ہیڈ ساگر تا ہیڈ چھناواں سڑک کا منصوبہ سست روی کا شکار
8ارب کا منصوبہ 4سال بعد بھی مکمل نہ ہوسکا،گرد و غبار سے مسافروں کو مشکلات
علی پورچٹھہ (تحصیل رپورٹر )ہیڈ ساگر تا ہیڈ چھناواں براستہ علی پورچٹھہ سڑک کا منصوبہ سست روی کا شکار ،8 ارب روپے کا ترقیاتی منصوبہ 4 سال بعد بھی مکمل نہ ہوسکا ،گرد و غبار اور ٹوٹ پھوٹ نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی۔ تفصیلات کے مطابق 2022 میں گجرات کو ڈویژن، وزیرآباد کو ضلع اور علی پورچٹھہ کو تحصیل کا درجہ د ئیے جانے کے بعد حلقہ پی پی 36 کو وزیرآباد، حافظ آباد اور گجرات سے بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے کیلئے ہیڈ ساگر تا ہیڈ چھناواں نہر کنارے کارپٹ روڈ کی تعمیر کا آغاز کیا گیا تھا۔ منصوبے کو علاقے کی معاشی و تجارتی ترقی میں اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا تھا تاہم حکومت کی تبدیلی اور فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث منصوبہ تعطل اور سست روی کا شکار ہو گیا۔ بعد ازاں 2024 میں رکن صوبائی اسمبلی عدنان افضل چٹھہ نے رکے ہوئے منصوبے کیلئے 2ارب روپے مختص کر انے کا اعلان کرتے ہوئے علی پورچٹھہ نہر پل پر اپنے نام کی تختی کے ساتھ باقاعدہ افتتاح کیا مگر اس کے باوجود منصوبہ مکمل نہ ہو سکا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ تقریباً 35 کلومیٹر طویل سڑک 4سال گزرنے کے باوجود زیر تعمیر ہے جو متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔ شہریوں نے وزیراعلیٰ ، چیف سیکرٹری اور محکمہ ہائی ویز سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اہم منصوبے کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو بہتر سفری سہولیات میسر آ سکیں۔