میں نے سوئٹر بُننا اس وقت سیکھا تھا جب شاید میں تیسری یا چوتھی جماعت میں تھا۔ دادی ہر وقت ہاتھ میں گرے رنگ کی دو سلائیاں رکھتی تھیں۔ نماز ختم کی اور سلائیاں اٹھا لیں، نماز شروع کی تو انہیں جانماز کے ساتھ رکھ دیا۔ وہ زیادہ تر موٹی اون سے سوئٹر بناتی تھیں۔ نظر کمزور تھی تو شاید انہیں اس طرح زیادہ آسانی ہوتی ہو گی۔ مرون، براؤن، گرے ، نیلا، فیروزی، سفید، کالا، کریم، سرخ یہ سب رنگ ان کے پاس موجود گچھوں میں نظر آتے تھے ۔ جب کسی بھی رنگ کا سٹاک کم ہوتا تو کینٹ میں ایک دکان ہوتی تھی، ادھر سے امی یا ابو جا کر لے آتے ۔ یہ چوبیس گھنٹے کچھ نہ کچھ بُننے والا کام بڑا مزے کا لگتا تھا۔ کبھی سوئٹر بن کے سامنے آ رہا ہے ، کبھی گول ٹوپی، کبھی موزے کبھی کانوں والی ٹوپی، تو یہ کام ایسا فیسینیٹ کرتا تھا کہ دادی سے ضد کر کے سیکھ لیا۔ پھر کچھ عرصے بعد بھول بھال گیا۔ کسی اور کام میں لگ گیا۔ بعد میں چھٹی جماعت آئی تو مسز ارشاد ایک ٹیچر ہوا کرتی تھیں، بہت نرم مزاج کی، وہ کبھی ڈانٹتی بھی نہیں تھیں۔ ہم لوگ کلاس ورک شروع کرتے تو وہ یہی سلائیاں لے کر بیٹھ جاتیں اور کچھ نہ کچھ بننے لگتیں۔ اس وقت تک یہ فیشن ذرا کم ہو گیا تھا۔ سوئٹر بننے والی مشینیں آ گئی تھیں۔ اچھے سے اچھا نمونہ ایسے اٹھاتیں اور آدھے دن میں سوئیٹر ریڈی کر کے یہ ایک طرف دھر دیا کرتیں۔ پھر تھوڑا سا اور بڑا ہوا تو مجھے ہاتھ سے بنی ہوئی چیزیں پسند نہ رہیں۔ مجھے اس سوئیٹر کی بنائی موٹی لگتی تھی جو ہاتھ سے بنا گیا ہو، اندر موجود اون کی گرہیں بھی اتنی نفیس نہیں لگتی تھیں۔ ریڈی میڈ سوئیٹر کی چمک ہی اور ہوتی ہے ۔ باریک ترین اون، کم وزن، خوبصورت ڈیزائن، تو بس سب چیزیں پیچھے رہ گئیں۔
امی تین بہنوں اور تین بھائیوں کی بہن ہیں۔ ہم سب خالہ زاد کزنز کے گھروں میں ایک چیز مشترک ہے ۔ سوئی دھاگے سے کپڑے پہ بنی ہوئی ایک پرانے زمانے کی گڑیا جس کا خوب پھولا ہوا سا فراک ہے ۔ اس کے دونوں بازوؤں پہ کندھوں کے نزدیک بھی آستینیں پھولی ہوئی ہیں جیسے سموکنگ کی ہو۔ کل ملا کے سنڈریلا ٹائپ کی گڑیا ہے ۔ کینوس سے تھوڑے پتلے کپڑے پہ شیڈو ورک جیسے ٹانکے سے کشید کی ہوئی یہ گڑیا امی کے پاس قرمزی رنگ میں تھی، باقی سب خالاؤں کے پاس الگ الگ رنگ تھے ۔ کپڑا سبھی کا چمپئی سے رنگ کا تھا، کڑھائی والا دھاگہ الگ تھا۔ نانی نے سب بیٹیوں سے جہیز میں رکھنے کے لیے دستکاری کے جو نمونے تیار کروائے تھے یہ ان میں سے ایک تھا۔ پھر وہ کراس سٹچ والا سگھڑ پن بھی اکثر گھروں میں نظر آیا کرتا تھا۔ کوئی سینری، کوئی گھوڑا، کوئی مخصوص جیومیٹریکل ڈیزائن، اور کچھ نہیں تو سر کے نیچے تکیوں پہ ہی کراس سٹچ میں کچھ نہ کچھ بنا ہوتا تھا۔ پیارے بچو، جیسے کسی کم ریزولیوشن والی تصویر کے پکسل پھٹ جائیں یا اسے بہت زوم کیا جائے اور وہ ڈبے ڈبے سے دکھانے لگے تو بس چارسوتی پہ بنا کراس سٹچ والا ڈیزائن وہی چیز ہوا کرتا تھا۔
سیما باجی (پھپو) کے پاس ہر وقت کوئی نہ کوئی کڑھائی والا کام ہوا کرتا تھا۔ وہ جیسے عربی اپنے سر پہ عقال باندھتے ہیں اسی جیسا لکڑی کا گول فریم ہوتا تھا، اس میں کپڑا پھنسایا، ڈیزائن ٹریس کیا اور اس پہ کام شروع ہو گیا، شوق شوق میں یہ بھی کر کے دیکھا۔ اچھا مزا آتا تھا لیکن آنکھیں چندھیا جاتی تھیں۔ باریک کام تھا، چھوڑ دیا۔ پھر میٹرک کا زمانہ آ گیا۔ اس وقت سکن ٹائٹ جینز کا فیشن اسی کی دہائی کے بعد دوبارہ آنا شروع ہوا تھا۔ میں اور جفی (پارٹنر ان کرائم) امی کی ہاتھ سے چلنے والی سلائی مشین لے کے بیٹھ جاتے اور تین چار پینٹیں ایک ہی ہلے میں سکن ٹائٹ کر کے اٹھتے تھے ۔ پھر امی جب تک آرام سے چل پھر سکتی تھیں تب تک انہیں شاپنگ کروانے والا بیٹا بھی میں ہی تھا۔ پورا مرد، الحمدللہ، لیکن آر والا کام، چکن کا کام، شیڈوورک، مقیش، کروشیہ، بلاک پرنٹ اور بہت سے دوسرے لوازمات علم میں تھے۔ چھوٹی بہن اس وقت بہت چھوٹی تھی تو اس قسم کے مشورے انہیں بڑے شوق سے دیتا تھا۔ اپنی شادی پہ دلہن کے لیے جو کپڑے بنوائے ان کی ڈیزائیننگ بھی خود کی تھی۔ اصل میں بس ایک آنچ کی کسر رہ گئی ورنہ بھائی ایک زبردست کرافٹوسٹ ہوتا۔
کرافٹوزم (Craftivism) شاید اس وقت کچھ زیادہ پھیلا ہوا آئیڈیا تھا بھی نہیں۔ یہ سب کام جو صدیوں سے ہماری مائیں، دادیاں، نانیاں اتنی محبت سے کرتی چلی آتی تھیں ہم انہیں بڑا لائٹ لیتے تھے ۔ یعنی اسے آرٹ تو سمجھا ہی نہیں جاتا تھا۔ ہاں بہت ہوا تو سگھڑ پن کا ایک حصہ سمجھ لیا کہ دلہن سلائی کڑھائی جانتی ہے ۔ تو مغرب نے ایک شعور ہمیں اس حوالے سے بھی دیا کہ او بھلیو لوکو، یہ جو تم اپنی بزرگ ماؤں کے کیے ہوئے کام کو اہمیت ہی نہیں دیتے ہو تو کیا یہ ظلم نہیں ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ جیسے ایک آئل پینٹنگ آرٹ ہے ، ایک فلم بنانا آرٹ ہے ، ایک مجسمہ بنانا آرٹ ہے ، ویسے ہی تکیے پہ، چادر پہ، رومال پہ، تولیے پہ یا کسی بھی کپڑے پہ کوئی بھی ڈیزائن بنا دینا جو ہے وہ اٹ سیلف ایک آرٹ ہے ، کرافٹ ہے ۔ اب یوں ہوا کہ سن دو ہزار کے بعد کرافٹوزم والی تھیوری ذرا زیادہ سپیڈ سے پھیلنا شروع ہوئی۔ جنگوں کے خلاف مظاہرے ہوتے تو لوگوں نے گلابی رنگ کی اون سے بنا ہوا ٹینک اٹھایا ہوتا، کسی نے ہٹلر کی تصویر کے اوپر لال دھاگے سے آؤٹ لائن بنائی ہوتی، کبھی کسی نے عدالتی فیصلے کے خلاف احتجاج کرنا ہوتا تو منہ پہ اون سے کڑھائی کیا ہوا کپڑا باندھ لیا جاتا جس پر اپنا احتجاجی نعرہ درج ہوتا، اس طرح رنگ برنگے ڈیزائنوں والا کرافٹوزم دادیوں نانیوں کے فن کو لے کے آگے بڑھتا رہا۔
