جب پارلیمنٹ میں آئینی ترمیمات اور بل بغیر سوچے‘ بغیر سمجھے‘ بغیر پڑھے اور بغیر بحث کیے حکمرانوں کے وقتی اور ذاتی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے پاس کیے جائیں گے تو تھوڑا عرصہ بعد ہی ان کی خرابیاں نکلنا شروع ہو جائیں گی۔ ذاتی مفادات پر مبنی ایسے افراتفری والے کاموں کے نتائج بعد ازاں وہی نکلیں گے جس کے بارے میں خواجہ آصف نے اسمبلی کے فلور پر اٹھارہویں ترمیم کو ڈھکوسلہ قرار دیا ہے۔ یاد رہے کہ جب یہ ''ڈھکوسلہ‘‘ نامی اٹھارہویں ترمیم پاس ہوئی تھی تو مرکز میں گو کہ پیپلز پارٹی کی حکومت تھی مگر تب اس ترمیم کو پاس کروانے کیلئے مسلم لیگ (ن) بھی پیپلز پارٹی کے نہ صرف شانہ بشانہ کھڑی تھی بلکہ اسے اس ترمیم کو پاس کروانے میں شاید پیپلز پارٹی سے بھی زیادہ جلدی تھی۔
یہ ترمیم مورخہ آٹھ اپریل 2010ء کو قومی اسمبلی سے اور سات روز بعد مورخہ 15اپریل کو سینیٹ سے پاس ہونے کے بعد 19 اپریل کو صدر آصف علی زرداری کے پاس دستخطوں کیلئے گئی اور اسی روز دستخط ہونے کے بعد آئین کا حصہ بن گئی۔ پیپلز پارٹی کو مرکز میں محض سادہ اکثریت حاصل تھی مگر ایوان میں ترمیم کو منظوری کی حمایت میں 292ووٹ پڑے جبکہ مخالفت میں کوئی ووٹ نہ آیا۔ دوسرے لفظوں میں اٹھارہویں ترمیم ایوان میں بالکل اسی طرح اتفاقِ رائے سے منظور ہوئی جس طرح چند روز قبل قومی اسمبلی میں ارکانِ اسمبلی کے اثاثے شائع کرنے پر پابندی کا بل آپس میں ہر مسئلے پر جوت پیزار میں مصروف حکومتی اتحاد اور پی ٹی آئی کے ارکانِ اسمبلی نے متفقہ ''قومی اتفاقِ رائے‘‘ سے منظور کیا ہے۔ جب ذاتی مفادات کا مسئلہ آن پڑے تو ایک دوسرے کی شکل بھی نہ دیکھنے کے روادار ارکانِ اسمبلی ایک ہی صف میں کھڑے ہونے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے۔ گویا انکی لڑائی بھی مفادات کے ٹکراؤ پر مبنی اور صلح بھی مفادات کے تحفظ کی مرہونِ منت ہے۔
خواجہ آصف کے بقول جب یہ ''ڈھکوسلہ‘‘ یعنی اٹھارہویں ترمیم آٹھ اپریل 2010ء کو قومی اسمبلی سے منظور ہوئی تو خواجہ صاحب اُس وقت نہ صرف اس اسمبلی کے معزز رکن تھے بلکہ اس ترمیم کو ووٹ دینے میں شامل اور پیش پیش تھے۔ اس وقت ان کے اس جوش و خروش اور جذبے کے پیچھے اپنے قائد میں میاں نواز شریف کے احکامات کی بجا آوری تھی اور میاں صاحب کی اس ترمیم میں دلچسپی کا مرکز و محور صرف آئین کی شق نمبر (3)91 میں تبدیلی تھی۔ جنرل پرویز مشرف کے 2002ء میں ایل ایف او کے تحت اور بعد ازاں سترہویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئینی طور پر کسی بھی شخص کے دو سے زائد بار وزیراعظم بننے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ جنرل پرویز مشرف نے یہ آئینی ترمیم میاں نواز شریف اور بینظیر بھٹو کو متوقع طور پر تیسری بار وزیراعظم بننے سے روکنے کیلئے لگائی تھی۔ 27دسمبر 2007ء کو بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد اس شق کے متاثرین کی تعداد دو سے گھٹ کر ایک رہ گئی۔ اب اس شق کے واحد متاثرہ شخص میاں نواز شریف تھے۔ جب تک یہ شق موجود تھی میاں صاحب تیسری بار ملک کے وزیراعظم نہیں بن سکتے تھے۔ ویسے تو ہمیشہ اقتدار میں رہنے کی خواہش انسانی فطرت میں سدا سے شامل ہے تاہم ہمارے ہاں تو یہ مرض ناقابلِ علاج ہے۔ کس کس شخصیت کا نام لیں‘ پہلے خود اقتدار کا حصول اور پھر اپنی نئی نسل اور پھر اسکی اگلی نسل تک اس کے انتقال کی خواہش جس شدت سے ہمارے ہاں ہے وہ شاید ہی کہیں اور پائی جاتی ہو۔
جب اٹھارہویں ترمیم کا ڈول ڈالا گیا تو پیپلز پارٹی کے پیشِ نظر مستقبل میں مرکز کے بجائے صوبہ سندھ کو اپنی سیاسی بقا اور اقتدار کا محور بنا کر بہت سے محصولات‘ محکمے اور ادارے صوبائی تولیت میں دینا تھا۔ پیپلز پارٹی کا منصوبہ سندھ میں اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کیساتھ ساتھ بہت سے وفاقی ادرے‘ محکمے‘ محصولات‘ اختیارات کے حصول کے بعد دال دلیے کو صوبائی سطح پر کھانے پینے کے معاملے کو وسعت دینا تھا اور وہ اس میں مکمل کامیاب رہی۔ دوسری طرف سترہویں ترمیم میں مسلم لیگ (ن) کی مکمل اور جان توڑ حمایت کے پیچھے صرف ایک ہی مقصد تھا اور وہ میاں نواز شریف کو تیسری بار ملک کا وزیراعظم بننے کے راستے میں آئین کی شق (3)91 کا خاتمہ تھا۔ اس آئینی شق کو ختم کرنے کیلئے ایک عدد مزید آئینی ترمیم درکار تھی اور مسلم لیگ (ن) اسکے خاتمے کیلئے پیپلز پارٹی کی مجوزہ اٹھارہویں ترمیم کے پلڑے میں اپنے اراکینِ اسمبلی کا سارا وزن بمعہ خواجہ آصف ڈالنے کیلئے نہ صرف راضی بلکہ باقاعدہ بے چین اور بے تاب تھی۔ تب حسبِ معمول کسی بھی بل‘ قانون اور ترمیم کے اوپر سے آنیوالی ہدایات کے پیشِ نظرشاید کسی بھی رکن اسمبلی یا سینیٹ نے اٹھارہویں ترمیم کے مسودے پر زیادہ غور کر کے اپنا دماغ پلپلہ کرنے کے بجائے آنکھیں بند کرکے اسکی حمایت کا اعلان کیا اور ایوان میں پہلے سے کسی پروگرام شدہ روبوٹ کی مانند ہاتھ کھڑا کر کے اپنی قیادت کے سامنے سرخرو ہو گیا۔ ایسی ہی سرخروئی‘ پارٹی لیڈر شپ سے وفاداری‘ زور آوروں کے حکم کی تعمیل کرنے اور بعد ازاں ضمیر کے زندہ ہونے کا علم اٹھانیوالے سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی بھی بہت یاد آئے۔ انکی عمومی شہرت ایک اصول پسند اور جمہوریت کے داعی سیاستدان کی تھی جو پارلیمنٹ کی خودمختاری اور آئینی حاکمیت کے دعویدار تھے‘ ان سے کسی غیرجمہوری‘ مقتدرہ پرست اور ضمیر کیخلاف ترمیم کو ووٹ دینے کی توقع نہیں تھی۔ مگر 2015ء میں انہوں نے بھی اکیسویں ترمیم کے موقع پر اپنے ضمیر کے خلاف فوجی عدالتوں کو آئینی تحفظ دینے جیسے قانون پر مستعفی ہونے کے بجائے پہلے حمایت میں ووٹ ڈالا اور پھر شرمندگی کے ٹسوے بہائے۔
اٹھارہویں ترمیم میں وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر دوبار فائز رہنے کی پابندی والی آئین کی شق (3)91 مکمل طور پر حذف کر دی گئی اور دیگر ترامیم میں صدر کا آرٹیکل 582(b)کے تحت اسمبلی توڑنے کا اختیار ختم کرنے اور صحت‘ تعلیم‘ ماحولیات‘ زراعت اور ثقافت جیسی وزارتیں‘ متعلقہ ادارے اور محکمے مکمل صوبائی حکومتوں کو منتقل کر دیے گئے۔ اس ترمیم کے نتیجے میں بغیر کسی تیاری اور مطلوبہ اہلیت و استطاعت کی غیرموجودگی کے باعث پہلے سے تباہ حال ادارے اور محکمے بالکل ہی برباد ہو گئے۔ خاص طور پر تحقیقی اداروں کا جنازہ نکل گیا۔ اس ترمیم کے پاس ہونے اور اس کے ممدومعاون بننے کے پندرہ سال بعد خواجہ صاحب کو اچانک ادراک ہوا کہ یہ ترمیم ایک ڈھکوسلہ تھی۔ ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا۔
پی ٹی آئی کو تو رکھیں ایک طرف کہ ان کے معاملے کا عقل سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ لیکن اگر عوام کی فلاح کا کوئی مسئلہ درپیش آ جائے یا ذاتی مفادات کو زک پہنچنے کا رتی برابر بھی احتمال ہو تو مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کا ایک دوسرے سے برسر پیکار ہونا خاصے کی چیز ہوتا ہے۔ اگر مفادات کا ٹکراؤ ہو تو ان کے مابین دھینگا مشتی معمول کی بات ہے۔ لیکن باہمی مفادات کا معاملہ آن پڑے تو نہ صرف ان دونوں پارٹیوں کے ارکانِ اسمبلی بلکہ اپنے تئیں حقیقی اپوزیشن ہونے کے دعویدار اور ہر اچھے برے حکومتی قدم کی مخالفت کی قسم کھائے بیٹھے پی ٹی آئی کے ارکانِ اسمبلی اور سیاست میں چھپن چھپائی کے فن میں یدطولیٰ رکھنے والے مولانا فضل الرحمن کے مقلدین بھی آپس میں ایسے شیروشکر دکھائی دیتے ہیں کہ بندہ شیر اور بکری کے ایک گھاٹ پر پانی پینے جیسے واقعے سے بھی زیادہ حیران و پریشان ہو جاتا۔ ایک دوسرے کی جان کے درپے ہونے والے ان ارکانِ اسمبلی کا اپنی تنخواہیں بڑھانے کا معاملہ ہو یا اپنی اثاثے مخفی رکھنے کا مسئلہ ہو‘ باہم ایک ہیں۔
ابھی کچھ دن گزرتے ہیں کہ ہم دیکھیں گے جب انہی ارکانِ اسمبلی میں سے بہت سے لوگوں کا بمعہ خواجہ آصف‘ ضمیر جاگے گا اور وہ چھبیسویں اور ستائیسویں ترامیم کو صرف ڈھکوسلہ نہیں ''ابو ڈھکوسلہ‘‘ قرار دیں گے۔ سوئے ہوئے ضمیر کا اصل مسئلہ صرف یہ ہے کہ وہ کبھی بھی وقت پر نہیں جاگتا۔