گزشتہ ماہ 29 نومبر کو بری فوج کی کمان کی تبدیلی کی تقریب کے بعد نئے سپہ سالار کے ساتھ ملاقات میں ایل او سی پر جاری صورتحال سے متعلق میرے سوال پر جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ '' بیٹا گھبراؤ نہیں، سرحدوں پر صورتحال جلد بہتر ہوجائے گی‘‘ ۔ یوں تو کہنے کو یہ محض ایک جملہ تھا، لیکن واقعی حقیقت میں بھی بالکل ویسا ہی ہوا ہے۔گزشتہ دو ماہ کی نسبت اگر گزشتہ دو ہفتوں کو دیکھا جائے تو سرحدوں، ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر صورتحال اب بہت بہتر ہوچکی ہے۔ اس خوشگوار تبدیلی پر نئے آرمی چیف کے بارے میں میرا یہ تاثر پہلے سے زیادہ گہرا ہوگیا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ ناصرف ایک پروفیشنل سپاہی ہیں بلکہ یہ بھی کہ وہ ہر بات ناپ تول کہ کہنے اور پھر اپنی بات نبھانا بھی بخوبی جانتے ہیںلیکن انتہائی افسوسناک طور پر اس حوالے سے بھی میڈیا کے بلوں میں گھسے خود ساختہ دانشوروں نے ایسی ایسی سازشی تھیوریاں گھڑ لیں کہ الامان الحفیظ!کچھ لوگ تو یہاں تک سوچنے لگے تھے کہ خدانخواستہ کمان کی تبدیلی کے بعد شاید ملک دشمن عناصر کے ساتھ کسی رو رعایت کا مظاہرہ کیا جائے گا یا ایل او سی، ورکنگ باؤنڈری اور سرحدوں پر پاکستان کی جانب سے کسی لچک کا مظاہرہ ہوگا !ایسا سوچنے والے پرائے کم اور ''اپنے‘‘ زیادہ تھے، اس کے برعکس دشمن کچھ اور ہی سوچ رہا تھا اور اِسی سوچ نے دشمن کو سرحدوں پر اپنی توپیں خاموش کرنے پر مجبور کردیا۔
سب سے پہلے آتے ہیں اس طرف کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے آرمی چیف بنتے ہی سرحدوں پر دشمن کی توپیں اور بندوقیں خاموش کیوں ہوگئیں تواس کیلئے سابق بھارتی آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ کا پاکستان کے نئے آرمی چیف سے متعلق بیان ہی کافی ہے۔ اِس بیان میں جنرل بکرم سنگھ نے کہا تھا کہ ''جنرل قمر جاوید انتہائی شاندار اور پیشہ ورانہ فوجی افسر ہیں، پاکستان کے نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی کارکردگی انتہائی پیشہ ورانہ اور شاندار رہی ہے، جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانگو میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں میرے ساتھ کام کیا تھا جہاں ان کی کارکردگی ناقابل بیان رہی۔ اگرچہ ایک فوجی افسر ملک سے باہر مختلف انداز میں کام کرتا ہے کیونکہ وہ وہاں اپنے ملک کی نمائندگی کر رہا ہوتا ہے لیکن جب بات ملک کے مفاد کی ہوتو اس کا طرز عمل الگ ہوتا ہے لہٰذا اب بھارت کو صبر سے کام لینا ہو گا، جنرل قمر جاوید باجوہ پاک فوج کی سب سے بڑی 10 ویں کور کے کورپس کمانڈر کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں اور اِسی وجہ سے وہ پاکستان کی بھارت کے حوالے سے پالیسی کے بارے میں مکمل طور پر آگاہ ہیں اور جہاں تک پاک فوج کی کشمیر کے حوالے سے پالیسی ہے کا تعلق ہے تو جنرل باجوہ اس پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے‘‘۔ جنرل بکرم سنگھ کا یہ بیان پڑھنے کے بعد یہ سمجھنا چنداں مشکل نہیں کہ دشمن نے سرحدوں پر اپنی بندوقوں کے منہ اور توپوں کے دھانے بند کرنے میں ہی عافیت کیوں محسوس کی؟
اب آتے ہیں جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے حال ہی میںپاک فوج میں اعلیٰ سطح پر کی جانے والی تبدیلیوں کی جانب! تو جناب یہ تبدیلیاں بھی جنرل قمر جاوید باجوہ کی ایک دور اندیش اور مکمل پروفیشنل سولجر سوچ کی عکاسی کرتی ہیں۔مثال کے طور پر لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کی بطور کورکمانڈر کراچی اور لیفٹیننٹ جنرل بلال اکبر کی بطور ڈی جی رینجرز سندھ شراکت میں کراچی میں ملک دشمن عناصر کے خلاف دو سال تک ٹارگٹڈ آپریشن جاری رہا اور وہاں اس پارٹنرشپ سے کراچی کو دوبارہ عروس البلاد بنانے میں بھی بڑی کامیابی ملی۔ جنرل قمر باجوہ کی جانب سے اپنی ٹیم مرتب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کی بطور ڈی جی آئی ایس آئی اور لیفٹیننٹ جنرل بلال اکبر کی چیف آف جنرل اسٹاف تعیناتی سے بھی یہ پیغام ملتا ہے کہ کراچی میں دونوں کے درمیان شاندار کوآرڈینیشن کارآمد رہی، جس کو حالیہ تبدیلیوں میں ناصرف تسلیم کیا گیا بلکہ اعلیٰ سطح پر جاری بھی رکھا گیا ہے۔ اب مستقبل میں بھی ملک کی اندرونی سکیورٹی میں دونوں مذکورہ جرنیلوں کا کردار نہایت اہمیت کا حامل رہے گا۔
انٹر سروسز انٹیلی جنس ایجنسی کی سربراہی کیلئے لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کا چناؤ بھی جنرل باجوہ کے حسن انتخاب کا آئینہ دار ہے۔نئے آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار قبل ازیں اِسی ادارے میں بطور ڈئریکٹر کاؤنٹر ٹیرر ازم خدمات سرانجام دے چکے ہیں، جہاں اُنہوں نے بلوچستان سے لے کر وزیرستان اور کراچی تک مسلح گروہوں کی بیخ کنی میں اہم کردار ادا کیا۔کوئٹہ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے گریجوایشن کے بعد امریکہ وار کالج سے اکتساب علم کرنے والے لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار ''افغانستان: متبادل مستقبل اور اثرات‘‘ کے عنوان سے اپنے تحقیقی پیپر میں اپنی سوچ واضح کرچکے ہیں کہ ''پاکستان کا ماضی، حال اور مستقبل افغانستان سے وابستہ ہے، ایک متحد و مستحکم افغانستان پاکستان کی سکیورٹی اور پالیسی کے لیے اہمیت کا حامل ہے، پاکستان کو چاہیے کہ افغانستان میں ایک اور مخاصمانہ محاذ روکنے کی کوشش کرے، افغانستان انڈیا کی پراکسی وار بن سکتا ہے، پاکستان، افغانستان میں انڈیا کے اثرو رسوخ بڑھنے کو قریب سے دیکھے گا اور اس کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات لے سکتا ہے‘‘۔ آنے والے دنوں میں افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی یا کسی بھی حکمت عملی میں تبدیلی کو اِسی تناظر میں دیکھنا ہوگا۔
کراچی میں بطور کورکمانڈر تعیناتی کے دوران حکومت کی بدانتظامی پر کھلی تنقید کرنے والے لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار سمجھتے تھے کہ ''کراچی میں امن و امان کی صورتحال غلطیوں اور ناکامیوں کے باعث خراب ہوئی جن میں انتظامی ناکامی اور ناکارہ سیاست شامل ہے اور یہ کہ سندھ میں حکومت تو ہے لیکن حکومت کے اثر ورسوخ میں کمی آئی ہے‘‘۔لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کراچی میں بدانتظامی پر گہری نظر رکھنے کے علاوہ زمینوں پر قبضوں، بندرگاہوں سے بھتوں اور ایرانی تیل کی اسمگلنگ سمیت دیگر ذرائع سے سالانہ 230 ارب روپے سے زائد رقم غیر قانونی طریقوں سے وصول کرنے والے سیاستدانوں کے بارے میں بھی بہت کچھ جانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کرپشن اور دہشت گردی کا گٹھ جوڑ توڑنے کے نظریے کے پیچھے بھی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کا ذہن رسا ہی کارفرما تھا۔
قارئین کرام!! کپتان اپنے کردار، ٹیلنٹ اور عزم کے ساتھ ساتھ اپنی ٹیم سے بھی پہچانا جاتا ہے اور جب دشمن ملک کا سابق آرمی چیف خود کہہ رہا ہو کہ وہ جنرل باجوہ کو اچھی طرح ''جانتا‘‘ ہے اور اب بھارت کو صبر ہی کرنا چاہیے تو اس کے بعد بھلا دشمن کی توپیں خاموش نہ ہوتیں تو اور کیا ہوتا؟اس سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ بعض اوقات ''نام‘‘ کی دھاک ہی کافی ہوتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جنرل باجوہ کے آرمی چیف بنتے ہی دشمن نے سرحدوں پر یہ کہتے ہوئے اپنے آلات حرب سمیٹ کر واپسی کی راہ لی ہوگی کہ'' بھاگو، بھاگو، باجوہ آگیا!‘‘۔