شرح سود10.5فیصد پر برقراررکھنے کا فیصلہ مسترد

شرح سود10.5فیصد پر برقراررکھنے کا فیصلہ مسترد

کراچی (بزنس ڈیسک)تاجر برادری نے شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ۔۔۔

معاشی اور کاروباری اعتماد کی بحالی کیلئے شرح سود کا سنگل ڈیجٹ ہونا ناگزیر ہے ۔بزنس مین پینل پروگریسیو کے چیئرمین اور وفاقی چیمبرکے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے شرح سود برقرار رکھنے کے فیصلے کو وفاقی چیمبر اور مجموعی بزنس کمیونٹی کی توقعات کے بالکل برعکس قرار دیا ہے ۔ ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح میں بتدریج کمی واقع ہو رہی ہے اور اس وقت افراطِ زر 5.6 فیصد کی سطح پر آچکی ہے جسے مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی ریٹ میں کمی کی واضح گنجائش موجود تھی۔دریں اثنا کراچی چیمبر کے صدر ریحان حنیف نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلند شرح سود کاروباری لاگت میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔

سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کراچی کے صدر احمد عظیم علوی نے اسٹیٹ بینک کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ یہ اقدام ملکی ترقی اور کاروباری سرگرمیوںکیلئے نقصان دہ ثابت ہوگا، اگر بروقت فیصلے کیے جائیں تو نہ صرف کاروباری طبقے کو فائدہ ہوگا بلکہ برآمدات میں اضافہ اور ملکی ترقی بھی ممکن ہے ۔ کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین سلیم ولی محمد نے شرح سود برقرار رکھنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں یہ فیصلہ ناقابل قبول ہے ۔شرح سود سنگل ڈیجٹ میں ہونی چاہیے اور موجودہ حالات میں اسے 8 سے 9 فیصد کے درمیان لانا ناگزیر ہو چکا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں