پیدل سڑک پار کرنیوالوں کیلئے پل خستہ حالی کا شکار

پیدل سڑک پار کرنیوالوں کیلئے پل خستہ حالی کا شکار

فیروزپور روڈ پر قرطبہ چوک اور شمع سٹیشن کے درمیان پیڈیسٹرین اوور ہیڈ برج غفلت کی واضح مثال ،شہریوں کی زندگیوں کوخطرہشمع کے قریب پل کی سیڑھیوں سے لے کر مرکزی گزرگاہ تک حفاظتی گرلز غائب، پرانے منصوبوں کو بھی بہتر بنایا جائیگا:انتظامیہ

لاہور (شیخ زین العابدین)شہر کے مصروف ترین پیڈیسٹرین اوور ہیڈ بریجز خستہ حالی کاشکار ہوگئے ۔تفصیلات کے مطابق شہر بھر میں نئے پیڈیسٹرین زونز، پیدل گزرگاہوں اور خوبصورتی کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے ، جبکہ پہلے سے موجود پیڈیسٹرین اوور ہیڈ بریجز خستہ حالی کا شکار ہو کر شہریوں کیلئے خطرہ بنتے جا رہے ہیں ،لاہور ریلوے سٹیشن سمیت مختلف علاقوں میں نئے پیدل گزرگاہ منصوبے تیار کیے جا رہے ہیں۔ ایل ڈی اے کے سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پروگرام میں بھی پیدل چلنے والوں کیلئے خصوصی اقدامات شامل کیے گئے ہیں، تاہم دوسری طرف شہر کے پرانے پیڈیسٹرین اوور ہیڈ بریجز کی حالت انتہائی ابتر ہو چکی ہے ۔فیروزپور روڈ پر قرطبہ چوک اور شمع سٹیشن کے درمیان قائم پیڈیسٹرین اوور ہیڈ برج حکومتی غفلت کی واضح مثال بن گیا ہے ۔ پل کی سیڑھیوں سے لے کر مرکزی گزرگاہ تک حفاظتی گرلز غائب ہو چکی ہیں، جس کے باعث شہریوں کی زندگیاں مسلسل خطرے میں پڑی ہوئی ہیں۔ متعدد مقامات پر پل کی چھت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ،

جہاں سے بارش اور دھوپ براہ راست گزرنے والوں پر اثر انداز ہوتی ہے ۔ذرائع کے مطابق متعلقہ اداروں نے خستہ حال حصوں کی مستقل مرمت کے بجائے انہیں بینرز اور اشتہاری فلیکس لگا کر چھپانے کا راستہ اختیار کر لیا ہے ۔ پل پر جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر موجود ہیں جبکہ صفائی اور سکیورٹی کا کوئی مؤثر نظام دکھائی نہیں دیتا۔ اوور ہیڈ بریجز اب پیدل چلنے والوں کیلئے سہولت کے بجائے خوف کی علامت بنتے جا رہے ہیں۔ متعدد برجز منشیات کے عادی افراد کی محفوظ پناہ گاہوں میں تبدیل ہو چکے ہیں، جس کے باعث خواتین، بزرگوں اور طلبہ کو شدید عدم تحفظ کا سامنا ہے ۔ذرائع کے مطابق ایل ڈی اے ٹیپا کی جانب سے رواں مالی سال میں پیڈیسٹرین اوور ہیڈ بریجز کی مرمت اور بحالی کیلئے کوئی بڑا منصوبہ تیار نہیں کیا جا سکا، جبکہ آئندہ مالی سال 2026-27 کے ترقیاتی پروگرام میں بھی ان برجز کی بحالی کیلئے کوئی مؤثر اور جامع تجویز شامل نہ کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے ۔ ایل ڈی اے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ماضی میں مکمل ہونے والے منصوبہ جات کی بحالی کا پلان بھی کر چکے ہیں، نئے منصوبوں کے ساتھ پرانے منصوبوں کو بھی بہتر بنایا جائے گا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں