور سو گئے لیکن ان کا میوزک بہت شور والا تھا۔ اس میں سکون کیسے ملتا ہو گا، یہ سوچنے والی بات ہے۔ سائیکیڈلک راک... اسے کیسے سمجھا جائے؟ کبھی اگر کمزوری سے یا کسی وجہ سے چکر آ رہے ہوں، اور اس وقت کوئی بھرپور دھمک اور پاگلوں کی طرح بجائے گئے گٹار پر مشتمل گانا سنا جائے تو وہ کانوں میں آتی ہوئی آواز، پاگل آواز۔۔ شاید سائیکیڈلک راک کے قریب ہو گی۔ جو بھی تھا انہیں بہت پسند تھا۔ جیسے ہم کلاسیکی موسیقی سے گزر کے 'ہوا ہوا اے ہوا‘ تک گئے اسی طرح وہ بھی بیٹلز کو پراں مار کے ہارڈ راک کے چکر میں لگ گئے۔ ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں۔ 
ہپی دائیں بائیں بازو کی سیاست میں زیادہ نہیں پڑتے تھے۔ نیچر میں بے شک وہ بائیں والوں کے نزدیک تھے‘ لیکن انہیں لفٹاتا کوئی بھی نہیں تھا۔ وہ تھے ہی ایسے، وہ روایات کو نہیں مانتے تھے، عقائد کی اقدار ان کے یہاں الگ تھیں، ایٹم بم جیسی دھانسو چیز کے وہ خلاف تھے، جنگوں سے ان کا دل بھر چکا تھا بلکہ ایک طرح سے یہ پوری تحریک ہی دوسری جنگ عظیم کا رد عمل تھی۔ ہاں، وہ سبزیاں وغیرہ کھا لیتے تھے، سادہ خوراک استعمال کرتے، پیچیدہ ڈرگز لیتے اور اپنی برادری میں دھت پڑے رہا کرتے۔ وہ گلی محلوں میں جا کے چھوٹے موٹے سٹیج ڈرامے کرتے، میوزک بجا لیتے، اور کسی بھی گروہی یا سیاسی پھڈے میں ٹانگ نہیں اڑاتے تھے۔ کل ملا کے وہ ہر اس چیز کو برا سمجھتے تھے جو انہیں فالتو کی جدوجہد میں الجھائے یا مفت کی ٹینشن دے۔ کچھ عرصے بعد انہیں احساس ہوا کہ یار یہ صرف اپنے لیے امن شمن کی بانسری بجانا ٹھیک نہیں ہے اس کے سُر دنیا تک پہنچنے چاہئیں‘ تو انہوں نے جلوس وغیرہ نکالے مگر وہ بھی ایک دم دھنیا پی کر، بالکل شانت، مدھم سروں کا احتجاج ہوا کرتا تھا۔ 
پھر وہ جواں گزر گئے۔ وہ الجھا دئیے گئے۔ انہیں بہت سی چیزوں کے ساتھ مکس کر دیا گیا۔ نشہ آور چیزیں خصوصاً ایل ایس ڈی اور بھنگ بالکل ہی بین کر دی گئی، کہا گیا کہ یہ لوگ چوریاں کرتے ہیں، ڈاکے ڈالتے ہیں، آپس میں جھگڑے کرتے ہیں، جہاں آباد ہوتے ہیں وہاں اور کوئی نارمل زندگی نہیں گزار سکتا۔ باقاعدہ مہم چلائی گئی کہ نوجوانوں کو اس تحریک سے نفرت دلائی جا سکے۔ ان کا اصل قصور بہرحال وہی تھا کہ وہ جنگ سے نفرت کرتے تھے۔ ویتنام جنگ کے خلاف سب سے بڑا مظاہرہ بھی انہی بھائی بندوں نے کیا تھا۔ وہ اتنے زیادہ لوگ تھے کہ امریکی صدر کو خود ان کے پاس جا کر مذاکرات کرنا پڑ گئے تھے۔ بارہ ہزار نوجوان گرفتار ہوئے اور صرف ایک ہی سال بعد ویت نام پہ مسلط امریکی جنگ ختم ہو گئی۔ اس جنگ کا خاتمہ سمجھ لیجیے کہ ہپیوں کے مٹ جانے کا بھی سبب بنا۔ عام لوگ انہیں اس قدر ناپسند کرتے تھے کہ ان سے خواہ مخواہ جھگڑوں میں الجھ جاتے تھے‘ جیسے ہمارے یہاں کسی نشئی کو بھیک نہیں دی جاتی، چاہے اس نے واقعی کھانا ہی کھانا ہو۔ یہ لوگ آخر کار آہستہ آہستہ واپس اسی زندگی کی طرف چلے گئے جہاں سے انہوں نے فرار چاہا تھا۔ کچھ مستقل مسافر بن گئے، کچھ عادی نشہ باز بھی رہے، چند ایک چھوٹی برادریاں بنا کے الگ بھی ہوئے لیکن جدید دنیا کے ششکے آخر سب کو کھینچ کھانچ کے واپس لے آئے۔ 
وہ لوگ بہت کم ہو گئے، ان کی تحریک ختم ہو گئی لیکن صنفی مساوات، نسل پرستی، انسانی برابری اور ملکیت وغیرہ کے پرانے تصورات میں وہ اچھا خاصا ڈینٹ ڈال گئے۔ انسان کو فطرت کے قریب جانے کا خیال دلانے میں بھی ان کا اہم کردار تھا۔ لوگ سوچتے تھے کہ یار آخر ایسا کیا ہے جو ہر بندہ اٹھ کے ان میں جا ملتا ہے، تو ان کی بہت سی چیزیں لوگوں میں مانی بھی گئیں۔ وہ جو ہم لوگ فرسبی کھیلتے تھے، بڑی سی پلیٹ نما چیز کو گھما کے پھینکنا، وہ بھی انہیں کا گیم تھا۔ یہ ہمارے ٹرکوں پر جو بھرپور قسم کا آرٹ ہوتا ہے، آتشیں گلابی، بھڑکیلا سبز، چمکتا زرد اور چیختا پیلا رنگ استعمال ہوتا ہے، یہی سب وہ بھی کیا کرتے تھے۔ آج بھی ہر یونیورسٹی یا کالج میں کچھ بچے بال بڑھائے، الٹا سیدھا حلیہ بنائے لاپروائی سے پھرتے نظر آتے ہیں۔ یہ سب اسی ہپی کلچر کی باقیات ہیں۔ امن کو انگریزی میں پیس کہتے ہیں، ہمیں معلوم ہے، تو یہ جو پیس کا انٹرنیشنل نشان ہے، ایک دائرہ، اسے آدھے میں کاٹتی ایک لائن اور اس لکیر کے درمیان سے شروع ہوتا ایک الٹا وی۔ یہ پیس سائن بھی ہپیوں کی دین ہے۔ دوسری عالمی جنگ میں ہونے والی تباہی کے بعد ایٹم بم کے رد میں ایک مہم چلی تھی اس کے لیے انہوں نے یہ نشان بنایا تھا۔ 
یہ سب کچھ باہر سے بیٹھ کے اچھا لگتا ہے۔ ہپی بننا آسان کام نہیں تھا۔ نہ سامان، نہ باتھ روم، نہ کھانے پینے کا مناسب انتظام، نہ بجلی نہ پنکھے نہ گیس نہ ہیٹر، کچھ بھی نہیں ہوتا تھا۔ بس دل کی ایک موج اٹھتی تھی اور غولوں کے غول بہا کے لے جاتی تھی۔ جدید دنیا کسی کو ہپی نہیں بننے دیتی۔ وہ ہمارے دماغوں میں بھی الیکٹرانک چپ ڈالنے کی تیاری کر چکے ہیں۔ موبائل ہمارے گلے کا ہار ہے، ٹی وی ہمارے گھروں کی زینت ہے، اے سی کے بغیر ہمارا دم نکلتا ہے، پیدل چلتے ہوئے غش آتے ہیں، کھانا، کھانا، صرف کھانا، دبا کے کھانا، بغیر کسی مقصد کے کھانا اور کھانا کھا کے پھر دوبارہ کھانا ہمارے پسندیدہ مشغلے ہیں اور ان سب چیزوں کے لیے پیسے پیدا کرنا ہمارا واحد اول و آخر مقصد۔ 
ہپی تو جنہوں نے بننا تھا وہ بن گئے، ہمارے پاس تو زندگی سکون سے گزارنے کا بھی آپشن نہیں ہے یار، یا ہے؟ 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں