گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان میں کم و بیش ستر ہزار سے زیادہ افراد خاک و خون کا حصہ بن چکے ہیں، اس جنگ کے دوران ملک کو پہنچنے والا معاشی اور معاشرتی نقصان اس کے علاوہ بھی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ناقابل تلافی بھی ہے، لیکن اس کے باوجود دہشت گردی کے عفریت نے پاکستان کو ایسے گھیرا ہوا ہے کہ اِس سے اتنی جلدی اور اتنی آسانی کے ساتھ جان چھوٹتی بھی دکھائی نہیں دیتی۔ کچھ برس پہلے تک دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی یہ جنگ صرف شمالی مغربی سرحدی صوبے جو اب خیبر پختونخوا بن چکا ہے، میں ہی لڑی جارہی تھی، اس جنگ کا اصل بیس کیمپ اُس وقت بھی قبائیلی علاقہ جات تھے، یا پھر بلوچستان میں عسکریت پسندوں نے اودھم مچا رکھا تھا۔ ان دونوں جگہوں پر دہشت گردوں اور ملک دشمن عناصر کے ساتھ فوجی کارروائیاں جاری تھیں، لیکن پھر سابق صدر پرویز مشرف کے آخری دنوں میں پنجاب اور سندھ میں بھی دہشت گردی کی کارروائیاں شروع ہوگئیں۔ عسکریت پسندوں میں ''پنجابی طالبان‘‘ کی ایک نئی اصطلاح سامنے لائی گئی، جس کے بعد جنوبی پنجاب میں شدت پسند گروہوں کے گڑھ ہونے کی باتیں بھی ہونے لگیں۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں دہشت گردی کی وارداتیں بڑھیں تو پنجاب میں بھی رینجرز کے آپریشن کا مطالبہ کیا جانے لگا۔ پنجاب میں دہشت گردوں کے خلاف رینجرز کے آپریشن کا یہ مطالبہ اپوزیشن کی جانب سے کیا جاتا رہا۔پہلے پہل تو صرف یہ ہوا کہ پنجاب میں جب بھی دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہوتا تو اپوزیشن کی جانب سے مطالبہ آتا کہ رینجرز کو پنجاب میں بلاکر کراچی طرز کے اختیارات دے کر دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرایا جائے، لیکن پھر آہستہ آہستہ یہ بھی ہونے لگا کہ ملک کے کسی بھی حصے میں دہشت گردی کا واقعہ ہونے پر رینجرز کا آپریشن پنجاب میں کرانے کا مطالبہ دہرادیا جاتا۔
حقیقت یہ ہے کہ رینجرز پنجاب میں پہلے سے ہی موجود ہیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں یعنی پولیس یا سی ٹی ڈی کو جب بھی رینجرز کی ضرورت پڑتی ہے تو رینجرز اُن کی مدد کرتے ہیں، مگر دہشت گردی کی حالیہ لہر جس میں لاہور میں دہشت گردی کی بڑی کارروائی میں دو اعلیٰ پولیس افسران بھی نشانہ بنے اور پھر لعل شہباز قلندر کے مزار پر ہونے والے خونیں واقعہ کے بعد ایک بار پھر پنجاب میں رینجرز کو بلانے کا مطالبہ شدت پکڑ گیا، جس پر وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یہ فیصلہ کیا کہ دہشت گردوں پوری قوت سے نشانہ بنایا جائے گا اور ان کو اُن کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ جس کے بعد بالآخر رینجرز کو پنجاب میں بلانے اور خصوصی اختیارات دے کر دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرانے کا فیصلہ کرہی لیا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق پنجاب میں بھی رینجرز کو تلاشی اور گرفتاری کے اختیارات حاصل ہونگے۔اگرچہ اپیکس کمیٹی میں یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ پنجاب میں رینجرز کو انتہاپسندوں اور شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے لیے کراچی سے زیادہ اختیارات دیے جائیں، لیکن اس کا حتمی تعین بہرحال اپیکس کمیٹی ہی کرے گی کہ رینجرز کویہ اختیارات پنجاب کے کن علاقوں میں حاصل ہوں گے؟یوں تو رینجرز کے نیم فوجی دستے پاکستان میں مختلف علاقوں میں اندرونی سلامتی سے متعلق فرائض پہلے سے سرانجام دے رہے ہیں، لیکن یہ پہلا موقع ہوگا کہ رینجرز کو ملک کے سب سے بڑے صوبے میں قیامِ امن کی ذمہ داری سونپنے کا فیصلہ ہوا ہے۔ پنجاب میں رینجرز کا آنا کوئی انہونی بھی نہیں ہے کیونکہ کراچی کے علاوہ گلگت بلتستان، اسلام آباد، تربیلا، راجن پور اور کشمور میں بھی پنجاب رینجرز قیام امن کے لیے مستقل بنیادوں پر پہلے سے ہی بھی تعینات ہیں۔
لاہور میں دہشت گردی کے حالیہ واقعہ کے بعد سے فورسز، رینجرز، سی ٹی ڈی اور پولیس بہت موثر طریقے سے پنجاب میں انفرادی اور مشترکہ طور پر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ دہشت گردی کی حالیہ لہر کے بعد یہ ضرورت شدت سے محسوس کی گئی کہ ان آپریشنز کو جو دہشت گردوں کی خلاف جاری ہیں، اُنہیں مزید موثر بنایا جائے۔ اسی لیے رینجرز کو مزید موثر اور با اختیار بنایا جارہا ہے تاکہ وہ ان آپریشنز میں اپنا کردار ادا کر سکیں، لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس ناکام ہوگئی ہے۔ پولیس کو دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں ناکام قرار دینا زیادتی ہوگا۔ دوسرے اداروں کی طرح پولیس نے بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں، بلکہ ہمہ وقت عوام میں رہنے کی وجہ سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس دہشت گردوں کے لیے انتہائی آسان ترین ٹارگٹ بھی تھی، یہی وجہ ہے کہ کم و بیش دہشت گردی کے ہر واقعہ میں جہاں عام شہری شہید ہوئے، وہیں ان میں مسجدوں، سکولوں، ہسپتالوں، اہم عمارتوں، چوراہوں اور بازاروں میں فرائض سرانجام دینے والی پولیس کے جوان اور افسران بھی شہید ہوئے۔ دہشت گردی کے واقعات کے ذریعے ملک دشمن عناصر نے پاکستان کی پہلی دفاعی لائن کو بددل کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب نہ ہوسکے، جس کا ایک واضح ثبوت دہشت گردی کی حالیہ لہر میں عام سپاہی سے لے کر اعلیٰ رینک کے پولیس افسران کی جانب سے بہادری کے ساتھ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا بھی ہے۔ بلاشبہ پولیس نے بڑی بہادری سے فرنٹ لائن پر آکر دہشت گردی کے خلاف اِس جنگ میں حصہ لیا ہے، لیکن پولیس کی اِن بے مثال قربانیوں اور کامیابیوں کے باوجود یہ بھی کچھ غلط نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنا دفاع کے اس پہلے حصار کے اکیلے کے بس کا کام نہیں۔اس مقصد کیلئے دیگر اداروں کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ کے ساتھ ساتھ اُنہیں بوقت ضرورت عملی کارروائیوں میں بھی شریک کرنا ہوگا ۔ پنجاب میں رینجرز کو دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے خصوصی اختیارات دینے کے پیچھے بھی یہی امر کارفرما ہے کہ کچھ بھی ہو اب دہشت گردی کے ناسور کو ہر صورت جڑوں سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔
قارئین کرام!! امید کی جانی چاہیے کہ سندھ میں رینجرز کے اختیارات کے معاملے پر جس طرح لیت و لعل سے کام لیاجاتا رہا، ویسی صورتحال پنجاب میں دیکھنے میں نہیں آئے گی ۔ ایک جانب اگر رینجرز کے اختیارات منتخب علاقوں تک ہوں گے تو دوسری جانب دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے میں کسی قسم کی قانونی رکاوٹ کو حائل نہیں ہونے دیا جائے گا کیونکہ دہشت گردی ایک قومی مسئلہ ہے ،اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ صوبے سے ملک دشمن عناصر کے خاتمے کیلئے قانون نافذ کرنے والے کس کس ادارے سے کام لیا جاتا ہے۔ پنجاب میں رینجرز کو اس امید کے ساتھ خوش آمدید کہنا چاہیے کہ اپنا فرض ادا کرنے کے بعد وہ جلد اپنی اصل ذمہ داری کی جانب لوٹ جائیں گے!!