آج یہ گورکھ دھندہ اس طرح شروع ہوا کہ ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کا ایک انٹرویو دو چار روز پہلے کسی غیر ملکی اخبار میں آیا تھا، وہ نظر آ گیا۔ اس میں انہوں نے اپنی پچھلے سال والی ویڈیو کے حوالے سے بہت ساری باتیں کیں، ساتھ میں یہ ہوا کہ آخر میں ان کی ویب سائٹ کا ایڈریس درج تھا۔ وہاں اس ویب سائٹ پر جو کچھ بھی موجود تھا بنیادی طور پر وہ سب کرافٹوزم کا ہارڈ کور ورژن تھا۔ آرنلڈ شیوارزنیگر کی تصویروں پہ کڑھائی کی ہوئی ہے ، کہیں ان پہ ٹرک آرٹ کے نمونے بنے ہوئے ہیں، کہیں کسی تصویر پہ سوئی دھاگے سے آؤٹ لائن بنائی ہوئی ہے ، کہیں بڑا سا پینٹنگ میورل ہے جس پہ ایک ہی بات بار بار لکھی ہوئی ہے ، "اگر ہم انہیں قتل کر دیں، اس سے پہلے کہ وہ ہمیں ماریں" اور کوئی دیوانگی سی دیوانگی ہے ! یہ سب کچھ اس جوان رعنا کے ہاتھوں شدت پسندی کے خلاف آگاہی پھیلانے کے غرض سے کیا گیا کام تھا جو مختلف اوقات میں ہوا اور جمع ہوتا گیا تو ویب سائٹ پہ آ گیا۔ بس وہ دیکھا تو یاد آیا کہ کرافٹوزم اپنی اصل میں ہے کیا، اس پہ تھوڑی بات ہونا ضروری ہے ، سو بات ہو گئی۔
اب جانے کا وقت ہے تو ایک شکر واجب ہے ۔ مرے مولا نے خیر کی جو کرافٹوسٹ بنانے میں ایک آنچ کی کسر رکھ دی، بھائی سب کچھ بھول بھال گیا بس سوئی دھاگے سے بٹن لگانا اب بھی آتا ہے ۔ ہوتا یہ ہے کہ آج بھی گلیوں محلوں، بازاروں میں سلائی کڑھائی کے سارے کام مرد کرتے ہیں، ریٹے والا، پیکو والا، بیلوں والا، گوٹے والا، چوڑی والا بلکہ درزی تک سب مرد ہوتے ہیں لیکن پھر بھی یہ سارے کام کسی "معزز" مرد سے منسلک ہو جائیں تو اسے اور کام، دونوں کو عجیب نظروں سے دیکھا جاتا ہے ۔ ہم لوگ نہ آج تک سوئی ایجاد کر سکے اور نہ دھاگے سے وابستہ کوئی بھی فن ہمارے نزدیک قابل عزت ہوا۔ چونکہ معاشرہ مرد کے گرد گھومتا ہے اس لیے فن بھی وہی قابل عزت ہو گا جو "مردانہ"کہلایا جاتا ہو۔ بھٹو کا پوتا یہ سب کچھ کرتا ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ ہائے دادا کیا تھا، پوتا کیا نکلا، ڈاکٹر صاحب کا پوتا بھی اگر کالم لکھنے کی بجائے کسی پسندیدہ سیاسی لیڈر کی تصویر پہ کڑھائی کر دیتا تو کم از کم گلی محلے کے لوگ تو یہی کہتے ، ہائے ڈاکٹر صاحب کیسے اچھے ، نیک، شریف آدمی تھے ، پوتا کیا نکلا!