ایک جانب مشرق سے سی پیک کی صورت میں ایک نیا سورج اُبھر کر مغرب تک کی آنکھیں چندھیارہا ہے اور دوسری جانب پاکستان کے مغرب میں پڑوسی ملک افغانستان ابھی تک آنکھوں پر تعصب کی پٹی باندھ کر بیٹھا ہے۔ تعصب کی اس پٹی کی وجہ سے افغان حکومت کی آنکھیں چندھیائی نہیں بلکہ اُسے پاس کی حقیقت نظر آنا بھی بند ہوگئی ہے۔ اپنے معاملات درست کرنے کی بجائے افغان حکومت کے پاس آسان سا حل یہ رہ گیا ہے کہ اپنی کمزوریوں کو پاکستان پر الزام لگاکر چھپالے۔گزشتہ برس افغان صدر اشرف غنی نے ماضی کو بھلاکر یہ تک کہہ دیا تھا کہ ''پاکستان کو ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ایک ہی موقف اپنانا چاہیے قطع نظر اس کے کہ نشانہ وہ خود ہو یا پھر کوئی اور ملک‘‘۔ افغان صدر نے تو پاکستان کی چار دہائیوں پر پھیلی قربانیوں اور خدمات کو بھی اپنے ایک جملے میں یکسر بھلاتے ہوئے یہاں تک بول دیا کہ '' ہم اس حق کا مطالبہ کر رہے ہیں جو بطور ریاست ہمیں ملنا چاہیے۔ پاکستان کے پاس انتخاب کا موقع ہے کہ آیا وہ عالمی برادری کا ایک ذمہ دار رکن ہے اور حقوق اور ذمہ داریوں کا پابند ہے کہ نہیں؟ ہم عالمی برادری کے ایک ذمہ دار ملک کا رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور ہمیں بہت زیادہ امید ہے کہ اس بات چیت کا پھل بھی ملے گا‘‘۔اپنی دانست میں افغان صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ''پاکستان دہشت گردی کے مسئلے کے سلسلے میں ہمارے جواز کو تسلیم کر چکا ہے جو یہ ہے کہ پاکستان غیر اعلانیہ طور پر 13 برس سے زیادہ عرصے تک ہماری ریاست کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کی حالت میں رہا‘‘۔ اپنی اس تمام تر ہرزہ سرائی کے باجود افغان صدر حقیقت بھلا بیٹھے اور حقیقت یہ ہے کہ اپنی ناکامیوں کا الزام ہمیشہ پاکستان کے سر تھوپنے والی افغان حکومت اور افغان صدر کے پاس اپنی ناکامیوں کا کوئی حقیقی جواب نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ افغان حکومت کی اندرونی کمزوریاں کھل کر سامنے آتی رہتی ہیں کہ افغانستان میں طالبان اب بھی ایک مضبوط قوت ہیں اور طالبان کو اپنی کارروائیوں یا فتوحات کیلئے کسی غیر ملکی امداد کی ضرورت نہیں۔
چار دہائیوں پر پھیلی قربانیوں کے صلے میں افغان حکومت اب یہ کہتی بھی نہیں تھکتی کہ پاکستان کے ساتھ افغانستان کے تعلقات دو بھائیوں کے باہمی تعلقات جیسے نہیں بلکہ یہ دو ریاستوں کے تعلقات جیسے ہیں۔ چار دہائیوں سے افغانستان کی وجہ سے اپنے اوپر سختیاں جھیلنے والے اور اپنا معاشی اور معاشرتی ڈھانچہ تباہ کرلینے والے پاکستان کے بارے میں اس طرح کا معاندانہ جملہ تو کبھی پاکستان کے بدترین دشمن نے بھی نہیں کہا جو افغان قیادت نے اتنی آسانی سے کہہ دیا۔ پاکستان نے افغانستان میں امن کی جو قیمت ادا کی ہے اُس کا اِس انداز اور ان الفاظ میں صلہ اشرف غنی جیسا بنیا(معیشت دان) ہی دے سکتا ہے، جو صدیوں پر پھیلے ہوئے رشتوں کو بھی مفادات کے ترازو میں تولتا ہے!افغان صدر ایسا بھلا کیوں نہ کریں؟ بھارت کے ساتھ ان کا نیا نیا رشتہ جو بنا ہے!
حقیقت تو بھی ہے کہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی ہمیشہ یہی پالیسی اور موقف رہا ہے کہ تمام شرا کت داروں کو افغان مسئلے کے حل کیلئے آگے بڑھنا ہو گا،مستحکم افغا نستان خطے میں قیام
امن کی ضمانت ہے، افغانستان میں فریقین مفاہمت اور مصالحت کے عمل کو بحال کریں، ورنہ افغانستان میں بدامنی کے اثرات پورے خطے میں پڑیں گے اور یہ کہ پاکستان مشکلات کے باوجود افغانستان میں قیام امن کیلئے کو شاں ہے۔ اور کیا اِس میں کوئی شبہ ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے؟ پاکستان یہ بھی کہتا چلا آرہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کو نتیجہ خیز بنانے کیلئے افغان سرحد کو محفوظ بنانا ہوگا، جس میں پاکستان نے اپنے حصے کا کام تو کرلیاہے، لیکن پاک افغان سرحدپر بہتر انتظام کیلئے افغانستان کی جانب سے عملی اقدامات سامنے نہ آسکے۔ پاکستان نے خطے کو بالعموم اور پاک افغان سرحدی علاقے کو دہشت گردی سے پاک بنانے کیلئے اپنی جانب سے مزید اقدمات کیے، جن کی منظوری گزشتہ روز وفاقی کابینہ نے بھی دے دی۔ اقدامات میں افغان مہاجرین کی واپسی اور انتظامی پالیسی کی منظوری بھی شامل ہے۔ انتظامی پالیسی کے مطابق افغان شہریوں سمیت کسی بھی غیرملکی کو ویزے کے بغیر پاکستان داخلے کی اجازت نہیں ہوگی اور اب راہداری کا اجازت نامہ اور پرمٹ رکھنے والوں کو بھی باقاعدہ ویزا حاصل کرنا ہوگا۔پاکستان کے حالیہ اقدامات کے جواب میں کیا افغانستان نے اِس طرح کا کوئی قدم اُٹھایا؟ یقینا بالکل بھی نہیں اٹھاتو پھر افغانستان کے پاس اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے؟
افغان پالیسی پر کسی بھی دور میں پاکستان میں سول اور عسکری قیادت میں رتی برابر اختلاف نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے جو موقف پاکستان کی سیاسی قیادت کا ہے، وہی موقف پاکستان کی عسکری قیادت کا بھی ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر گزشتہ روز جنرل ہیڈکوارٹر راولپنڈی میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں ہونے والی کورکمانڈرز کانفرنس میں کورکمانڈرز نے افغانستان میں حالیہ دہشت گردی کی نہ صرف مذمت کی بلکہ یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کو شکست کیلئے پاکستان افغان حکومت اور فورسز کے ساتھ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشنز مقاصد اور اہداف کے حصول تک جاری رکھے جائیں۔کیا کبھی اس طرح کا عزم افغانستان کی سیاسی یا عسکری قیادت کی جانب سے ظاہر کیا گیا ہے؟ نہیں ناں! کیونکہ افغانستان کا کام بھارت کی شہ پر صرف الزام لگانا رہ گیا ہے۔ افغانستان الزامات کی علاقائی سیاست کیوں کررہا ہے؟ یہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ انڈیا کی گود میں بیٹھ کر افغانستان اِسی طرح کے الزامات لگاسکتا ہے۔ اعلیٰ سطح کی اِس فوجی کانفرنس میں کور کمانڈرز نے لائن آف کنٹرول پر بھارت کی بلااشتعال فائرنگ سے ورکنگ باؤنڈری پر پیدا ہونے والی بد امنی کا نوٹس اور جائزہ بھی لیا۔ فوجی قیادت نے بھارتی جارحانہ رویے کو بھی خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا ۔
قارئین کرام!! حقیقت یہ ہے کہ بھارت کو پاکستان سے جتنا خطرہ اب محسوس ہورہا ہے، اتنا خطرہ گزشتہ ستر برسوں میں کبھی محسوس نہیں ہوا ہوگا! بھارت کو پاکستان سے یہ خطرہ فوجی نوعیت کا نہیں بلکہ معاشی نوعیت کا خطرہ ہے اور یہ خطرہ صرف اور صرف پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی وجہ سے ہے، یہی وجہ ہے کہ بھارت پاکستان کی مغربی سرحدوں کو غیر محفوظ بنانے کیلئے افغانستان اور افغان حکومت کو استعمال کررہا ہے۔ بھارت یہ سب کچھ اِس حقیقت کے باوجود کررہا ہے کہ پاکستان نے بھارت پر بھی سی پیک کے دروازے بند نہیں کیے بلکہ بھارت سمیت ساری دنیا کو کھلی دعوت دے رکھی ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری سے دیگر ممالک بھی استفادہ کر سکتے ہیں۔ پاکستان واضح طور پر سمجھتا ہے کہ خطے کی سماجی و اقتصادی ترقی کیلئے شدت پسند ی کی لعنت کا خاتمہ ضروری ہے، اس لیے پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان میں امن اور استحکام آئے کیونکہ افغانستان کے استحکام سے ہی پاکستان اور خطے میں معاشی ترقی کے دروازے ''چوڑ چپٹ‘‘ کھل جائیں گے۔ ان تمام حقائق کے باوجود لگتا ہے کہ بھارت کے دماغ کے دروازے ابھی نہیں کھلے، لیکن فکر کی کوئی بات نہیں کیونکہ بھارت کے دماغ کے دروازے بھی جلد کھل جائیں گے!