ہلال احمر ہسپتال کی توسیع 10 سال سے تعطل کا شکار

ہلال احمر ہسپتال کی توسیع 10 سال سے تعطل کا شکار

اداروں کے درمیان رابطے کے فقدان کے باعث علامہ اقبال کالونی میں ہسپتال کو الاٹ اراضی تاحال واگزار نہیں کروائی جا سکی ،ویسٹ کولیکشن پوائنٹ ختم نہ ہو سکا

فیصل آباد (خصوصی رپورٹر)اداروں کے درمیان رابطے کے فقدان کے باعث علامہ اقبال کالونی میں ہلالِ احمر ہسپتال کی توسیع کا منصوبہ گزشتہ دس برس سے تعطل کا شکار ہے ۔ ہسپتال کو الاٹ کی گئی اراضی تاحال فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (ایف ڈبلیو ایم سی) نے واگزار نہیں کی، جس کے باعث ہسپتال کی توسیع ممکن نہ ہو سکی۔شہریوں کی بڑھتی ہوئی طبی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے 13 فروری 2016 کو علامہ اقبال کالونی میں ہلالِ احمر ہسپتال کا سنگِ بنیاد رکھا گیا تھا۔ ایک سال کے اندر ہسپتال کی او پی ڈی کی عمارت مکمل کر لی گئی، جبکہ منصوبے کے لیے تقریباً 20 کروڑ روپے کی خطیر رقم اور 12 کنال اراضی مختص کی گئی تھی۔

اس وقت کے ڈی سی او نورالامین مینگل نے سنگِ بنیاد رکھتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ یہاں 300 بیڈز پر مشتمل مکمل ہسپتال قائم کیا جائے گا، جس میں لیبر روم، آپریشن تھیٹرز اور وارڈز شامل ہوں گے ۔ہسپتال کی توسیع کے لیے 9 نومبر 2017 کو باقاعدہ نقشہ بھی منظور کیا گیا، جس کے مطابق او پی ڈی بلڈنگ کے عقب میں واقع جگہ پر آپریشن تھیٹر، ڈلیوری روم، ریکوری روم اور ڈاکٹرز رومز تعمیر ہونا تھے ۔ تاہم تاحال صرف او پی ڈی ہی فعال ہو سکی ہے ۔ذرائع کے مطابق ہسپتال کے قیام سے قبل مذکورہ اراضی پر ایف ڈبلیو ایم سی کا عارضی ویسٹ کولیکشن پوائنٹ قائم تھا، جو اب بھی موجود ہے۔

سرکاری ریکارڈ اور منظور شدہ نقشوں کے مطابق یہ اراضی ہسپتال کو الاٹ ہو چکی ہے، تاہم ایف ڈبلیو ایم سی تاحال ویسٹ کولیکشن پوائنٹ ختم کرنے اور جگہ واگزار کرنے پر آمادہ نہیں۔فنڈز کی دستیابی کے باوجود ویسٹ کولیکشن پوائنٹ ہسپتال کی توسیع کے منصوبے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے ۔ منصوبہ مکمل نہ ہونے کے باعث ہلالِ احمر ہسپتال نمبر 1 پر مریضوں کا دباؤ بڑھ رہا ہے ، جبکہ زچگی اور دیگر نازک کیسز میں خواتین کو دور دراز کے ہسپتالوں میں منتقل کرنا پڑتا ہے ۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ہسپتال کی توسیع فوری طور پر مکمل کر دی جائے تو علامہ اقبال کالونی اور گردونواح کے ہزاروں شہریوں کو علاج کی بڑی سہولت میسر آ سکتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں